صرف 3 لاکھ روپے میں بنی چینی فلم: 'اسپائیڈر مین' اور 'اوڈیسی' کو پیچھے چھوڑ دیا
چین میں ایک ایسی اینیمیٹڈ فلم نے باکس آفس پر ہلچل مچا دی ہے جسے لوگ ہر لحاظ سے بے حد خراب قرار دے رہے ہیں، لیکن اسی خرابی کی وجہ سے یہ فلم اب اسپائیڈر مین جیسی بڑی ہالی وڈ فلموں سے بھی آگے نکل گئی ہے۔
’نیو لائی‘ نامی یہ فلم ایک بچھڑے اور ایک پرندے کی کہانی ہے، جسے محض دو افراد نے پانچ سال کی محنت کے بعد تیار کیا ہے۔ فلم کے ہدایت کار، مصنف اور مرکزی کرداروں کے لیے آواز دینے والے سن یومینگ اور سن لیفانگ ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ماں بیٹے کی جوڑی ہے۔
جب یہ فلم 5 اگست کو چین کے سینما گھروں میں ریلیز ہوئی تو پہلے دس دنوں میں اسے محض 300 لوگوں نے دیکھا اور اس نے صرف 7,700 چینی یوآن (ایک لاکھ چار ہزار پاکستانی روپے) کمائے۔
فلم کی نہ تو کوئی تشہیر کی گئی تھی اور نہ ہی اس کا کوئی ٹریلر جاری ہوا تھا۔ لیکن پھر کہانی میں موڑ تب آیا جب فلم کے کچھ کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے اور یہی چیز اس کے لیے غیر معمولی کامیابی کا سبب بن گئی۔
سوشل میڈیا پر لوگوں نے فلم کے کمپیوٹر گرافکس، کرداروں کی بے جان حرکتوں اور عجیب و غریب کہانی کا خوب مذاق اڑایا۔ بعض لوگوں نے اسے ایسے طالب علم کے پروجیکٹ سے تشبیہ دی جو ابھی مکمل طور پر تیار نہ ہوا ہو۔
کچھ صارفین نے اسے اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت سے بھی بدتر قرار دیا اور اسے 2026 کی بدترین فلم کا خطاب دے دیا۔ تاہم یہ مذاق فلم کے لیے نقصان دہ ہونے کے بجائے ایک ایسی تشہیر ثابت ہوا کہ لوگ خود دیکھنے سینما پہنچ گئے کہ آخر یہ فلم اتنی بری کیوں ہے جتنی سوشل میڈیا پر بتائی جا رہی ہے۔
یوں فلم کا مذاق ایک طرح کی تشہیر بن گیا اور لوگ اسے سنجیدہ فلم کے طور پر نہیں بلکہ ایک عجیب تجربے کے طور پر دیکھنے لگے۔ چینی ٹکٹنگ پلیٹ فارم ماؤیان کے مطابق فلم اب 14.9 ملین یوآن سے زیادہ کا کاروبار کرچکی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کے لیے بنائے گئے پوسٹر اور خود فلم کے درمیان بھی زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ فلم کا واحد معروف اشتہاری پوسٹر روایتی چینی سیاہی سے بنائی جانے والی خوبصورت مصوری کے انداز میں تیار کیا گیا تھا، لیکن جب لوگوں نے فلم دیکھی تو انہیں انتہائی سادہ اور کمزور اینیمیشن نظر آئی۔
فلم کے ڈسٹری بیوٹر نے بھی تسلیم کیا ہے کہ انہیں مشورہ دیا گیا تھا کہ فلم بہت خراب ہے اسے ریلیز نہ کریں، مگر وہ ڈائریکٹر کے دوست تھے اس لیے انہوں نے اسے ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا۔
اگرچہ کئی افراد نے فلم کے معیار پر سخت تنقید کی، لیکن کچھ ناظرین نے اس کے ہاتھ سے تیار کیے گئے سادہ انداز کو پسند بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب مصنوعی ذہانت چند سیکنڈ میں انتہائی شاندار تصاویر اور مناظر تیار کرسکتی ہے، ’نیو لائی‘ کی ہاتھ سے بنائی گئی محسوس ہونے والی شکل کچھ لوگوں کو منفرد لگی۔
دوسری جانب ایک فلمی صنعت سے وابستہ شخص نے فلم کے بارے میں زیادہ سخت رائے دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تقریباً ہر شعبے میں خامیاں ہیں، جن میں کہانی اور اسپیشل افیکٹس بھی شامل ہیں۔
یوں جس کمزوری کو فلم کی سب سے بڑی ناکامی سمجھا جا رہا تھا، وہی اس کی کامیابی کی وجہ بن گئی۔ لوگ ’نیو لائی‘ کو اس لیے نہیں دیکھ رہے کہ انہیں یہ اچھی فلم لگتی ہے بلکہ اس لیے ٹکٹ خرید رہے ہیں کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں کہ آخر یہ فلم واقعی کتنی خراب ہے۔
اس غیر معمولی صورتحال نے ’نیو لائی‘ کو چین کی باکس آفس دوڑ میں بڑی فلموں کے قریب پہنچا دیا ہے اور اسے اس وقت ’دی اوڈیسی‘ اور ’اسپائیڈر مین: برینڈ نیو ڈے‘ جیسی بڑی فلموں کے ساتھ بھی توجہ مل رہی ہے۔
فلم کی یہ کامیابی اس بات کی ایک دلچسپ مثال بن گئی ہے کہ کبھی کبھی شدید تنقید اور مذاق بھی کسی فلم کی سب سے مؤثر تشہیر ثابت ہوسکتے ہیں۔
























