بولی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ
بولی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں اداکار محفوظ رہے جب کہ 2 افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور لارنس بشنوئی گینگ کے ممکنہ ملوث ہونے کے دعوؤں کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ اتوار کی شام ممبئی کے علاقے جوہو میں پیش آیا، جب ٹائیگر شروف فٹ بال کھیلنے کے بعد اپنے ڈرائیور کے ہمراہ گھر واپس جارہے تھے۔ اداکار کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے وہاں لوگ جمع تھے کہ نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔
ممبئی پولیس کے ڈی سی پی موہت گَرگ کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد زخمی ہوئے۔ اداکار کے ڈرائیور فردوس کو معمولی چوٹیں آئیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی جب کہ عملے کے ایک اور رکن کو گولی لگی۔ دونوں زخمیوں کو علاج کے لیے ناناوتی اسپتال منتقل کردیا گیا۔
ریاستی وزیر آشیش شیلار نے بتایا کہ انہوں نے ممبئی پولیس کمشنر دیون بھارتی سے رابطہ کیا ہے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
ممبئی میں گینگ وار برداشت نہیں کریں گے، نائب وزیراعلیٰ
مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی میں گینگ وار برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور فنکاروں کو خوف کے ماحول میں رہنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
کانگریس کی وزیراعلیٰ پر تنقید
دوسری جانب کانگریس نے واقعے پر مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندرا فڑنویس کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو ریاست میں محکمہ داخلہ کا قلمدان بھی رکھتے ہیں۔
کانگریس کے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سیکریٹری سچن ساونت نے کہا کہ ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کی خبر انتہائی تشویش ناک ہے اور ممبئی میں امن و امان کی صورت حال پر سوالات اٹھاتی ہے۔
انہوں نے بابا صدیقی کے قتل، سلمان خان کی رہائش گاہ پر فائرنگ اور متعدد اداکاروں و فلم پروڈیوسرز کو ملنے والی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کی۔
پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کررہی ہے جب کہ فائرنگ میں ملوث افراد اور لارنس بشنوئی گینگ سے ممکنہ تعلق کے بارے میں حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
























