ہوٹلوں کے بوفے میں سجے رنگا رنگ اور لذیذ کھانے اکثر مہمانوں کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ بڑے اور پرتعیش ہوٹلوں میں بوفے کے دوران کھانے کی بے شمار ڈشز دکھائی دیتی ہیں جہاں لوگ اپنی پسند کا کھانا کھاتے ہیں۔ لیکن اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ بوفے ختم ہونے کے بعد بڑی تعداد میں بچ جانے والے کھانے کا کیا کیا جاتا ہے۔ کیا اسے دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے یا پھینک دیا جاتا ہے؟
اس سوال کا جواب اتنا آسان نہیں جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ ہوٹل انتظامیہ کے مطابق مختلف ہوٹل بچ جانے والے کھانے کے بارے میں اپنی پالیسی، مقامی قوانین اور خوراک کے تحفظ کے اصولوں کے مطابق فیصلے کرتے ہیں جن پر عمل کرنا ہر ہوٹل کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق ہوٹلوں میں بچے ہوئے کھانے کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا وہ کھانا ہوتا ہے جو کچن میں تیار تو ہوتا ہے لیکن بوفے میں پیش نہ کیا گیا ہو، بعض اوقات اگر اسے محفوظ طریقے سے رکھا گیا ہو تو دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دوسرا وہ کھانا ہوتا ہے جو بوفے کی میز پر سجا دیا جاتا ہے، ایسے کھانے کو بوفے ختم ہونے کے بعد ضائع کر دیا جاتا ہے کیونکہ باہر کھلے میں رہنے سے اس میں جراثیم پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
اسی طرح مہمانوں کی پلیٹوں میں بچ جانے والا کھانا کسی صورت دوبارہ استعمال نہیں کیا جاتا اور اسے فوراً تلف کر دیا جاتا ہے۔
حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق پکایا ہوا کھانا اگر زیادہ دیر تک ایک خاص درجہ حرارت پر کھلا رہے تو وہ خراب ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو کھانا دیکھنے میں بالکل ٹھیک بھی لگ رہا ہوتا ہے، اسے بھی بوفے کے بعد پھینکنا پڑتا ہے تاکہ لوگوں کی صحت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
بعض صورتوں میں کچھ اشیا کو دوبارہ استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر سبزیاں اور پھل مہمانوں کے سامنے نہ رکھے گئے ہوں اور انہیں مناسب طریقے سے محفوظ رکھا گیا ہو تو انہیں سوپ، اسموتھی، میٹھے پکوان یا جام بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح بچی ہوئی روٹی کو بریڈ کرمز یا کراؤٹونز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
دنیا میں اب بھی بہت سے بڑے ہوٹل بچے ہوئے محفوظ کھانے کو ضائع کرنے کے بجائے فلاحی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کو عطیہ کر دیتے ہیں تاکہ وہ ضرورت مند اور غریب لوگوں تک پہنچایا جا سکے۔
اس عمل سے ایک طرف ضرورت مند افراد کو کھانا ملتا ہے اور دوسری طرف خوراک کے ضیاع میں بھی کمی آتی ہے۔ تاہم، عطیہ کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کھانا صحت کے اصولوں کے مطابق محفوظ ہو۔
اس کے علاوہ جو کھانا بالکل استعمال کے قابل نہیں رہتا اسے بعض ہوٹل کمپوسٹ یا بائیو گیس بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کمپوسٹ کے ذریعے نامیاتی فضلے کو کھاد میں تبدیل کیا جاتا ہے، جبکہ بائیو گیس پلانٹس اسی فضلے سے توانائی پیدا کرتے ہیں، جس سے ماحول پر منفی اثرات کم ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، جدید ہوٹل اب کھانے کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کم مقدار میں کھانا تیار کیا جاتا ہے، مہمانوں کی پسند اور کھپت کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کے ذریعے طلب کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور بوفے ٹرے کو ایک ساتھ بھرنے کے بجائے ضرورت کے مطابق دوبارہ بھرا جاتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کھانے کے ضیاع کو کم کرنے میں مہمان بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر لوگ پلیٹ میں اتنا ہی کھانا لیں جتنا وہ کھا سکیں اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ لے لیں تو روزانہ بڑی مقدار میں ضائع ہونے والے کھانے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر ہوٹل کی پالیسی اور ہر ملک کے قوانین مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے تمام ہوٹل ایک جیسا طریقہ کار اختیار نہیں کرتے۔ تاہم، مجموعی طور پر ہوٹل صنعت اب خوراک کے ضیاع کو کم کرنے، صفائی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے اور ماحول دوست اقدامات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
























