بولی ووڈ اداکار اجے دیوگن کے ممبئی کے علاقے جوہو میں واقع بنگلے کے کچھ حصے مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مسمار کر دیے گئے۔ ممبئی کی بلدیاتی انتظامیہ کے مطابق بنگلے میں ضروری اجازت کے بغیر اندرونی تبدیلیاں اور دیگر تعمیراتی کام کیے جا رہے تھے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی تعمیراتی کام روکنے کا نوٹس جاری ہونے کے چند روز بعد کی گئی۔ بلدیاتی حکام کا کہنا ہے کہ نوٹس کے باوجود کام جاری رہا، جس پر متعلقہ حصوں کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجے دیوگن کے بنگلہ کا رقبہ 7 ہزار 802 مربع فٹ پر پھیلا ہوا ہے۔ بلدیاتی ادارے کے مطابق بنگلے کے اندرونی حصوں میں تبدیلیاں، دیواریں کھڑی کرنے، کھڑکیوں میں ردوبدل اور دیگر تعمیراتی کام کیے جا رہے تھے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ ان کاموں کے لیے ضروری بلدیاتی اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، ممبئی کی بلدیاتی انتظامیہ نے 10 ستمبر کو ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ کی دفعہ 354 اے کے تحت باضابطہ نوٹس جاری کیا تھا۔ اس میں تعمیراتی کام فوری طور پر روکنے اور متعلقہ اجازت نامے و دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اجے دیوگن ان دنوں ایک اور معاملے کی وجہ سے بھی خبروں میں ہیں۔ مہاراشٹر کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے الائچی کے اشتہار کے سلسلے میں اجے دیوگن، شاہ رخ خان اور ٹائیگر شروف کو وضاحت طلب نوٹس جاری کیا ہے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس اشتہار کے ذریعے کسی پابندی شدہ پروڈکٹ کی مبینہ طور پر تشہیر کی جا رہی ہے۔
ان تمام باتوں کے علاوہ اجے دیوگن کی فلمی محاذ پر کامیابی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان کی مشہور سسپنس تھرلر فرنچائز کی آخری قسط سنیما گھروں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اس نے عالمی باکس آفس پر چار سو کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کر لیا ہے۔
























