ترکی کے شہر استنبول میں واقع دنیا کے قدیم ترین شاپنگ مالز میں شمار ہونے والا گرینڈ بازار تقریباً 500 سال سے زیادہ عرصے سے تجارت کا مرکز ہے۔ اس کی رنگ برنگی دکانوں، قیمتی زیورات اور سیاحوں کے ہجوم کے پیچھے ایک ایسی پوشیدہ دنیا کام کرتی ہے جو اس تاریخی بازار کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔
اس پسِ پردہ نظام میں سونے کے کاریگر، قیمتی پتھروں کے ماہر، زیورات کے ڈیزائنر اور نسل در نسل یہ ہنر سیکھنے والے افراد شامل ہیں، جن کے باہمی اعتماد، مہارت اور دیرینہ کاروباری تعلقات کی بدولت صدیوں پرانی روایات آج بھی برقرار ہیں اور صدیوں پرانے ہنر کو اگلی نسل تک پہنچا رہے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، گرینڈ بازار کی اس اندرونی دنیا میں داخل ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض خریداری کی جگہ نہیں بلکہ ایک ایسا تاریخی مرکز ہے جہاں ہنر، کاروباری تعلقات اور استاد شاگرد کی روایت نے طویل عرصے سے اپنی جگہ برقرار رکھی ہوئی ہے۔
78 سالہ اومیت برک سوئی گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے گرینڈ بازار میں زیورات کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کے لیے بازار کی اہمیت صرف قیمتی پتھروں اور مہنگے زیورات تک محدود نہیں۔ وہ اس کے ان کاریگروں کو بھی اس کی اصل پہچان سمجھتے ہیں جو برسوں کی محنت سے اپنے ہنر میں مہارت حاصل کرتے ہیں۔

برک سوئی اپنے ایک قیمتی یاقوت کو تیار کروانے کے لیے ایسے ہی ہنرمندوں کے پاس جاتے ہیں جن کے ساتھ ان کا کئی دہائیوں پرانا تعلق ہے۔ ان کے درمیان زیادہ گفتگو کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک دوسرے کے کام کو سمجھنے اور برسوں کے تجربے کی وجہ سے وہ چند اشاروں ہی سے جان لیتے ہیں کہ مطلوبہ ڈیزائن کس طرح تیار کرنا ہے۔

یہ تعلق اس بازار کے کاروباری کلچر کی بھی عکاسی کرتا ہے، جہاں تجارت صرف خرید و فروخت نہیں بلکہ اعتماد، تجربے اور طویل مدتی شراکت داری پر بھی قائم ہے۔
تاریخی دکانیں، جہاں وقت کی رفتار سست پڑ گئی
برک سوئی بازار کی مختلف گلیوں سے گزرتے ہوئے ایسی دکانوں پر بھی جاتے ہیں جن کی تاریخ ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے۔ ان میں ایک دکان اپراہم ہے، جس کا نام اس کے آرمینیائی بانی کے نام پر رکھا گیا۔ یہ دکان 1882 سے سونا اور دیگر قیمتی دھاتیں فروخت کر رہی ہے۔

ایک اور دکان ایپوک ہے، جہاں نوادرات کا کاروبار ہوتا ہے۔ یہ دکان 1865 سے قائم ہے۔ یہاں 76 سالہ گیوارٹ تیمنیان اپنے شاگرد ابراہیم خلیل اییسرک کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ تیمنیان جب نوجوان تھے تو اسی دکان میں بطور مددگار ملازمت شروع کی تھی، لیکن وقت کے ساتھ وہ اس کاروبار کے اہم نگہبان بن گئے۔
تیمنیان کے مطابق، معاشی حالات کی وجہ سے اب زیادہ لوگ اپنے قیمتی نوادرات فروخت کرنے کے لیے دکان کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم، انہیں امید ہے کہ حالات بہتر ہوں گے اور ان کا کاروبار بھی اپنی جگہ برقرار رکھے گا۔
ایسی دکانیں اس بات کی مثال ہیں کہ گرینڈ بازار کی تاریخ صرف اس کی عمارتوں میں نہیں بلکہ ان لوگوں میں بھی محفوظ ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ یہیں گزارا۔
گرینڈ بازار کی بنیاد 1453 میں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطنت عثمانیہ کے سلطان محمد ثانی نے رکھی تھی۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 21 سال تھی۔ انہیں ایک ایسے تجارتی مرکز کی ضرورت تھی جو شہر کی معیشت کو سہارا دے اور مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کی ضروریات بھی پوری کرے۔
صدیوں کے دوران یہ بازار پھیلتا گیا۔ زلزلوں اور بدلتے زمانے کے باوجود اس نے اپنی اہمیت برقرار رکھی اور ترکی کی روایتی تجارت کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ یہاں مختلف پیشوں سے وابستہ کاریگروں نے کام کیا، جن میں آرمینیائی، یونانی، یہودی اور سریانی برادریوں کے ہنرمند بھی شامل تھے۔ یہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے، کاروباری تعلقات قائم کرتے اور اپنے تجربات نئی نسل کو منتقل کرتے رہے۔
بازار کی گلیاں بھی اس کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ وقت کے ساتھ مختلف پیشوں کے لیے الگ گلیاں بن گئیں۔ کہیں زیورات کا کاروبار ہے، کہیں چاندی کے برتن، چمڑے کی مصنوعات اور ہاتھ سے بنے قالین فروخت ہوتے ہیں۔ دکانوں میں بدلتے رجحانات کے مطابق نئی چیزیں شامل ہوتی رہیں، لیکن ان کے پیچھے موجود پرانی عمارتوں اور ورکشاپس نے بازار کی روایتی شناخت کو بڑی حد تک محفوظ رکھا۔
آج گرینڈ بازار میں تقریباً 3 ہزار 600 دکانیں ہیں۔ اس کی 65 گلیاں، 14 تاریخی سرائے اور 11 بڑے داخلی دروازے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہاں روزانہ آنے والوں کی تعداد 4 لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔ تاہم، اس مصروف بازار کا ایک بڑا حصہ عام سیاحوں کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔
زیورات کی تیاری اور جیمز بانڈ کی فلم کا تعلق
گرینڈ بازار کی ایک تاریخی سرائے، ایکیزلر خان، میں زیورات بنانے والی متعدد ورکشاپس اور تھوک فروش موجود ہیں۔ ان میں سے ایک ورکشاپ سیوان ہارونیان کی ہے، جو کئی دہائیوں سے سونے کے زیورات تیار کر رہے ہیں۔
سیوان کا کام ہاتھ سے بنائے گئے ڈیزائن کو قیمتی دھات میں ڈھالنا ہے۔ ان کے پاس موجود لکڑی کی پرانی میز پر مختلف اوزار، تاریں اور دیگر سامان بکھرا رہتا ہے، لیکن ہر آلے کا اپنا مخصوص کام ہے۔ وہ باریک اوزاروں کی مدد سے سونے کے فریم کو اس شکل میں ڈھالتے ہیں جس میں بعد ازاں قیمتی پتھر جڑا جاتا ہے۔
ان کی ورکشاپ کی کھڑکی سے گرینڈ بازار کی ٹائلوں والی چھتیں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ وہی تاریخی چھتیں ہیں جن پر 2012 کی جیمز بانڈ فلم ’’اسکائی فال‘‘ کے ابتدائی منظر میں اداکار ڈینیئل کریگ کو موٹر سائیکل چلاتے دکھایا گیا تھا۔

سیوان کے لیے یہ منظر محض ایک خوب صورت نظارہ نہیں بلکہ ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ وہ گزشتہ 46 برس سے زیورات بنانے کا ہنر سیکھتے اور اس پر کام کرتے آئے ہیں۔
اب ان کے دونوں بیٹے بھی اسی پیشے سے وابستہ ہیں۔ 25 سالہ اراس اور 22 سالہ آردا نے بچپن میں اسکول کی چھٹیوں کے دوران اپنے والد کے ساتھ ورکشاپ آنا شروع کیا تھا۔ ابتدا میں وہ صرف کام دیکھتے تھے، پھر آہستہ آہستہ انہیں سادہ ڈیزائن بنانے اور دوسرے کام سیکھنے کا موقع ملا۔

اراس نے استنبول کی میمار سنان یونیورسٹی سے شماریات کی تعلیم حاصل کی، لیکن خاندانی کاروبار میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔ اب وہ کمپیوٹر کی مدد سے زیورات کے ڈیزائن تیار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس آردا زیادہ تر عملی کام سیکھنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
اس خاندان کی مثال بتاتی ہے کہ روایتی ہنر کو برقرار رکھنے کا مطلب جدید طریقوں سے دور رہنا نہیں۔ نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے بھی اس کام کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی بنیادی مہارت اور معیار برقرار رہے۔
استاد سے شاگرد تک منتقل ہوتا ہنر
ترکی میں آرمینیائی برادری کے ہنرمند صدیوں سے زیورات اور دیگر دستکاریوں کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ گرینڈ بازار میں بھی آرمینیائی کاریگروں نے اس شعبے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سیوان ہارونیان سمجھتے ہیں کہ اس پیشے کو زندہ رکھنے کے لیے استاد اور شاگرد کے درمیان تعلق بہت ضروری ہے۔ ان کے نزدیک زیورات بنانا محض اوزار چلانے یا ڈیزائن مکمل کرنے کا نام نہیں۔ اس میں تجربہ، باریک بینی اور وہ مہارت بھی شامل ہے جو برسوں کی مشق سے حاصل ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بڑے شاپنگ مالز کے پھیلاؤ کے باوجود گرینڈ بازار کی روایتی ورکشاپس کی اہمیت ختم نہیں ہوئی۔ ان کے خیال میں ہاتھ سے تیار ہونے والی اشیا کی قدر اس وقت بھی برقرار رہتی ہے جب خریدار ان میں موجود محنت اور مہارت کو پہچانتے ہوں۔
تاہم، یہ پیشہ بھی بدلتے رجحانات سے متاثر ہوا ہے۔ لوگوں کے رہن سہن، فیشن اور لگژری مصنوعات کے بارے میں سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ ماضی میں مقبول رہنے والے ٹائی پن اور خواتین کے لباس پر لگائے جانے والے آرائشی پن اب پہلے کی طرح استعمال نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود ہاتھ سے تیار کیے جانے والے زیورات کے خریدار اب بھی موجود ہیں۔
قیمتی نگینو اور پتھر جیسے یاقوت کا نازک کام
ہرانت زورباس قیمتی پتھروں اور نگینوں کو انتہائی توجہ، احتیاط اور باریک بینی کے ساتھ زیورات اور سونے کے فریموں میں جڑنے کے ماہر ہیں۔ اس کام میں ذرا سی بے احتیاطی بھی پتھر کو نقصان پہنچا سکتی ہے، اس لیے وہ ہیروں اور دیگر قیمتی نگینوں کی تنصیب کا یہ نازک مرحلہ اپنی کمال مہارت سے انجام دیتے ہیں۔

زورباس اپنی میز کے ساتھ چمڑے کا ایک موٹا کپڑا رکھتے ہیں تاکہ کام کے دوران سونے یا دیگر قیمتی مواد کا کوئی ذرہ ضائع نہ ہو۔ وہ اپنے چشمے کے اوپر ایک بڑا عدسہ رکھ کر انگوٹھی کے فریم اور یاقوت کا معائنہ کرتے ہیں۔ ان کے بیٹے شانٹ بھی اسی شعبے سے وابستہ ہیں، لیکن وہ زیورات کی جانچ کے لیے جدید مائیکروسکوپ استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔

یہ کام انتہائی باریک بینی، توجہ اور ہنر کا متقاضی ہے، جو انتہائی قیمتی اور نازک نگینوں کو سونے یا دھات کے فریم میں جڑنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس میں ذرا سی بے احتیاطی سے پتھر کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے یہ روایتی کاریگری اور تجربے کا ایک انتہائی حساس ہنر ہے۔
گرینڈ بازار کی اصل اہمیت بھی یہی ہے۔ اس کی رنگ برنگی دکانوں اور سیاحوں کے ہجوم کے پیچھے ایسے کاریگر موجود ہیں جو اپنے تجربے، باہمی اعتماد اور نسل در نسل منتقل ہونے والے ہنر کے ذریعے اس تاریخی بازار کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں صدیوں پرانی روایت صرف ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ آج بھی روزمرہ زندگی اور کاروبار کا حصہ ہے۔
























