پاکستانی ٹی وی میزبان ابیل جاوید اپنے شوہر شہزاد کی بیماری اور اچانک موت کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر بظاہر بیمار نہیں تھے، لیکن انہیں اسپتال لے جانے کے باوجود چند گھنٹوں میں ان کی موت ہوگئی۔

ابیل کے مطابق شوہر کے انتقال کے بعد انہیں نہ صرف اپنے غم کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بچوں کی پرورش کی فکر نے بھی انہیں پریشان کیے رکھا، جبکہ بچوں نے ابتدا میں انہیں والد کی موت کا ذمہ دار سمجھا۔

ابیل جاوید نے نجی چینل کے ایک مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے شوہر شہزاد بظاہر بیمار دکھائی نہیں دے رہے تھے، لیکن انہیں جسم میں آکسیجن کی کمی محسوس ہوئی۔ اس کے بعد وہ شوہر کو اسپتال لے گئیں، جہاں ڈاکٹروں نے ڈائیلائسز اور وینٹی لیٹر سمیت مختلف طبی اقدامات کے بارے میں بتایا۔

ابیل کے مطابق ان طبی اقدامات کی بات سن کر شہزاد گھبرا گئے تھے اور کہنے لگے کہ وہ یہ تمام طبی عمل نہیں کروانا چاہتے۔ ڈاکٹروں کی تشخیص سننے کے صرف 3 سے 4 گھنٹے کے اندر ان کے شوہر کے دل نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

ابیل نے کہا کہ وہ اپنے شوہر کو خیریت سے اسپتال لے کر گئی تھیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ ہوا۔ ان کے لیے اس اچانک صدمے کو برداشت کرنا انتہائی مشکل تھا۔

ابیل جاوید نے بتایا کہ شوہر کے انتقال کے بعد تنہا بچوں کی پرورش کا خیال انہیں خوف زدہ کرتا رہا۔ اس مشکل وقت میں انہیں اپنے غم کے ساتھ بچوں کی ضروریات اور مستقبل کی فکر بھی لاحق تھی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ بچوں نے ابتدا میں انہیں اپنے والد کی موت کا ذمہ دار سمجھنا شروع کردیا تھا، کیونکہ وہی اپنے شوہر کو اسپتال لے کر گئی تھیں۔ کم عمر بچوں کے لیے اچانک والد سے محرومی کو سمجھنا آسان نہیں تھا، جس نے ابیل کے لیے اس صدمے کو مزید تکلیف دہ بنا دیا۔

اپنی چھوٹی بیٹی حورین کا ذکر کرتے ہوئے ابیل جاوید نے بتایا کہ اسے موت کے حقیقی مفہوم کا بھی علم نہیں تھا۔ والد کے آخری دیدار کے موقع پر وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ وہ بعد میں اپنے بابا کو دیکھے گی، جب وہ ٹھیک ہوجائیں گے۔

ابیل کے مطابق حورین یہ بھی پوچھتی رہیں کہ ان کے بابا کو کتنے دن قبر میں رہنا ہوگا۔ بیٹی کے یہ سوالات ایک ماں کے لیے انتہائی دردناک تھے، کیونکہ وہ خود اپنے شوہر کی جدائی کے غم سے گزر رہی تھیں اور دوسری طرف بچی کو اس حقیقت کا احساس دلانا بھی آسان نہیں تھا۔

ابیل جاوید نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بچے اپنے والد کو آوازیں دیتے ہیں اور انہیں وائس نوٹس بھیجتے ہیں، لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آتا تو اس خاموشی کو برداشت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

More

Comments
1000 characters