لاہور کی گلیوں میں ایک نارویجین گلوکار کی پاکستانی موسیقی سے قربت سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ولیم گیمبورگ کی ویڈیوز میں کہیں مقامی بچوں کے ساتھ گائیکی کی محفل دکھائی دیتی ہے تو کہیں وہ پاکستانی گانوں میں اس قدر ڈوبے نظر آتے ہیں کہ دیکھنے والے ان کے انداز پر تبصرے کیے بغیر نہیں رہ پاتے۔
ولیم اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لاہور میں گزارے گئے وقت کی جھلکیاں مسلسل شیئر کر رہے ہیں۔ ان ویڈیوز میں شہر کی سڑکیں، چنگچی رکشے کی سواریاں اور پس منظر میں بجتے پاکستانی گانے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا بے تکلف انداز اور مقامی ماحول میں گھل مل کر وقت گزارنے کی جھلکیاں دیکھنے والوں کے لیے دل چسپی کا باعث بن رہی ہیں۔
ولیم کی ویڈیوز میں خاص توجہ ان کی گائیکی نے حاصل کی ہے۔ وہ لاہور کے علاقے کرشن نگر میں قائم سُرتال میوزک اکیڈمی کے بچوں کے ساتھ پاکستانی گلوکار علی رضا کے گانے پر پرفارم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گاتے ہوئے ان کے تاثرات اور انداز بھی نمایاں ہیں، جس پر سوشل میڈیا صارفین ان کی گائیکی کو سراہ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو شیئر کرنے والے ایک صارف نے ولیم کی گائیکی کو سراہتے ہوئے لکھا کہ وہ گانے میں اس قدر ڈوب کر اور تاثرات کے ساتھ پرفارم کر رہے ہیں کہ دیکھنے والا بھی محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صارف نے مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا کہ پاکستانیوں نے گورے کو بھی رانجھا بنا دیا ہے۔
ولیم کی مقبولیت کا ایک اور دل چسپ پہلو لاہور کے بچوں کے ساتھ ان کی گائیکی ہے۔ وہ مقامی بچوں کے ساتھ اردو اور پنجابی گانوں پر گاتے دکھائی دیتے ہیں۔
ان ویڈیوز میں ولیم کے ساتھ بچوں کی آوازیں بھی توجہ حاصل کر رہی ہیں، جب کہ ان کی مشترکہ پرفارمنس پر سوشل میڈیا صارفین بھی تبصرے کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ولیم لاہور کے بچوں کے ساتھ مل کر چھائے ہوئے ہیں۔
ایک اور صارف نے ولیم کی ویڈیوز کی مقبولیت پر مزاحیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پہلے ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر چند سو ویوز آتے تھے، لیکن اب ان کی ویڈیوز پر لاکھوں اور ملینز میں ویوز اور لائکس کی بات ہو رہی ہے۔ صارف نے اس تبدیلی کو لاہور کی مہربانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شاید یہ شہر انہیں راس آ گیا ہے۔
ولیم گیمبورگ کا تعلق ناروے سے ہے، جہاں وہ گلوکار، نغمہ نگار اور ڈانسر کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ ان کا فن صرف گلوکاری تک محدود نہیں، بل کہ ڈانس بھی ان کی فنی شناخت کا اہم حصہ ہے۔
انہوں نے کم عمری میں ڈانس اور ٹیلی وژن پروگراموں میں حصہ لینا شروع کیا اور 2014ء میں ناروے کے ٹیلنٹ شو ’’نورسکے ٹیلنٹر‘‘ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
ڈانس کے شعبے میں کام کرنے کے بعد ولیم نے اپنی انفرادی موسیقی پر توجہ دی۔ 2021ء میں ان کا پہلا سنگل ’’سورینگا‘‘ ریلیز ہوا، جس کے ذریعے انہوں نے گلوکاری اور گیت نگاری کے میدان میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔
ان کی موسیقی میں پاپ اور آر اینڈ بی سمیت مختلف اصناف کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے 2022ء میں ناروے کے موسیقی کے ادارے ’’لمپی‘‘ سے تعلیم مکمل کی اور اپنی موسیقی کے ذریعے بھی پہچان بنائی۔ ان کے گانوں میں ’’ہولڈر ایگن‘‘ اور ’’اوپرمیرک سوم ہیٹ‘‘ بھی شامل ہیں۔
ولیم ناروے کے معروف ڈانس گروپ ’’کوئیک اسٹائل‘‘ سے بھی وابستہ رہے ہیں، جس نے ڈانس کے منفرد انداز کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی۔ رقص اور موسیقی کے اس تجربے نے انہیں ایک ایسے پرفارمر کے طور پر شناخت دی جو گائیکی کے ساتھ اپنے تاثرات اور اندازِ پرفارمنس سے بھی سامعین کو متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم لاہور میں ان کی حالیہ سرگرمیوں میں ان کی شخصیت کا ایک مختلف رخ نمایاں ہے۔ یہاں وہ اپنے گانوں کے بجائے پاکستانی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے، اردو اور پنجابی گیت گاتے اور مقامی بچوں کے ساتھ پرفارم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ چنگچی رکشے میں لاہور کی سیر اور پاکستانی گانوں پر ان کی گائیکی کی ویڈیوز نے انہیں سوشل میڈیا پر ایک نئے انداز میں متعارف کرایا ہے۔
ولیم کی ویڈیوز پر سامنے آنے والے تبصروں میں ان کی گائیکی، گانے کے دوران تاثرات، لاہور میں ان کے بے تکلف انداز اور بچوں کے ساتھ ان کی پرفارمنس کا ذکر نمایاں ہے۔ ان ویڈیوز میں لاہور کی روزمرہ زندگی اور پاکستانی موسیقی ایک ساتھ دکھائی دیتی ہیں، جب کہ ولیم کا انداز یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ اس ماحول سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
لاہور کی گلیوں میں چنگچی رکشے کی سواری سے لے کر بچوں کے ساتھ پاکستانی گانے گانے تک، ولیم گیمبورگ کی ویڈیوز نے ان کے سوشل میڈیا مواد میں ایک نیا رنگ شامل کیا ہے۔ لاہور میں سرگرمیاں اب ان کی گائیکی اور پرفارمنس کے ساتھ ساتھ پاکستانی موسیقی سے ان کی دل چسپی کے حوالے سے بھی دیکھی جا رہی ہیں۔
ولیم گیمبورگ کی بچوں کے ساتھ گاتے اور جھومتے ہوئے حالیہ وائرل ویڈیوز دیکھ کر وہ وقت بھی یاد آتا ہے جب استاد نصرت فتح علی خان کی قوالی پر مغربی سامعین بھی جھوم اٹھتے تھے۔
1985 میں برطانیہ کے ڈبلیو او ایم اے ڈی فیسٹیول میں نصرت فتح علی خان کی پرفارمنس نے مغربی دنیا میں ان کی موسیقی کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ زبان سے ناواقف سامعین بھی ان کی آواز، سروں کے اتار چڑھاؤ اور قوالی کی تھاپ سے محظوظ ہوتے دکھائی دیتے تھے۔
آج ولیم کی پاکستانی گانوں پر گائیکی کی ویڈیوز ایک بار پھر اس بات کی یاد دلاتی ہیں کہ موسیقی کی زبان سمجھنے کے لیے الفاظ کا سمجھنا ہمیشہ ضروری نہیں ہوتا۔
























