کمر اور گھٹنوں کے درد کی وجہ بننے والے 5 فٹ ویئر
روزمرہ زندگی میں جوتے یا چپل کا انتخاب کرتے وقت زیادہ تر لوگ صرف خوبصورتی، فیشن اور آرام کو دیکھتے ہیں، لیکن فٹ ویئر کا اثر ہماری صحت پر بھی پڑتا ہے۔ غلط قسم کی چپل یا جوتا طویل عرصے تک استعمال کیا جائے تو بعض افراد میں پاؤں کے ساتھ ساتھ کمر، کولہوں اور گھٹنوں پر بھی اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہر شخص کے لیے ایک ہی قسم کا فٹ ویئر مناسب نہیں ہوتا۔ پاؤں کی ساخت، فلیٹ فٹ، چلنے کا انداز اور جوتے کے استعمال کا دورانیہ بھی اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ کوئی چپل یا جوتا کسی شخص کے لیے کتنا موزوں ہے۔
ماہرین نے روزمرہ استعمال میں پہنی جانے والی پانچ ایسی اقسام کے بارے میں توجہ دلائی ہے جو بعض افراد میں کمر اور گھٹنوں کے درد کی وجہ بن سکتی ہیں۔
ہوائی چپل
ہوائی چپل گھروں میں عام استعمال ہوتی ہے اور خاص طور پر باتھ روم کے لیے اسے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ہلکی اور آسانی سے دستیاب ہوتی ہے، لیکن اس میں پاؤں کو ملنے والی سپورٹ عموماً بہت کم ہوتی ہے۔
ایسی چپل میں پاؤں کے قدرتی خم کو مناسب سہارا نہیں ملتا۔ خاص طور پر فلیٹ فٹ والے افراد کے لیے طویل وقت تک ہوائی چپل پہننا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ پاؤں کو مناسب سپورٹ نہ ملنے کی صورت میں چلنے کے انداز پر اثر پڑ سکتا ہے اور اس کا دباؤ ٹانگوں اور گھٹنوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسی چپلوں کو صرف باتھ روم میں استعمال کے لیے ہی رکھنا چاہیے۔
نوکیلے جوتے اور بیلیز
نوکیلے جوتے اور بیلیز لباس کے ساتھ بہت خوبصورت لگتے ہیں اور اکثر لوگ انہیں دفتری یا رسمی تقریبات میں پہنتے ہیں۔ تاہم ان جوتوں کا اگلا حصہ بعض اوقات پاؤں کی انگلیوں کے لیے بہت تنگ ہوتا ہے۔
مسلسل تنگ اور نوکیلے جوتے پہننے سے انگلیوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ کچھ افراد میں طویل عرصے تک ایسے جوتے استعمال کرنے سے پاؤں کی انگلیوں کی قدرتی پوزیشن بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
اس لیے اگر کسی جوتے میں انگلیاں آرام سے حرکت نہ کرسکیں یا پاؤں مسلسل دبا ہوا محسوس ہو تو اسے روزانہ کئی گھنٹے پہننے سے گریز کرنا بہتر ہے۔
کروکس
کروکس اپنی نرمی اور آرام کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی پسند ہیں۔ لوگ انہیں گھر، بازار اور روزمرہ کے معمولات میں استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ہر قسم کے کروکس ہر شخص کے لیے یکساں طور پر مناسب نہیں ہوتے۔
بہت زیادہ نرم فٹ ویئر میں بعض اوقات پاؤں کو مطلوبہ استحکام نہیں ملتا۔ اگر پاؤں کو چلتے وقت مناسب سپورٹ نہ ملے تو اس سے چلنے کے انداز میں تبدیلی آسکتی ہے، جس کا اثر ٹانگوں اور گھٹنوں پر پڑ سکتا ہے۔
اس لیے کروکس خریدتے وقت صرف نرمی نہیں بلکہ اس کے سول، فٹنگ اور پاؤں کو ملنے والی سپورٹ کو بھی دیکھنا چاہیے۔
کولہاپوری چپل
کولہاپوری چپل روایتی لباس کے ساتھ خوبصورت لگتی ہے اور خاص طور پر مشرقی ملبوسات کے ساتھ اسے بہت پسند کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کا سول عموماً ہموار ہوتا ہے اور پاؤں کے قدرتی خم کو زیادہ سپورٹ نہیں دیتا۔
فلیٹ فٹ والے افراد کے لیے اس قسم کی چپل زیادہ مسئلہ پیدا کرسکتی ہے۔ پاؤں کو مناسب سہارا نہ ملنے سے چلتے وقت پاؤں کے اندر کی طرف مڑنے کا امکان بڑھ سکتا ہے، جس سے جسم کے نچلے حصے کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے اور گھٹنوں پر اضافی دباؤ محسوس ہوسکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ کولہاپوری چپل ہر شخص کے لیے نقصان دہ ہے، بلکہ اسے مسلسل اور طویل وقت تک پہننے سے پہلے اپنی پاؤں کی ساخت اور آرام کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔
چیلسی بوٹس اور اونچی ایڑی والے جوتے
چیلسی بوٹس اور اونچی ایڑی والے جوتے فیشن کے لحاظ سے بہت مقبول ہیں، لیکن انہیں روزانہ کئی گھنٹے پہننا بعض افراد کے لیے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔
خاص طور پر اونچی ایڑی والے جوتوں میں جسم کا وزن آگے کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ ایڑی اونچی ہونے کی وجہ سے جسم اپنا توازن برقرار رکھنے کے لیے اپنی پوزیشن تبدیل کرتا ہے، جس سے کمر کے نچلے حصے اور کولہوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
نوکیلے اور اونچی ایڑی والے جوتوں میں پاؤں کے اگلے حصے پر بھی زیادہ دباؤ پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے ایسے جوتے کبھی کبھار پہننا تو ممکن ہے، لیکن انہیں روزانہ استعمال کرنے سے گریز کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔
فٹ ویئر کا انتخاب کرتے وقت کیا خیال رکھیں؟
جوتے یا چپل خریدتے وقت صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ وہ خوبصورت لگ رہی ہے یا نہیں۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پاؤں اس میں آرام دہ ہے، انگلیوں کو مناسب جگہ مل رہی ہے اور سول پاؤں کو مناسب سپورٹ فراہم کر رہا ہے یا نہیں۔
اگر کوئی چپل یا جوتا پہننے کے بعد پاؤں، گھٹنوں یا کمر میں بار بار درد محسوس ہو تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بعض اوقات فٹ ویئر تبدیل کرنے سے تکلیف میں کمی آسکتی ہے، لیکن اگر درد مسلسل رہے یا بڑھتا جائے تو مستند ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔
اس لیے فیشن کے ساتھ صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ ایسا فٹ ویئر منتخب کریں جو آپ کے پاؤں کی ساخت کے مطابق ہو اور جسے پہن کر چلنے میں پاؤں پر غیر ضروری دباؤ محسوس نہ ہو۔
























