گھر کا بنا ہوا اچار کیوں خراب ہو جاتا ہے؟ اسے لمبے عرصے تک تازہ رکھنے کے 6 آسان طریقے
گھر کے بنے ہوئے اچار کی بات ہی الگ ہوتی ہے۔ یہ چٹ پٹا، نمکین، مصالحے دار اور کھانے کا ذائقہ بڑھانے کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ اس کا ایک چھوٹا سا لقمہ پورے کھانے کا مزہ بدل دیتا ہے۔ لیکن کئی بار محنت سے بنایا گیا اچار بہت جلدی خراب ہو جاتا ہے، جس سے بڑی مایوسی ہوتی ہے۔
کبھی سبزیاں نرم پڑ جاتی ہیں، کبھی عجیب سی بو آنے لگتی ہے، پانی گدلا ہو جاتا ہے یا پھر اچار کے اوپر سفید رنگ کی پھپھوندی جم جاتی ہے۔ اچار بنانا بظاہر بہت آسان لگتا ہے، لیکن اس میں چھوٹی سی لاپرواہی بھی پورے اچار کو برباد کر سکتی ہے۔
اچار اس لیے خراب نہیں ہوتا کہ اسے بنانے کا طریقہ غلط تھا، بلکہ تیاری میں ہونے والی چھوٹی چھوٹی غلطیاں یا لاپرواہیاں، نمی، نمک کا صحیح مقدار میں نہ ہونا اور رکھنے کا غلط طریقہ اس میں جراثیم پیدا کر دیتا ہے اور فنگس کو بڑھنے کا موقع مل جاتا ہے۔
کچھ باتوں کا خیال رکھ کر اچار کو خراب ہونے سے آسانی سے بچایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے اچار اس لیے محفوظ رہتا ہے کیونکہ اس میں نمک، سرکہ یا تیل ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جہاں نقصان دہ جراثیم آسانی سے نہیں بڑھ سکتے۔ جب یہ توازن بگڑ جائے تو اچار خراب ہونے لگتا ہے۔
اچار خراب ہونے کی سب سے بڑی وجہ گندگی اور نمی ہے۔ اگر اچار رکھنے والا مرتبان اچھی طرح صاف نہ ہو، چمچ گیلا ہو یا سبزیوں کو دھونے کے بعد اچھی طرح سکھایا نہ گیا ہو تو اچار میں جراثیم آسانی سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کے چند قطرے بھی پورے اچار کو خراب کر سکتے ہیں، خاص طور پر گرم اور مرطوب موسم میں۔
اچار کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں تیزابیت، نمک یا خشکی کا ایسا ماحول ہو جہاں جراثیم نہ پنپ سکیں۔ جب یہ توازن بگڑتا ہے تو اچار خراب ہونے لگتا ہے۔ زیادہ نمی اچار کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ سبزیوں کا پانی، گیلے برتن یا برتنی کے اندر جمنے والے پانی کے قطرے نمکین پانی کو پتلا کر دیتے ہیں جس سے پھپھوندی لگ جاتی ہے۔ خاص طور پر برسات اور نمی والے موسم میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
نمک صرف ذائقے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ یہ سبزیوں سے فالتو پانی نکالتا ہے اور انہیں گلنے سے بچاتا ہے۔ اگر نمک کم ہو جائے تو اچار کا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے اور سبزیاں اپنی شکل کھو دیتی ہیں۔
اسی طرح اچار کا ہوا کے سامنے کھلا رہنا بھی اسے خراب کرتا ہے۔ اچار میں موجود تمام سبزیاں یا پھل مکمل طور پر تیل، سرکے یا نمکین پانی میں ڈوبے رہنے چاہئیں۔ جو حصہ اوپر رہ جاتا ہے وہ سب سے پہلے خراب ہوتا ہے اور وہاں پھپھوندی بن سکتی ہے۔ خاص طور پر تیل والے اچار میں یہ بہت ضروری ہے کہ سب کچھ تیل کے نیچے دبا رہے۔
اس کے علاوہ، اگر اچار کو گرم یا تیز روشنی والی جگہ پر رکھا جائے تو وہ جلدی خراب ہو جاتا ہے، سبزیاں زیادہ گل جاتی ہیں اور مصالحوں کا اثر کم ہو جاتا ہے۔
ماہرین نے اچار کو لمبے عرصے تک چلانے کے لیے چھ آسان طریقے بتائے ہیں۔
ہمیشہ صاف اور بالکل خشک برتن کا استعمال کریں
اچار بنانے کے لیے استعمال ہونے والے مرتبان، ڈھکن، چمچ اور دیگر تمام برتنوں کو اچھی طرح دھو کر بالکل سکھا لیں۔ اگر آپ زیادہ مقدار میں اچار بنا رہے ہیں تو برتنوں کو کپڑے سے سکھانے کے بجائے تھوڑی دیر ہوا میں چھوڑ دیں تاکہ نمی کا ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے۔
سبزیوں کو ہمیشہ تیل یا پانی کے اندر ڈبو کر رکھیں
اچار کا جو بھی حصہ باہر رہے گا، وہ سب سے پہلے خراب ہوگا۔ اگر ضرورت ہو تو کسی صاف چمچ یا کسی بھاری چیز سے اچار کو نیچے کی طرف دبا دیں تاکہ وہ تیل کی سطح سے نیچے رہے۔
نمک اورسرکے کا توازن درست رکھیں
اچار میں نمک یا سرکے کی مقدار کو اپنی مرضی سے کم نہ کریں کیونکہ یہ اچار کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ نمک اور سرکے کی مقدار نسخے کے مطابق استعمال کرنی چاہیے۔
اچار ڈالنے سے پہلے تمام چیزوں کو اچھی طرح سکھا لیں
سبزیوں کو دھونے کے بعد کپڑے پر پھیلا کر اچھی طرح خشک کرنا ضروری ہے۔ خاص طور پر ہمارے ہاں بننے والے عام اچار جیسے لیموں یا مرچ کے اچار میں اگر تھوڑی سی بھی نمی رہ جائے تو پورا اچار سڑ جاتا ہے۔
مرتبان کو ہمیشہ کسی ٹھنڈی اور اندھیری جگہ پر رکھیں
کچن کے ایسے کاؤنٹر پر جہاں دھوپ آتی ہو، اچار رکھنا غلط ہے۔ اسے کسی الماری یا سائے والی جگہ پر رکھیں۔
اچار نکالنے کے لیے ہمیشہ بالکل خشک اور صاف چمچ کا استعمال کریں
کبھی بھی گیلا، جھوٹا یا استعمال شدہ چمچ اچار کے اندر نہ ڈالیں اور اچار نکالنے کے فوراً بعد ڈھکن کو مضبوطی سے بند کر دیں۔
اچار کو وقفے وقفے سے دیکھتے رہنا بھی ضروری ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اچار میں سے عجیب سی کھٹی بو آنے لگے، سبزیاں لیس دار ہو جائیں، پھپھوندی نظر آئے یا اچار کا رنگ عجیب سا بدل جائے، تو ایسے اچار کو استعمال کرنے کے بجائے پھینک دینا ہی بہتر ہے کیونکہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
گھر کا بنا اچار کسی مہنگے سامان یا مشکل طریقے کا محتاج نہیں ہوتا، یہ صرف تھوڑی سی توجہ مانگتا ہے۔ اگر اسے خشک، ٹھنڈا اور تیل میں ڈبو کر رکھا جائے تو یہ کئی ماہ بلکہ بعض اوقات ایک سال سے بھی زیادہ عرصے تک تازہ اور لذیذ رہ سکتا ہے۔
























