پاؤں کا سیاہ پن دور کرنے کے آسان گھریلو طریقے
روزمرہ کی مصروفیت اور اسکن کیئر کے معمولات میں اکثر ہم اپنے چہرے اور ہاتھوں کا خیال تو رکھ لیتے ہیں لیکن پیروں کی صفائی نظر انداز ہو جاتی ہے۔ جسم کا جو حصہ جو سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے اور براہ راست دھول مٹی میں رہتا ہے، وہ ہمارے پاؤں ہیں۔ گرد و غبار، مٹی اور چکنائی کی وجہ سے پیروں پر میل اور گندگی کی ایک تہہ جم جاتی ہے جو سینڈل یا کھلے جوتے پہنتے وقت زیادہ نمایاں ہوتی ہے اور پاؤں سیاہ نظر آنے لگتے ہیں۔
اگر پاؤں صاف کرنے کے باوجود سیاہ یا بے رونق نظر آئیں تو ضروری نہیں کہ اس کی وجہ صرف گندگی ہو۔ بعض اوقات دھوپ، جلد کی خشکی، رگڑ یا جلد میں رنگ پیدا کرنے والے مادے کی زیادتی بھی اس کی وجہ بن سکتی ہے۔ ایسے میں صفائی کے ساتھ جلد کی مناسب دیکھ بھال بھی ضروری ہے۔
ٹماٹر اور بیکنگ سوڈا
ٹماٹر کے جوس میں قدرتی تیزابی اجزا پائے جاتے ہیں، جبکہ بیکنگ سوڈا کو ایک بہترین صفائی کا ایجنٹ مانا جاتا ہے۔ اس نسخے کو تیار کرنے کے لیے دو چائے کے چمچ ٹماٹر کے رس میں دو چائے کے چمچ بیکنگ سوڈا اور چار سے پانچ قطرے ناریل کا تیل ملا کر ایک پیسٹ تیار کر لیں۔
سب سے پہلے اپنے پیروں کو پندرہ منٹ کے لیے نیم گرم پانی میں بھگو دیں تاکہ جمی ہوئی گندگی نرم ہو جائے۔ اس کے بعد پیروں کو ہلکا سا رگڑ کر یہ پیسٹ لگائیں اور دس منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔ جب پیسٹ خشک ہو جائے تو اسے ہاتھوں سے رگڑ کر صاف کریں اور پانی سے دھو لیں۔ اس عمل سے مردہ جلد اور سیاہی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
دہی اور جئی کا فیس یا فٹ پیک
اگر پیروں کی جلد خشک اور کھردری ہو تو سادہ دہی اور باریک پسے ہوئے جئی کا آمیزہ آزمایا جا سکتا ہے۔ دہی میں لیکٹک ایسڈ ہوتا ہے، جو جلد کی اوپری سطح پر ہلکا اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ جئی جلد کو نرم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اس پیک کو بنانے کے لیے دو کھانے کے چمچ سادہ دہی میں ایک کھانے کا چمچ باریک پسا ہوا جئی ملائیں۔ اس آمیزے کو صاف پیروں پر لگائیں اور پانچ سے دس منٹ بعد سادہ پانی سے دھو لیں۔ آخر میں موئسچرائزر یا فٹ کریم ضرور لگائیں۔
اگر جلد حساس ہو تو پہلے تھوڑی سی جگہ پر آزما کر دیکھیں۔ جلن، خارش یا سرخی محسوس ہونے پر اسے فوراً دھو دیں۔ یہ پیک جلد کو نرم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
پیڈی کیور کرنے کا آسان طریقہ
پیروں کو صاف رکھنے کے لیے مہنگے پیڈی کیور یا خاص مصنوعات کی ضرورت ہر بار نہیں ہوتی۔ نیم گرم پانی، ہلکا صابن اور نرم کپڑا بھی روزمرہ صفائی کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔
سب سے پہلے پیروں کو تقریباً 10 منٹ نیم گرم پانی میں بھگوئیں۔ اس کے بعد نرم برش یا کپڑے سے انگلیوں کے درمیان، ناخنوں کے آس پاس اور ایڑیوں کو آہستگی سے صاف کریں۔
اگر ایڑیوں پر سخت اور خشک جلد ہو تو پومیس پتھر سے بہت ہلکے ہاتھ سے صفائی کی جا سکتی ہے۔ جلد کو زور سے رگڑنے، بلیڈ استعمال کرنے یا سخت اسکرب لگانے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے زخم اور سوزش ہو سکتی ہے۔
صفائی کے بعد پاؤں اچھی طرح خشک کریں، خاص طور پر انگلیوں کے درمیان اور خشک حصوں پر موئسچرائزر لگائیں۔
پیروں کی صفائی برقرار رکھنے کے لیے چند عادتیں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔ باہر سے آنے کے بعد پاؤں دھوئیں، مناسب اور آرام دہ جوتے پہنیں اور دھوپ میں نکلتے وقت پیروں کے کھلے حصوں پر سن اسکرین لگائیں۔ خشک ایڑیوں کو روزانہ موئسچرائز کرنا بھی مفید ہے۔
























