بھارتی اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار نوجوان ریحان کی والدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو 2 لاکھ بھارتی روپے کی نوکری کا لالچ دے کر مبینہ طور پر اس معاملے میں پھنسایا گیا۔
والدہ کے مطابق ریحان غربت کے باعث اپنی تعلیم چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں تھا اور اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس معاملے میں الجھ رہا ہے۔ خاتون کے مطابق ان کا بیٹا تو یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ ممبئی کہاں واقع ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریحان کی والدہ نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے بیٹے نے جرم کیا ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے، لیکن جن لوگوں نے مبینہ طور پر اسے اس راستے پر لگایا، انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ہریانہ کے شہر سونی پت میں رہنے والی ریحان کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا تقریباً 20 روز قبل گھر میں بیٹھا کھانا کھا رہا تھا کہ اسی دوران کوئی شخص اسے بلانے آیا۔ اس کے بعد ریحان گھر سے چلا گیا، لیکن اہل خانہ کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔
والدہ کے مطابق، انہوں نے بیٹے سے کئی بار فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کا فون بند تھا۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ریحان ممبئی پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے نے جو کچھ کیا، وہ غلط تھا، لیکن انہیں شبہ ہے کہ کسی بااثر شخص نے اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا اور اسے اس معاملے میں پھنسا دیا۔
ریحان کی والدہ نے انٹرویو میں کہا کہ ان کے بیٹے کو ممبئی کے بارے میں بھی زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ وہ کس طرح اس شہر پہنچا اور کون اسے وہاں لے کر گیا۔
خاتون کے مطابق ان کا خاندان شدید غربت کا شکار ہے، جس کی وجہ سے ریحان نے کچھ ماہ پہلے اپنی پڑھائی چھوڑ دی تھی اور گھر کی مالی مدد کے لیے گرگرام میں ویلڈنگ کا کام سیکھ رہا تھا۔
والدہ نے دعویٰ کیا کہ اسی دوران بہار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ریحان کو اپنے بھائی کے پاس ملازمت دلانے کی پیشکش کی تھی۔ اسے بتایا گیا کہ وہ اس کام سے 2 لاکھ بھارتی روپے کما سکتا ہے۔ غریب خاندان کے لیے یہ رقم ایک بڑی امید تھی، لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس نوکری کے پیچھے کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
ان کے بقول، ریحان نے اسی امید پر اس شخص کی بات پر بھروسا کیا، لیکن اب وہ فائرنگ کے ایک سنگین مقدمے میں ملزم بن چکا ہے۔
والدہ کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان کے لیے یہ صورتحال انتہائی پریشان کن ہے۔ ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ وہ ممبئی جا کر اپنے بیٹے سے مل سکیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس وقت ان کا بیٹا کس حالت میں ہے۔
ریحان کی والدہ نے فائرنگ کے واقعے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانون کی کارروائی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتیں۔ اگر ان کا بیٹا جرم میں ملوث ثابت ہوتا ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے۔
تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن لوگوں نے مبینہ طور پر ریحان کو اس کام کے لیے تیار کیا یا اسے استعمال کیا، ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
انہوں نے حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انصاف صرف ان کے بیٹے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس معاملے میں ملوث تمام افراد کو جواب دہ بنایا جائے۔
والدہ کے مطابق، اگر ریحان نے غلطی کی ہے تو اسے اس کی سزا ملنی چاہیے، لیکن اسے اس راستے پر لے جانے والے افراد کو بھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے الزام میں ریحان، پھول سنگھ اور ہریتک کمار کو پیر کے روز راجستھان کے شہر کوٹا سے گرفتار کیا گیا تھا۔
تینوں پر قتل کی کوشش سمیت سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اتوار کی شام ممبئی کے علاقے جوہو میں فٹ بال میچ کھیلنے کے بعد واپس جانے والے ٹائیگر شروف کی گاڑی پر متعدد گولیاں چلائیں۔
واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ رپورٹ کے مطابق، تینوں ملزمان کو کوٹا کے ریلوے کالونی پولیس اسٹیشن میں سخت سکیورٹی کے تحت رکھا گیا تھا اور انہیں منگل کے روز ممبئی منتقل کیے جانے کی توقع تھی۔
فائرنگ کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس حملے سے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے تھے، جن کی حقیقت جاننے کے لیے پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔
دوسری جانب ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے واقعے کے بعد ممبئی پولیس نے اداکار کو سیکیورٹی فراہم کردی ہے، جبکہ سلمان خان کی رہائش گاہ کے باہر بھی پہرہ سخت کردیا گیا ہے۔
























