پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے نے اپنے عملے کے نئے یونیفارم تیار کرنے کے لیے معروف پاکستانی فیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین( ایچ ایس وائے) کا انتخاب کرلیا ہے۔ نئے یونیفارم کے ذریعے جدید فیشن کے ساتھ پاکستان کی ثقافت اور قومی ایئرلائن کی روایات کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔

پی آئی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کمپنی نے گزشتہ ماہ کراچی میں ملک کے تمام معروف فیشن ڈیزائنرز کو پی آئی اے کے نئے یونیفارم ڈیزائن کرنے کے لیے مدعو کیا تھا۔

پیش کیے گئے ڈیزائنز میں جدت، اعلیٰ معیار اور پی آئی اے سمیت پاکستان کے ثقافتی ورثے کی عکاسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایچ ایس وائے کا انتخاب کیا گیا۔

پی آئی اے کے مطابق حسن شہریار یاسین کے تیار کردہ نئے یونیفارم کی رونمائی ایئرلائن کے نئے بوئنگ 787 طیارے کی پہلی پرواز کے موقع پر کی جائے گی۔

اعلان کے مطابق یہ پرواز 31 اکتوبر کو لندن سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگی، جس پر نئے یونیفارم میں ملبوس عملہ مسافروں کو خوش آمدید کہے گا۔

پی آئی اے کی تاریخ میں یونیفارم کے ڈیزائن کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ ایئرلائن کے مطابق 1966 میں معروف فرانسیسی ڈیزائنر پیئر کارڈن نے اس کے لیے مخصوص اے لائن طرز کا لباس اور سر ڈھانپنے کا انداز متعارف کرایا تھا، جس نے فضائی عملے کے لباس کو ایک منفرد پہچان دی۔

بعد ازاں 1970 کی دہائی میں برطانوی شاہی خاندان کے لیے لباس تیار کرنے والے ڈیزائنر سر ہارڈی ایمیز نے پی آئی اے کے یونیفارم میں نفاست اور روایتی انداز کو نمایاں کیا۔ حالیہ برسوں میں پاکستانی ڈیزائنر نومی انصاری کے تیار کردہ یونیفارم بھی ایئرلائن کے عملے کے زیرِ استعمال رہے، جن کا ڈیزائن تقریباً 12 سال تک برقرار رہا۔

پی آئی اے کی انتظامیہ کے مطابق ایئرلائن مسافروں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے مختلف تبدیلیوں پر کام کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں جدید سہولیات اور تفریحی نظام سے لیس طیاروں کی شمولیت، پہلے سے موجود طیاروں کی نشستوں اور کیبن میں بہتری، عملے کے یونیفارم کی تبدیلی اور کھانے کے مینو میں نئے انتخاب شامل ہیں۔

ایئرلائن کے مطابق نئے یونیفارم اس کی جدت اور تبدیلی کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہیں۔ نئے لباس کے ذریعے عملے کی ظاہری پیشکش کو جدید بنانے کے ساتھ پی آئی اے کی قومی شناخت اور مہمان نوازی کی روایت کو بھی نمایاں کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

More

Comments
1000 characters