چاول اکثر گھروں میں روزانہ کھائے جانے والے کھانوں میں شامل ہیں۔ کبھی دال چاول تو کبھی بریانی اور پلاؤ، لیکن بہت کم لوگ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ چاول پکانے کا طریقہ ان کی غذائیت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ زیادہ تر گھروں میں وقت کی بچت کے پیشِ نظر پریشر کُکر کا استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ بہت سے لوگ آج بھی روایتی طریقے سے پتیلے میں چاول ابال کر ان کا اضافی پانی نکال دیتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ان دونوں طریقوں میں سے صحت کے لیے کون سا بہتر ہے؟ کیا پانی نکالنے سے چاول میں نشاستہ کم ہوجاتا ہے؟ کیا کُکر میں پکانے سے زیادہ غذائیت محفوظ رہتی ہے؟ ماہرین کے مطابق، اس کا جواب چاول کی قسم، پانی کی مقدار اور پکانے کے طریقے پر منحصر ہے۔ کسی ایک طریقے کو ہر شخص کے لیے سب سے بہتر قرار نہیں دیا جاسکتا۔
پریشر کُکر میں چاول تیار کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں وقت کم لگتا ہے اور چاول پانی کے اندر ہی پکتے ہیں، جس کی وجہ سے اس میں موجود اسٹارچ اور پانی میں حل ہونے والے ضروری غذائی اجزا ضائع نہیں ہوتے۔
چاول پکاتے وقت ان میں موجود کچھ نشاستہ اور پانی میں حل ہونے والے غذائی اجزا پانی میں شامل ہوجاتے ہیں۔ جب یہی پانی چاولوں میں رہتا ہے تو ان اجزا کا کچھ حصہ بھی کھانے میں شامل رہتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر پکنے کے بعد پانی پھینک دیا جائے تو ان میں سے کچھ اجزا ضائع ہوسکتے ہیں۔
تاہم، کُکر میں پکانے کا یہ مطلب نہیں کہ چاول خود بخود زیادہ غذائیت والے یا کم کیلوریز والے ہوجاتے ہیں۔ چاول کی قسم، استعمال ہونے والی مقدار اور پانی کی مقدار بھی اہم ہوتی ہے۔
چاول اُبال کر اضافی پانی نکالنے سے کیا ہوتا ہے؟
اس طریقے میں چاولوں کو کافی پانی میں اُبالا جاتا ہے اور جب وہ پک جاتے ہیں تو بچا ہوا پانی نکال دیا جاتا ہے۔ اس پانی کے ساتھ چاول کا کچھ نشاستہ بھی نکل سکتا ہے۔ اس کے دوران پانی میں حل ہونے والے وٹامنز اور دیگر غذائی اجزا بھی کم ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ اس طریقے سے چاول ہر لحاظ سے زیادہ صحت بخش ہوجاتے ہیں۔ گیس یا پیٹ پھولنے کی شکایت لازماً ختم ہوجاتی ہے۔ ہاضمے پر چاول کی قسم، کھانے کی مقدار اور ہر شخص کی اپنی صحت کا بھی اثر پڑتا ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کون سا طریقہ بہتر ہے؟
ذیابیطس کے مریضوں کو چاول کھاتے وقت خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کھانے کے بعد ان کی بلڈ شوگر کتنی بڑھتی ہے۔ چاول میں نشاستہ ہوتا ہے، جو ہضم ہونے کے بعد گلوکوز میں تبدیل ہوتا ہے اور خون میں شوگر کی سطح بڑھا سکتا ہے۔
چاول کا بلڈ شوگر پر اثر ان کی قسم، پکنے کی حالت اور کھائی جانے والی مقدار کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔ پانی نکالنے سے کچھ نشاستہ کم ہوسکتا ہے، لیکن اس سے بلڈ شوگر میں کتنی کمی آئے گی، اس کی کوئی ایک مقدار ہر صورت کے لیے مقرر نہیں کی جاسکتی۔
اس لیے ذیابیطس کے مریض صرف چاول پکانے کے طریقے پر انحصار نہ کریں۔ مناسب مقدار میں چاول کھائیں اور ان کے ساتھ دال، سبزیاں، دہی یا پروٹین والی دوسری غذائیں شامل کریں۔ اس طرح کھانے میں مختلف غذائی اجزا شامل ہوں گے اور صرف چاول کھانے کے مقابلے میں غذا زیادہ متوازن ہوگی۔
چاول پکانے کے بعد انہیں ٹھنڈا کرنے سے ان میں ایک خاص قسم کا نشاستہ بڑھ سکتا ہے جسے ریزسٹنٹ اسٹارچ کہا جاتا ہے۔ یہ نشاستہ چھوٹی آنت میں عام نشاستے کی طرح مکمل طور پر ہضم نہیں ہوتا اور اس کا کچھ حصہ بڑی آنت تک پہنچ جاتا ہے، جہاں آنتوں میں موجود مفید جراثیم اسے استعمال کرسکتے ہیں۔
کچھ تحقیقات میں دیکھا گیا ہے کہ ٹھنڈے کرکے دوبارہ گرم کیے گئے چاول کھانے سے بلڈ شوگر کے ردعمل میں فرق پڑ سکتا ہے۔ تاہم، یہ کہنا درست نہیں کہ اس طریقے سے چاول کی کیلوریز ہمیشہ 15 سے 20 فیصد کم ہوجاتی ہیں۔ اس کا اثر چاول کی قسم اور انہیں پکانے اور ٹھنڈا کرنے کے طریقے پر منحصر ہوتا ہے۔
یہاں صفائی اور حفاظت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ پکے ہوئے چاول کمرے کے درجہ حرارت پر دیر تک چھوڑنے سے ان میں نقصان دہ جراثیم بڑھ سکتے ہیں۔ چاول پکنے کے بعد انہیں جلد ٹھنڈا کرکے فریج میں رکھیں اور کھانے سے پہلے اچھی طرح گرم کریں۔ صرف دوبارہ گرم کرنا ان چاولوں کو محفوظ نہیں بناتا جو پہلے ہی طویل وقت تک باہر پڑے رہے ہوں۔
چاول پکاتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟
چاول پکانے سے پہلے انہیں صاف پانی سے دھونا بہتر ہے۔ اس سے سطح پر موجود گردوغبار اور کچھ اضافی نشاستہ دور ہوسکتا ہے۔ چاول بھگونے سے پکنے کا وقت کم ہوسکتا ہے، جبکہ دھونے، بھگونے اور زیادہ پانی میں پکانے سے چاول میں موجود آرسینک کی مقدار بھی کچھ کم ہوسکتی ہے۔ آرسینک ایک ایسا مادہ ہے جو قدرتی طور پر مٹی اور پانی میں پایا جاسکتا ہے اور چاول میں بھی موجود ہوسکتا ہے۔ اس میں کتنی کمی آئے گی، یہ چاول کی قسم اور پکانے کے طریقے پر منحصر ہے۔
چاول میں گھی یا زیرہ ڈالنے سے ذائقہ بہتر ہوسکتا ہے، لیکن صرف یہ چیزیں شامل کرنے سے بلڈ شوگر پر چاول کا اثر ختم نہیں ہوجاتا۔
اگر آپ وقت بچانا چاہتے ہیں اور چاول کے ساتھ پکانے کے پانی میں موجود اجزا بھی کھانا چاہتے ہیں تو کُکر میں پکانا ایک آسان طریقہ ہے۔ دوسری طرف، زیادہ پانی میں چاول اُبال کر پانی نکالنا بھی ایک قابلِ قبول طریقہ ہے، لیکن اس سے کچھ غذائی اجزا ضائع ہوسکتے ہیں۔
وزن کم کرنے یا ذیابیطس کو قابو میں رکھنے کے لیے سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ کتنے چاول کھاتے ہیں، کس قسم کے چاول استعمال کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کیا کھاتے ہیں۔ چاول کو مکمل طور پر چھوڑنا ضروری نہیں؛ مناسب مقدار میں انہیں متوازن غذا کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
























