پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی جانب سے پیش کیا جانے والا نیا شاہکار ڈرامہ سیریل ”درِ نجات“ اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ سرحد پار بھارت میں بھی مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ معروف مصنفہ عمیرہ احمد کے قلم سے تحریر کردہ اور ثاقب خان کی ہدایت کاری میں بننے والے اس ڈرامے نے اپنی جاندار کہانی، نفسیاتی کشمکش اور بااثر کردار نگاری کے باعث شائقین کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔

ڈرامے کی سب سے بڑی کامیابی اس کے دو مرکزی کرداروں ابوبکر (شہریار منور) اور زامل (نمیر خان) کے درمیان دکھایا جانے والا گہرا تضاد ہے۔

ابوبکر ایک بااخلاق، پرسکون، مذہبی اور سنجیدہ نوجوان ہے جس کی پرورش اس کی والدہ خوش بخت (ثانیہ سعید) نے اعلیٰ اقدار اور دیانت داری کے ساتھ کی ہے۔ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہنے والا ایسا کردار ہے جو شائستگی اور سچائی کی علامت بن کر ابھرا ہے۔

دوسری جانب زامل ایک امیر گھرانے کا بگڑا ہوا، جذباتی عدم استحکام اور شدید الجھنوں کا شکار نوجوان ہے۔ اپنی منگیتر زریاب (درِ فشاں سلیم) سے شدید وابستگی کے باوجود اس کا ضدی اور زہریلا رویہ اس کے تمام رشتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر AbuBakarVsZamil# کا ہیش ٹیگ مسلسل ٹرینڈ کر رہا ہے۔ خاص طور پر وہ مناظر جن میں ابوبکر نے زامل کے خود غرضانہ رویے اور غلط فہمیوں کا دلیری اور وقار کے ساتھ مقابلہ کیا، ان کے ویڈیو کلپس ملینز کی تعداد میں دیکھے جا رہے ہیں۔

”درِ نجات“ اس وقت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت میں بھی بلاک بسٹر ریٹنگ حاصل کر رہا ہے۔ بھارتی ڈرامہ بین، ری ایکشن یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا صارفین ابوبکر اور زامل دونوں کرداروں کی اداکاری کی زبردست تعریفیں کر رہے ہیں۔

بھارتی صارفین ابوبکر (شہریار منور) کی شرافت، پروقار انداز اور پرسکون اندازِ گفتگو کو بے حد پسند کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر لوگ اسے ایک ”مثالی کردار“ قرار دے رہے ہیں۔

زامل (نمیر خان) کے کردار کو ایک ”ریڈ فلیگ“ (زہریلا اور ضدی رویہ) دکھایا گیا ہے، لیکن بھارتی مداحوں نے نمیر خان کی جاندار اداکاری کو خوب سراہا ہے۔

یوٹیوب پر نشر ہونے والی اقساط پر ہزاروں بھارتی صارفین تبصرے کر رہے ہیں، جن میں خاص طور پر عمیرہ احمد کے عمدہ ڈائیلاگز اور ابوبکر کا زریاب کو عزت و تحفظ دینے کا انداز سراہا جا رہا ہے۔

اس ڈرامے کی بے پناہ مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے علاوہ اب یہ ڈرامہ عرب ممالک کے لیے ایم بی سی بالی ووڈ پر عربی زبان میں بھی ڈب ہو کر نشر کیا جا رہا ہے۔

ڈرامے کی کہانی ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والی زریاب (درِ فشاں سلیم) کی زندگی کے ارد گرد گھومتی ہے جو ابتدائی طور پر زامل سے منگنی کے بندھن میں بندھی ہوتی ہے۔ تاہم، زامل کے خود غرضانہ رویے اور اذیت ناک شکوک زریاب کو ذہنی طور پر نڈھال کر دیتے ہیں۔

حالات ایسا موڑ لیتے ہیں کہ زریاب اور ابوبکر کا نکاح ہو جاتا ہے۔ ابوبکر کا صبراور تحفظ پسندانہ انداز زریاب کو ایک نئی زندگی اور امید فراہم کرتا ہے۔

زامل اس نکاح کو تسلیم نہیں کر پاتا اور دونوں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی مسلسل کوششیں کرتا ہے۔ حال ہی میں دکھائی جانے والی اقساط میں ابوبکر نےزامل کے تمام ہتھکنڈوں کا بڑی دانشمندی سے جواب دیتے ہوئے اسے اپنے اور اس کے اخلاقی فرق سے روشناس کرایا ہے۔

جہاں زریاب اور ابوبکر ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں حمنا (رومیسہ خان) کا کردار اور ماضی کے کچھ ڈھکے چھپے حقائق زریاب اور ابوبکر کے رشتے کے لیے نئے امتحانات پیدا کر رہے ہیں۔

ڈرامے کی موجودہ کہانی میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ زریاب اور ابوبکر کا رشتہ کس سمت جائے گا اور زامل اپنے ماضی کے فیصلوں کو قبول کرکے آگے بڑھ سکے گا یا نہیں۔ ابوبکر کی خاموشی اور تحمل کے مقابلے میں زامل کی بے چینی نے دونوں کرداروں کے درمیان فرق کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

”درِ نجات“ محض ایک روایتی کہانی نہیں بلکہ نفسیاتی الجھنوں، صبر اور روحانی نجات کی ایک بہترین عکاسی ہے۔ ابوبکر اورزامل کے متضاد کرداروں نے معاشرے کی دو مختلف سوچوں کو اجاگر کیا ہے، جس کی بدولت یہ ڈرامہ مداحوں کے دلوں پر راج کر رہا ہے۔

More

Comments
1000 characters