بازار سے پھل اور سبزیاں خرید کر لانے کے بعد اکثر لوگ انہیں فوراً دھو کر فریج میں رکھ دیتے ہیں تاکہ صفائی برقرار رہے، لیکن یہ عادت بعض پھلوں اور سبزیوں کو جلد خراب کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ خاص طور پر اسٹرابیری اور دیگر نازک پھل دھونے کے بعد زیادہ دیر تک تازہ نہیں رہ پاتے، کیونکہ ان پر نمی رہ جانے سے خراب ہونے کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر پھل اور سبزیاں بہت زیادہ گندی نہ ہوں تو انہیں استعمال کرنے سے کچھ دیر پہلے دھونا بہتر ہے۔ اس طرح ان کی تازگی اور معیار برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں کھانے سے پہلے دھونا ضروری نہیں، بلکہ درست وقت اور طریقے سے صفائی کرنا اہم ہے۔
پھل اور سبزیاں کب دھونی چاہئیں؟
العربیہ ڈاٹ نیٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی یونیورسٹی آف مینیسوٹا کی ہدایات کے مطابق، پھلوں اور سبزیوں کو کھانے، پکانے یا کاٹنے سے پہلے دھونا چاہیے۔ تمام خریدی ہوئی اشیا کو ایک ساتھ دھو کر کئی دن کے لیے فریج میں رکھنے کے بجائے ضرورت کے مطابق دھونا زیادہ بہتر ہو سکتا ہے، خصوصاً ان پھلوں کے لیے جو جلد نرم ہو جاتے ہیں یا جن پر نمی دیر تک رہتی ہے۔
اگر پھل یا سبزیاں واضح طور پر مٹی یا گندگی سے آلودہ ہوں تو انہیں دھو کر اچھی طرح خشک کرنا چاہیے۔ انہیں گیلا ہی فریج میں رکھنے سے گریز کریں، کیونکہ اضافی نمی بعض اشیا کے جلد خراب ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
اس کے ساتھ سنک، نل اور وہ جگہ بھی صاف رکھیں جہاں پھل اور سبزیاں دھوئی یا کاٹی جاتی ہیں۔ اگر یہ جگہیں آلودہ ہوں تو جراثیم کھانے تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
چھلکا اتارنے کے باوجود دھونا کیوں ضروری ہے؟
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے مطابق، ایسے پھل بھی دھونے چاہئیں جن کا چھلکا اتارا جانا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کاٹنے کے دوران چھری پھل کی بیرونی سطح پر موجود مٹی اور جراثیم کو اندرونی حصے تک پہنچا سکتی ہے۔
پھل اور سبزیاں خریدتے وقت ایسی اشیا منتخب کریں جن پر سڑنے، گلنے یا خراب ہونے کے واضح آثار نہ ہوں۔ اگر کسی حصے پر چوٹ لگی ہو تو اسے کاٹ کر نکال دیں، جبکہ مکمل طور پر سڑی ہوئی اشیا استعمال نہ کریں۔
کٹے ہوئے پھل اور پیک شدہ سلاد خریدتے وقت بھی احتیاط ضروری ہے۔ انہیں ایسی دکان سے خریدیں جہاں مناسب ٹھنڈک کا انتظام ہو اور خریدنے کے بعد بھی انہیں زیادہ دیر کمرے کے درجہ حرارت پر نہ چھوڑیں۔
پھلوں اور سبزیوں کو صاف، ٹھنڈے اور بہتے پانی کے نیچے دھونا چاہیے۔ نازک پھلوں کو آہستگی سے صاف کریں تاکہ وہ دبنے یا ٹوٹنے سے محفوظ رہیں۔ سخت چھلکے والی سبزیوں اور پھلوں، مثلاً آلو یا خربوزے، کی سطح صاف کرنے کے لیے مخصوص صاف برش استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین صحت صابن، ڈٹرجنٹ یا بلیچ سے پھل اور سبزیاں دھونے سے منع کرتے ہیں، کیونکہ یہ اشیا کھانے کے لیے نہیں بنائی گئیں اور ان کے اجزا خوراک پر باقی رہ سکتے ہیں۔ اسی طرح سرکہ یا بیکنگ سوڈا استعمال کرنا بھی ضروری نہیں، کیونکہ ان سے ذائقہ متاثر ہو سکتا ہے۔
یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ پانی سے دھونے سے سطح پر موجود گندگی اور بعض جراثیم کم ہو سکتے ہیں، لیکن تمام جراثیم ختم ہونے کی ضمانت نہیں ملتی۔ اس لیے ہاتھوں، چھریوں، تختوں اور دیگر برتنوں کی صفائی بھی ضروری ہے۔
فریج کا درجہ حرارت کتنا ہونا چاہیے؟
اسٹرابیری، سلاد کے پتے، ہری جڑی بوٹیاں اور مشروم جیسی جلد خراب ہونے والی اشیا کو صاف فریج میں تقریباً 4 ڈگری سیلسیس یا اس سے کم درجہ حرارت پر رکھنا چاہیے۔ انہیں زیادہ دیر باہر چھوڑنے سے تازگی متاثر ہو سکتی ہے۔
فریج میں پھلوں اور سبزیوں کو کچے گوشت، مرغی اور مچھلی سے الگ رکھیں۔ ان اشیا کے لیے الگ برتن اور کاٹنے کے تختے استعمال کرنا بہتر ہے، تاکہ کچے گوشت میں موجود جراثیم دوسری خوراک تک نہ پہنچیں۔
اگر کسی پیکٹ پر واضح طور پر لکھا ہو کہ پھل یا سبزیاں پہلے سے دھوئی گئی ہیں یا براہِ راست کھانے کے لیے تیار ہیں، تو انہیں دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں پیکٹ پر درج ہدایات کے مطابق انہیں محفوظ رکھیں۔
تازگی برقرار رکھنے کے لیے چند احتیاطیں
پھل اور سبزیاں فریج میں رکھنے سے پہلے دھونا ہر صورت میں غلط نہیں، لیکن تمام اشیا کو بلا ضرورت دھو کر گیلا ذخیرہ کرنا مناسب نہیں۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ انہیں ضرورت کے مطابق دھویا جائے، دھونے کے بعد اچھی طرح خشک کیا جائے اور جلد خراب ہونے والی اشیا کو مناسب ٹھنڈک میں رکھا جائے۔
خوراک کو محفوظ رکھنے کے لیے صرف دھونے کے وقت پر توجہ دینا کافی نہیں۔ ہاتھوں اور باورچی خانے کی صفائی، خراب اشیا کو الگ کرنا، کچے گوشت کو دوسری خوراک سے دور رکھنا اور فریج کا درست درجہ حرارت برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ ان احتیاطوں سے پھلوں اور سبزیوں کی تازگی برقرار رکھنے اور خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
























