پاکستان میں پی آئی ایم ایس (پمز) میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت اور خواتین و بچوں سے متعلق دیگر افسوسناک واقعات پر شوبز شخصیات بھی شدید غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے لگی ہیں۔

سوشل میڈیا پر شوبز شخصیات کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر ذمہ داروں کو پکڑنے سے پہلے مزید کتنی جانیں ضائع ہوں گی؟

اداکارہ سونیا حسین نے انسٹاگرام پر کراچی کے علاقے ناظم آباد میں ایک نجی اسپتال کے باہر احتجاج کرنے والے پریشان حال خاندان سے متعلق خبر شیئر کی۔

انہوں نے اس صورتحال کو ملک میں حالات کی سنگینی کی علامت قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ واقعہ انسانی اسمگلنگ کا ممکنہ معاملہ بھی ہو سکتا ہے۔

سونیا حسین نے لکھا کہ پاکستان میں حالات ایک خوفناک حد تک پہنچ چکے ہیں اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل بھی کی۔

اداکارہ نائمہ خاور نے بھی حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا، ”غصہ، شدید غصہ، خوف اور دل ٹوٹ گیا ہے، ہر روز ایک اور ایسی کہانی سامنے آتی ہے۔“ انہوں نے سوال کیا کہ آخر بچے اور خواتین کہیں محفوظ بھی ہیں یا نہیں۔

نائمہ خاور نے مزید سوال کیا، ”کتنی اور ماؤں کو اپنے بچے کھونے پڑیں گے؟ کتنی اور لڑکیوں کو تکلیف برداشت کرنا ہوگی، اس سے پہلے کہ یہ سب کچھ ختم ہو؟“

انہوں نے پی آئی ایم ایس میں اپنے نومولود بچوں کو کھونے والے خاندانوں، حنا جاوید اور ہر اس خاتون اور لڑکی سے ہمدردی کا اظہار کیا جو ناقابل تصور تشدد کا سامنا کر چکی ہیں۔ نائمہ نے دعا کرتے ہوئے کہا، ”اللہ ہمارے بچوں اور خواتین کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔“

انہوں نے مزید لکھا کہ، ’کوئی آنسو اور کوئی ظلم اللہ کی نظروں سے اوجھل نہیں۔ ہر ظالم کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہوگا اور آخرکار انصاف ہی غالب آئے گا۔‘

سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے بھی پی آئی ایم ایس میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر ویڈیو پیغام جاری کیا۔ انہوں نے واقعے میں مبینہ غفلت اور غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کیے جانے والے رویے پر سوال اٹھایا۔

بشریٰ انصاری نے کہا، ”بہت سے واقعات ہمارے سامنے ہو رہے ہیں۔ یہ 14 بچے دنیا میں آنکھیں کھولنے سے پہلے ہی چلے گئے، اس میں بہت زیادہ غفلت ہے۔“ انہوں نے کہا کہ وہ ان والدین کے دکھ کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتیں جنہوں نے اپنے نومولود بچے کھو دیے۔

اداکارہ نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے بھی سوال کیا کہ غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا، ”خدا کے لیے سوچیں کہ آپ کس طرح کا رویہ اختیار کر رہے ہیں۔“

بشریٰ انصاری نے مزید کہا، ”جب لوگ اس قدر غم سے گزر رہے ہوں تو آپ انہیں ڈانٹ نہیں سکتے۔ لوگ اپنی شکایات لے کر آپ کے پاس آتے ہیں، وہ پہلے ہی پریشان ہیں اور آپ انہیں ڈانٹ رہے ہیں؟“ انہوں نے وزیر صحت پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں یا کم از کم لوگوں کی شکایات سنیں۔

اداکارہ درِفشاں سلیم نے بھی موجودہ حالات پر بات کرتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بیٹوں کی بہتر تربیت کریں۔ انہوں نے بالغ مردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ”آپ نے خود کو جس طرح کا انسان بنایا ہے، اس کی ذمہ داری قبول کریں۔“

درِفشاں نے خواتین کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنے اردگرد موجود مردوں کو سمجھیں اور صرف اچھی شہرت کو اچھے کردار کی ضمانت نہ سمجھیں۔ انہوں نے لوگوں سے بچوں اور خواتین کی حفاظت کے لیے آواز اٹھانے اور غلط حالات سے آنکھیں نہ چرانے کی اپیل کی۔

اداکارہ ماہرہ خان نے بھی کئی افسوسناک واقعات کو مبینہ غفلت، اختیارات کے غلط استعمال، خواتین کے خلاف تعصب اور خاموشی سے جوڑتے ہوئے شدید مایوسی کا اظہار کیا۔

ماہرہ خان نے لکھا، ”کتنے اور؟ حالات اتنے خراب کب ہوگئے؟“ انہوں نے کہا کہ خبریں دیکھتے ہوئے انہیں ”پیٹ میں متلی سی محسوس ہوتی ہے“ اور وہ اندر تک مایوسی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان لوگوں کے درد کا تصور بھی نہیں کرسکتیں جو ان واقعات سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔

ماہرہ خان نے اپنی پوسٹ میں ایزل کی غمزدہ والدہ، میر رضا کے خاندان، حنا جاوید کے والدین، آیت نور کے والد اور پی آئی ایم ایس میں اپنے نومولود بچے کھونے والے 14 والدین کا ذکر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ایسے متاثرہ افراد کی فہرست ”ختم ہونے کا نام نہیں لیتی“۔

ماہرہ خان نے سوال اٹھایا، ”کسے پروا ہے کہ ذمہ دار کون ہے؟ اس سے کیا فرق پڑتا ہے، جب کبھی کسی کو ذمہ دار ہی نہیں ٹھہرایا گیا؟“

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایک دن ان کے بچے ایک بہتر پاکستان دیکھیں گے اور اپنی بات کے اختتام پر معروف شاعر فیض احمد فیض کی نظم ”ہم دیکھیں گے“ کی طرف بھی اشارہ کیا۔

اس کے علاوہ اداکارہ و میزبان سعدیہ امام، سویرا پاشا، جویریہ سعود، صحافی مہر بخاری اور کرن ناز سمیت دیگر معروف شخصیات نے بھی افسوس اور تشویش کا اظہار کیا اورسانحے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ذمہ داروں کے احتساب اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

More

Comments
1000 characters