پاکستانی اداکار سہیل سمیر کی شارٹ فلم ’دوسری عورت‘ کے بعض مناظر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آگئے ہیں۔۔ فلم میں سہیل سمیر کو اپنی ساتھی اداکارہ کے ساتھ انتہائی قریب دکھایا گیا ہے، جہاں بغل گیر ہونے اور بوسہ دینے کے مناظر کے ساتھ ایسے مکالمے بھی شامل ہیں جنہیں متعدد ناظرین نے نامناسب اور دوہرے معنی والا قرار دیا۔
منظر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں کچھ لوگوں نے اسے اداکاری اور کہانی کا حصہ قرار دیا، وہیں بڑی تعداد میں صارفین نے پاکستانی ڈراموں اور فلموں میں بڑھتی ہوئی بے باکی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
سہیل سمیر کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا ہے جو مختلف نوعیت کے کردار ادا کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ’سنو چندا‘ میں ان کی مزاحیہ اداکاری سے لے کر ’ڈائن‘ اور ’عشق ہوا‘ جیسے ڈراموں میں سنجیدہ کرداروں تک، وہ اپنی اداکاری کے مختلف رنگ دکھا چکے ہیں۔ تاہم ’دوسری عورت‘ کے اس منظر نے ان کی اداکاری سے زیادہ پاکستانی تفریحی مواد میں دکھائے جانے والے مناظر کے حوالے سے بحث کو جنم دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے کمنٹس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ناظرین کا ایک طبقہ اس منظر سے خاصا ناخوش ہے۔ ایک صارف نے اعتراض کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایسی چیزوں کو آہستہ آہستہ معمول بنایا جا رہا ہے اور اگر انہیں ابھی نہ روکا گیا تو مستقبل میں پاکستانی ڈرامے بھی دیکھنے کے قابل نہیں رہیں گے‘۔ اس رائے میں بنیادی تشویش یہ تھی کہ تفریحی مواد میں ایک خاص قسم کے مناظر بار بار دکھائے جانے سے وہ معاشرے میں قابل قبول سمجھے جانے لگ سکتے ہیں۔
ایک اور صارف نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے سہیل سمیر کے منظر کو بھارتی اداکار عمران ہاشمی کے انداز سے تشبیہ دی۔
ایک صارف نے شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے سنسر شپ پر سوال اٹھایا‘ اور ساتھ ہی کہا کہ شاید شرم و حیا کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ یہ تبصرہ دراصل اس طبقے کی نمائندگی کرتا ہے جو ایسے مناظر کو صرف اداکار کی ذمہ داری نہیں بلکہ پروڈیوسر، مصنف، ہدایت کار اور نشر کرنے والے پلیٹ فارم کی مشترکہ ذمہ داری سمجھتا ہے۔

اسی حوالے سے ایک اور تبصرے میں واضح طور پر کہا گیا کہ معاملہ صرف سہیل سمیر کے منظر تک محدود نہیں بلکہ اس میں اداکارہ، مصنف، ہدایت کار، پروڈیوسر اور چینل سمیت پورا تخلیقی اور نشر کرنے والا نظام شامل ہے۔ اس رائے کے مطابق کسی بھی متنازع منظر کی ذمہ داری صرف اسکرین پر نظر آنے والے اداکار پر ڈالنے کے بجائے اس کے پیچھے موجود پوری ٹیم کو بھی دیکھنا چاہیے۔

کچھ صارفین نے تو اس معاملے میں ’سخت کارروائی‘ کا مطالبہ بھی کیا۔ ایک کمنٹ میں کہا گیا کہ ایسی چیزوں کو کسی صورت معمول کا حصہ نہیں بننے دینا چاہیے، کیونکہ معاشرے میں پہلے ہی بہت سے ایسے رویے موجود ہیں جنہیں مزید فروغ دینے کی ضرورت نہیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر آنے والے تمام ردعمل منفی نہیں تھے۔ کچھ ناظرین ایسے مواد کو بدلتے ہوئے ڈرامائی رجحانات اور کہانی کی ضرورت کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی منظر کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت پوری کہانی، کرداروں اور فلم کے موضوع کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
’دوسری عورت‘ کے اس منظر نے ایک اہم سوال بھی دوبارہ سامنے لا دیا ہے کہ پاکستانی ڈراموں اور ڈیجیٹل پروڈکشنز میں رومانوی مناظر کی حدود کہاں تک ہونی چاہئیں۔ ایک طرف پروڈیوسرز اور فنکار نئی نسل کے ناظرین اور بدلتے ہوئے تفریحی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف پاکستانی معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اب بھی اسکرین پر ایسے مناظر کو ناپسند کرتا ہے اور مقامی ثقافتی اقدار کے مطابق مواد پیش کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
یوں ’دوسری عورت‘ کا یہ منظر محض ایک اداکاری کے منظر تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پاکستانی تفریحی صنعت میں مواد کے معیار، سماجی اقدار، فنکاروں کی ذمہ داری اور نشر کرنے والے اداروں کی نگرانی سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حتمی طور پر ناظرین کی رائے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے تبصرے واضح کرتے ہیں کہ پاکستانی ڈراموں اور شارٹ فلموں میں ایسے مناظر اب بھی عوامی سطح پر شدید بحث اور اختلاف کا باعث بنتے ہیں۔
























