نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی مہم کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشی گن آمد پر مشہور پاپ اسٹار نکی مناج نے بطور خاص شرکت کی، تاہم اس تقریب کے دوران صدر ٹرمپ کا ایک متنازع بیان اور اس پر معافی کا واقعہ ملکی سیاست میں نئی بحث کا پیش خیمہ بن گیا ہے۔

اتوار کے روز پورٹ ہورون میں منعقدہ اس پُرجوش اجتماع کے دوران جہاں نکی مناج نے سنہرے برانڈڈ سوٹ میں شرکا سے ریپبلکن امیدواروں کے حق میں نعرے لگوائے، وہیں صدر ٹرمپ نے اپنی روایتی بے باک اور نکتہ چین اندازِ گفتگو میں حد سے تجاوز کرتے ہوئے پاپ اسٹار کے بارے میں ایک نازیبا جملہ کہہ ڈالا۔

تاہم، بعد میں ٹرمپ نے نکی مناج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئےامید ظاہر کی کہ انہیں برا نہیں لگا ہوگا۔

انتخابی جلسے کے دوران صدر ٹرمپ کا یہ ناگفتہ بہ جملہ اس وقت سامنے آیا جب وہ اوہائیو سے ریپبلکن سینیٹر جان ہوسٹڈ کے فٹبال کیریئر کے پس منظر میں اپنے سابقہ تبصروں کی وضاحت کر رہے تھے، جن میں انہوں نے سینیٹر کے جسمانی خد و خال اور فٹنس کے حوالے سے مبینہ ہلکے پھلکے انداز میں بات کی تھی۔

اسی وضاحت کے دوران صدر ٹرمپ نے نکی مناج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک خوبصورت جسمانی توازن دیکھا ہے اور نکی مناج سے نظر ہٹانا مشکل ہے۔

ان ریمارکس کے فوراً بعد انہوں نے اپنے روایتی انداز کو بدلتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ نکی مناج اس پر برا نہیں مانیں گی کیونکہ وہ ان کی پرانی حامی ہیں اور ان کی قدر کرتی ہیں۔

اس تقریب کے دوران جہاں نکی مناج ایئر فورس ون کے ذریعے صدر کے ساتھ سفر کرنے اور وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری کے عہدے کے لیے فرضی انٹرویو کی ویڈیو بنانے کے باعث بھی خبروں کی زینت بنیں، وہیں سیاسی محاذ پر انتخابی مہم انتہائی تلخ موڑ پر پہنچ چکی ہے۔

مشی گن میں سینیٹ کی سیٹ کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار عبداللہ السید اور ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے درمیان کانٹے دار مقابلہ جاری ہے اور انتخابات میں محض ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے۔ اس اہم معرکے کے پیش نظر سابق صدر باراک اوباما نے بھی ہفتے کے روز ڈیموکریٹک امیدوار کے حق میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کیا تھا۔

جلسے کے دوران صدر ٹرمپ نے عبداللہ السید کے مسلمان عقیدے اور پس منظر کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اگر وہ کامیاب ہوئے تو امریکا میں شدت پسندوں کو دعوت دیں گے۔

صدر نے اپنے اسلامو فوبک بیانیے کو دہراتے ہوئے یہاں تک کہا کہ وہ واحد سینیٹر ہوں گے جنہیں سینٹ میں داخلے سے قبل میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنا پڑے گا۔

دوسری جانب عبداللہ السید صدر ٹرمپ کے ایسے بیانات کی شدید مذمت کر چکے ہیں اور ووٹرز کے لیے جاری کردہ اپنے ایک اشتہار میں مؤقف اپنا چکے ہیں کہ صدر ان کے نام اور مذہب کو مہنگائی اور عوام کو درپیش بنیادی معاشی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

More

Comments
1000 characters