بھارتی گلوکار ہنی سنگھ سے دہلی میں ایک کنسرٹ کے دوران مبینہ طور پر نازیبا گفتگو کے معاملے پر مہاراشٹر سائبر پولیس نے دو گھنٹے سے زائد وقت تک پوچھ گچھ کی۔ گلوکار 16 اکتوبر کو تفتیشی افسران کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ معاملہ جنوری 2026 میں دہلی میں ہونے والے ایک کنسرٹ سے جڑا ہے۔ اس دوران ہنی سنگھ کے مبینہ نازیبا جملوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس پر لوگوں نے تنقید کی۔
بعد ازاں ممبئی کے ایک رہائشی نے اس حوالے سے سائبر پولیس میں شکایت درج کرائی، جس کے بعد گلوکار کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق، ویڈیو پر تنقید کے بعد ہنی سنگھ نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرکے اپنے الفاظ پر معذرت کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نوجوانوں، خصوصاً جنریشن زی، تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے ایسی زبان استعمال کرنے کی کوشش کی جو انہیں پسند آئے، لیکن انہیں احساس ہوا کہ ان کے الفاظ نامناسب تھے اور لوگوں کو ناگوار گزرے۔ گلوکار نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معافی مانگی تھی۔
سائبر سیل کے مطابق ہنی سنگھ اس سے پہلے بھی تین مرتبہ نوٹس ملنے کے باوجود بیرون ملک ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکے تھے۔ حال ہی میں پولیس کی طرف سے سخت ہدایت جاری کی گئی تھی کہ اگر وہ اس بار پیش نہ ہوئے تو ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔
جمعہ کے روز وہ مقررہ وقت پر پولیس کے سامنے پیش ہوئے اور پولیس نے ان سے تقریباً دو گھنٹے تک اس معاملے پر سوالات کیے۔
پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد ہنی سنگھ میڈیا کے سوالات کا جواب دیے بغیر وہاں سے روانہ ہو گئے۔
ہنی سنگھ کو اس سے پہلے اپنے گانے ’والیوم ون‘ کے بول کے معاملے پر بھی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اپریل 2026 میں دہلی ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی تھی کہ گانے کے لنکس سوشل میڈیا اور فائل شیئرنگ پلیٹ فارمز سے ہٹائے جائیں۔ عدالت نے گانے کے بول کو فحش، نازیبا اور خواتین کی توہین کرنے والا قرار دیا تھا۔
























