چھوٹے بچوں کو روتے ہوئے سنبھالنا ہر والدین کے لیے ایک بڑا اور مشکل امتحان ہوتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب بچہ گاڑی میں سفر کے دوران مسلسل رو رہا ہو۔ ایسے میں والدین انہیں چپ کروانے کے لیے چابیاں بجاتے ہیں یا عجیب و غریب آوازیں نکالتے ہیں لیکن اکثر یہ طریقے ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس پریشانی کو حل کرنے کے لیے ماہرین نے ایک ایسا نغمہ تیار کیا ہے جو بچوں کو فوراً سکون فراہم کرتا ہے اور اس کا نام ’دی ہیپی سانگ‘ ہے۔

سی این این میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس نغمے کی خاص بات یہ ہے کہ اسے باقاعدہ سائنسی تحقیق کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ اسے دس سال پہلے دو نفسیات دانوں اور گرامی ایوارڈ یافتہ مشہور موسیقار اموجن ہیپ نے مل کر بنایا تھا۔

اس گانے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران اسے میوزک پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر 47 کروڑ سے زائد مرتبہ سنا جا چکا ہے۔ انٹرنیٹ پر اس نغمے کو بار بار سننے والے والدین کا کہنا ہے کہ اس گانے نے گاڑیوں کے سفر اور گھر کے ماحول میں ان کی زندگی بہت آسان بنا دی ہے۔

اس گانے کو 10 سال مکمل ہونے پر اس کی تیاری کے پیچھے موجود تحقیق اور اس کی کامیابی کی کہانی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

یہ گانا 2016 میں برطانوی بچوں کی خوراک بنانے والی کمپنی کاؤ اینڈ گیٹ کی درخواست پر تیار کیا گیا تھا۔ کمپنی چاہتی تھی کہ ایسا گانا بنایا جائے جو بچوں کو خوشی کا احساس دلائے اور والدین کو روزمرہ کی مشکل صورت حال میں کچھ دیر کے لیے سکون فراہم کر سکے۔

اس مقصد کے لیے موسیقی کی نفسیات کی ماہر لورین اسٹیورٹ اور بچوں کی نشوونما کے ماہر کاسپر ایڈمین نے گلوکارہ اموجن ہیپ کے ساتھ کام کیا۔ اس وقت اموجن ہیپ کی اپنی بیٹی بھی تقریباً ڈیڑھ سال کی تھی، جس کی وجہ سے انہیں بچوں کی پسند اور رویوں کو سمجھنے میں ذاتی تجربے سے بھی مدد ملی۔

ماہرین نے دو ہزار سے زائد والدین سے معلومات حاصل کیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کون سی آوازیں بچوں کو زیادہ متوجہ کرتی ہیں۔ تحقیق میں جانوروں کی آوازیں اور دوسرے بچوں کا ہنسنا ایسی آوازوں میں شامل تھا جن پر بچے خاص ردعمل ظاہر کرتے تھے۔ یہی آوازیں بعد میں گانے کا حصہ بنائی گئیں۔

گانے کی دھن تیار کرنے کے بعد اسے براہ راست بچوں پر بھی آزمایا گیا۔ اموجن ہیپ نے چار مختلف دھنیں بنائیں، جنہیں چھ سے 12 ماہ کی عمر کے 26 بچوں کو مختلف رفتار سے سنایا گیا۔

ماہرین نے بچوں کی حرکات، چہروں کے تاثرات اور آوازوں کا جائزہ لیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ انہیں کون سی دھن زیادہ پسند آتی ہے۔

تحقیق کے مطابق تقریباً 80 فیصد بچوں نے اس دھن کو پسند کیا جسے بعد میں ’دی ہیپی سانگ‘ میں شامل کیا گیا۔

ماہرین نے گانے کی رفتار کے حوالے سے بھی تجربات کیے۔ ابتدا میں خیال تھا کہ بچوں کی دھڑکن بڑوں کے مقابلے میں تیز ہوتی ہے، اس لیے انہیں تیز رفتار موسیقی زیادہ پسند آئے گی۔ تاہم تجربے میں بچوں نے نسبتاً آہستہ دھن کو ترجیح دی۔

اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کو خوش کرنے کے لیے صرف تیز موسیقی کافی نہیں، بلکہ دھن اور آوازوں کا انداز بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

گانے کی تیاری میں ایک ایسے انداز کو بھی اہمیت دی گئی جس میں والدین بچوں سے بات کرتے وقت اپنی آواز قدرے اونچی، نرم اور خوشگوار بنا لیتے ہیں۔ اسے انگریزی میں ’مدرِیز‘ کہا جاتا ہے۔

کاسپر ایڈمین کے مطابق، اس انداز میں الفاظ کی آوازوں کو واضح رکھا جاتا ہے، جس سے بچوں کے لیے یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ کوئی ان سے بات کر رہا ہے۔

گانے میں ایسے الفاظ اور آوازیں بھی شامل کی گئیں جنہیں چھوٹے بچے نسبتاً آسانی سے ادا کر سکتے ہیں۔ اس طرح موسیقی، الفاظ اور آوازوں کو بچوں کی عمر اور سمجھ کے مطابق ترتیب دیا گیا۔


اس گانے کی تیاری میں اموجن ہیپ کی بیٹی اسکاؤٹ کا بھی اہم کردار رہا۔ گانے کی مرکزی دھن کا خیال انہیں اپنی بیٹی کے گنگنانے سے ملا تھا۔

گانے کے بولوں میں سائیکل، آبدوز، ہیلی کاپٹر، ٹرین، ہوائی جہاز اور ستاروں کی جانب جانے والے راکٹ کا ذکر بھی شامل ہے۔ یہ خیالات اس وقت سامنے آئے جب اسکاؤٹ کو مختلف سواریوں میں خاص دلچسپی تھی۔

گانے کے آغاز میں سنائی دینے والی ہنسی بھی ان کی بیٹی کی ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران اسکاؤٹ کی موجودگی نے اموجن ہیپ کو بچوں سے بات کرنے والے فطری اور خوشگوار انداز کو برقرار رکھنے میں مدد دی۔

اموجن ہیپ کے مطابق، ان کا مقصد صرف ایسا گانا بنانا نہیں تھا جو بچوں کو پسند آئے، بلکہ وہ یہ بھی چاہتی تھیں کہ والدین اسے بار بار سن کر تنگ نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایسا گانا بنانا چاہتی تھیں جس میں خوشگوار دھن کے ساتھ دلچسپ اور مزاحیہ پہلو بھی موجود ہوں۔ گانے کے بولوں میں بچوں سے محبت کا اظہار بھی شامل ہے، جس سے والدین خود کو اس کے ساتھ جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔

بچوں کی نشوونما کے ماہر کاسپر ایڈمین کا خیال ہے کہ گانے کی کامیابی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں بچوں سے اس طرح بات نہیں کی گئی جیسے وہ کچھ سمجھنے کے قابل ہی نہ ہوں۔

گزشتہ ایک دہائی میں ’دی ہیپی سانگ‘ دنیا بھر کے والدین میں مقبول ہو چکا ہے۔ اسپاٹیفائی پر اسے 47 کروڑ سے زیادہ مرتبہ سنا گیا ہے، جبکہ یوٹیوب پر اس گانے کی مسلسل 10 گھنٹے طویل ویڈیو کو بھی ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

اموجن ہیپ نے بتایا کہ انہوں نے اس گانے کی زیادہ تشہیر نہیں کی، لیکن والدین ایک دوسرے کو اس کے بارے میں بتاتے رہے اور یوں یہ نئی نسل کے والدین تک پہنچتا گیا۔

گلوکارہ کے مطابق، ان کا مقصد دنیا بھر کے بچوں کے ذریعے بڑی رقم کمانا نہیں تھا، بلکہ وہ صرف ایسا گانا بنانا چاہتی تھیں جو ٹریفک جام یا کسی مشکل صورت حال میں پریشان خاندان کو چند منٹ کا سکون دے سکے۔

انہوں نے ایک واقعہ بھی بیان کیا کہ دورانِ پرواز ایک بچے کے والد مسلسل رونے کی وجہ سے پریشان تھے۔ اموجن ہیپ نے انہیں اپنے گانے کی پیشکش کی۔

جیسے ہی بچے نے گانے کے آغاز میں ہنسی کی آواز سنی، اس کا رویہ فوراً بدل گیا۔ گلوکارہ کے مطابق، بچے کے والد اس قدر شکر گزار تھے کہ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

More

Comments
1000 characters