رئیلٹی شو تماشا سیزن 5 میں شامل کنگ حسن ان دنوں اپنی شخصیت اور پرفارمنس کی وجہ سے ناظرین کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ وہ ایک ریپر ہیں اور شو کے پہلے ہی دن سے تماشا ہاؤس کا حصہ ہیں۔ تاہم حالیہ ایپی سوڈ میں انہوں نے اپنی زندگی کے ایسے دکھ بھرے واقعات بیان کیے جنہیں یاد کرتے ہوئے وہ خود بھی جذباتی ہوگئے۔
بظاہر کامیاب اور خوش نظر آنے والے لوگوں کی زندگی میں بھی کئی ایسے دکھ چھپے ہوسکتے ہیں جن کا دوسروں کو اندازہ نہیں ہوتا۔ سرحدی علاقے سے تعلق رکھنے والے کنگ حسن کا شمار بھی ایسے ہی فنکاروں میں ہوتا ہے۔
کنگ حسن نے بتایا کہ ”تعلیم اور کیریئر بنانے کے لیے میں نے بہت کم عمری میں ہی گھر چھوڑ دیا تھا۔ اس لیے زندگی کے سارے دکھ میں نے اکیلے ہی جھیلے ہیں۔ ایسا کوئی کاندھا نہیں تھا جس پر میں سر رکھ کر رو سکتا۔“
انہوں نے بتایا کہ زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کے دوران انہیں کئی ذاتی صدموں کا سامنا کرنا پڑا۔ حسن نے انکشاف کیا کہ ایک زلزلے میں ان کی والدہ اور بہن کا انتقال ہوگیا تھا، جس نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔
حسن نے بتایا کہ اب ان کے خاندان میں صرف ان کے والد حیات ہیں، جو کافی عرصے سے علیل ہیں۔ ان کے مطابق والد پیشے کے اعتبار سے ایک سخت مزاج استاد تھے۔ انہیں موسیقی پسند نہیں تھی اور وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا تعلیم میں بہترین کارکردگی دکھائے۔
تماشا ہاؤس میں اپنی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے حسن نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار سکے۔
انہوں نے کہا، ”اب میرے اور والد کے درمیان رشتہ بہت مضبوط ہے۔ وہ مجھ سے اور میں ان سے بے انتہا پیار کرتا ہوں، لیکن پیشہ ورانہ مصروفیات کی وجہ سے میں اپنے بیمار والد کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار پاتا۔“
اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے حسن جذباتی ہوگئے۔ انہوں نے اس احساس کا اظہار کیا کہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے اور اپنے فن کو وقت دینے کی بھی ایک قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، کیونکہ بعض اوقات یہی مصروفیات انسان کو اپنے خاندان سے دور کردیتی ہیں۔
کنگ حسن کی گفتگو نے تماشا کے ناظرین کو بھی جذباتی کردیا۔ اسکرین پر لوگوں کو محظوظ کرنے والے اس فنکار کی ذاتی زندگی کی مشکلات نے ان کی شخصیت کا ایک مختلف پہلو ناظرین کے سامنے پیش کیا۔
تماشا ہاؤس میں اپنی زندگی کی تلخ یادیں شیئر کرتے ہوئے کنگ حسن نے مداحوں کو یہ احساس بھی دلایا کہ بظاہر مضبوط اور کامیاب نظر آنے والے انسان کے دل میں بھی کئی گہرے دکھ چھپے ہوسکتے ہیں۔
























