مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں
دنیا بھر میں ہونے والی طبی اور آبادیاتی تحقیقات ایک طویل عرصے سے اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ خواتین کی اوسط عمر مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار بھی اس فرق کی تصدیق کرتے ہیں، جبکہ نئی تحقیق نے اس کے پیچھے موجود حیاتیاتی، معاشرتی اور طرزِ زندگی سے جڑے عوامل کو مزید نمایاں کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر مرد خواتین کے مقابلے میں کم عمر کیوں پاتے ہیں؟
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق، برطانیہ میں مرد اوسطاً خواتین سے چار سال پہلے وفات پاتے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2024 میں برطانوی مردوں کی اوسط عمر 79.1 سال جبکہ خواتین کی 83 سال تھی۔ عالمی سطح پر بھی یہ فرق بڑھا ہے۔ 1950 میں مرد خواتین کے مقابلے میں اوسطاً 3.3 سال پہلے وفات پاتے تھے، جبکہ اب یہ فرق 4.8 سال تک پہنچ چکا ہے۔
اس مسئلے کی وجوہات جاننے کے لیے طبی جریدے ”دی لینسیٹ“ میں 18 اکتوبر 2025 کو شائع ہونے والی عالمی تحقیق میں 204 ممالک اور علاقوں کے 1950 سے 2023 تک کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا، جس میں مردوں اور خواتین کی اوسط عمر اور شرحِ اموات کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔
یونیورسٹی آف شیفیلڈ سے وابستہ محقق اور یورولوجسٹ پروفیسر جیمز کیٹو کے مطابق، اس فرق کی وجوہات پیچیدہ ہیں اور ان میں حیاتیاتی عوامل کے ساتھ معاشرتی اور ثقافتی رویے بھی شامل ہیں۔
تحقیق کے مطابق مردوں کی صحت کو درپیش بعض خطرات کا تعلق ان کے جینیاتی نظام سے بھی ہے، تاہم ماہرین کے خیال میں مردوں اور خواتین کی اوسط عمر کے فرق میں اس کا کردار اتنا بڑا نہیں جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔
خواتین میں دو ایکس کروموسوم ہوتے ہیں، جبکہ مردوں میں ایک ایکس اور ایک وائی کروموسوم ہوتا ہے۔ خواتین میں موجود دوسرا ایکس کروموسوم بعض موروثی بیماریوں کے خلاف اضافی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ اسی طرح مدافعتی نظام کے فرق کے باعث بھی مرد بعض انفیکشنز کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔
محققین کے مطابق کووڈ 19 اور ٹی بی سے مردوں کی زیادہ اموات میں مدافعتی نظام کا فرق بھی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتا ہے۔ تاہم مردوں میں خواتین کے مقابلے میں کم اوسط عمر کی وضاحت صرف جینز یا ہارمونز سے نہیں کی جا سکتی۔
تحقیق میں سگریٹ نوشی، شراب نوشی، روزگار کے مواقع اور علاج معالجے تک رسائی جیسے عوامل کو بھی زیادہ اہم قرار دیا گیا ہے۔
بیماری کی علامات چھپانا بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے
مردوں میں صحت کے مسائل کو نظرانداز کرنے اور ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں تاخیر کا رجحان بھی تشویش کا باعث ہے۔ بعض مرد اپنی بیماری یا جسمانی مسائل پر بات کرتے ہوئے جھجک محسوس کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مرض کی تشخیص اور علاج میں دیر ہو سکتی ہے۔
پروفیسر جیمز کیٹو کے مطابق، بعض مرد پروسٹیٹ کینسر کے معائنے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ انہیں طبی معائنے کے طریقہ کار پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح پیشاب یا جنسی صحت سے متعلق مسائل پر بھی وہ کھل کر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔
غربت، مالی پریشانی کا دباؤ اور بے روزگاری بھی عمر کم کرنے کا سبب
تحقیق میں معاشی حالات کو بھی مردوں کی صحت اور اوسط عمر پر اثر انداز ہونے والا اہم عنصر قرار دیا گیا ہے۔
پروفیسر جیمز کیٹو نے برطانوی شہر شیفیلڈ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں ایک بس روٹ کے مختلف علاقوں میں رہنے والے افراد کی اوسط عمر میں تقریباً 20 سال کا فرق پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان علاقوں کے معاشی حالات اور معیارِ زندگی میں فرق ہے۔
ان کے مطابق غربت اور بے روزگاری مردوں کو خاص طور پر متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ بہت سے معاشروں میں مرد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مضبوط رہے، اپنے مسائل خود حل کرے اور خاندان کی مالی ذمہ داریاں اٹھائے۔
جب کوئی مرد بے روزگاری یا مالی مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو یہ توقعات اس کے ذہنی دباؤ میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔ بچپن سے دیکھے جانے والے مردانہ کردار اور معاشرتی روایات بھی اس سوچ کو مضبوط کرتی ہیں۔
سگریٹ نوشی اور بری عادات بھی خطرناک ہیں
تحقیق میں سگریٹ نوشی اور ڈرگ کی عادات کو بھی مردوں کی صحت کے لیے نقصان دہ عوامل میں شامل کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ عادات مرد و خواتین دونوں کی صحت کو متاثر کرتی ہیں، لیکن محققین کے مطابق بعض معاشروں میں یہ مردوں کی سماجی زندگی اور میل جول کا زیادہ نمایاں حصہ بن چکی ہیں۔
پروفیسر جیمز کیٹو کا کہنا ہے کہ فلموں اور دیگر تفریحی ذرائع میں مردانہ ہیرو کو اکثر طاقتوراور ڈرگ ایڈکٹڈ کردار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس سے مردانگی کا ایک ایسا تصور فروغ پاتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اس حوالے سے برطانوی محققین نے 2013 میں مصنف ایان فلیمنگ کے لکھے ہوئے جیمز بانڈ کے تمام 14 ابتدائی ناولوں کا جائزہ لیا تھا۔ محققین کے مطابق اگر جیمز بانڈ حقیقی زندگی میں موجود ہوتا تو اس کی شراب نوشی کی عادت کے باعث وہ جگر کی بیماری سے تقریباً 56 سال کی عمر میں وفات پا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ اسے کم عمری میں یادداشت اور دماغی صلاحیتوں کی خرابی سمیت دیگر بیماریوں کا بھی خطرہ ہوتا۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تمباکو اور شراب بنانے والی کمپنیاں بعض اوقات کم آمدنی والے طبقوں اور مخصوص مردوں کو اپنی مصنوعات کی تشہیر کے ذریعے ہدف بناتی ہیں۔
اسی طرح برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج کی ایک تحقیق میں سامنے آیا کہ آئرلینڈ میں فیس بک اور انسٹاگرام پر جوئے کے اشتہارات خواتین کے مقابلے میں مردوں تک 2.3 گنا زیادہ پہنچے۔ ان اشتہارات میں سے 22 فیصد خاص طور پر مردوں کو ہدف بنا کر تیار کیے گئے تھے، جبکہ کوئی اشتہار صرف خواتین کو ہدف بنا کر نہیں بنایا گیا تھا۔
محققین کے مطابق کھیلوں، خصوصاً فٹ بال کے مقابلوں کے دوران بھی جوئے کا بڑھتا ہوا رجحان تشویش کا باعث ہے۔ میچ دیکھتے ہوئے شرط لگانے کی عادت بعض افراد کو قرض، مالی تباہی اور ذہنی صحت کے مسائل تک پہنچا سکتی ہے۔
تحقیق میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر موجود بعض ایسے گروپس کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو مردوں کو طاقت، دوسروں پر غلبے اور ہر مسئلے کا خود مقابلہ کرنے کا تصور دیتے ہیں۔
ان آن لائن حلقوں کو مجموعی طور پر ’مینوسفیئر‘ کہا جاتا ہے۔ ان میں بعض پوڈکاسٹرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز خواتین اور حقوقِ نسواں کی تحریک کے خلاف بات کرتے ہوئے مردوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ ان کی مشکلات کی ذمہ دار خواتین، حکومت یا معاشرہ ہے۔
پروفیسر جیمز کیٹو کے مطابق، اسکول میں اچھی کارکردگی نہ دکھانے، کم آمدنی والی ملازمت کرنے یا بے روزگاری کا سامنا کرنے والے نوجوان لڑکے ان گروپس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسے نوجوان پہلے ہی سماجی تنہائی اور مایوسی کا شکار ہوتے ہیں اور یہ آن لائن حلقے انہیں اپنی مشکلات کا ایک مخصوص حل پیش کرتے ہیں، جو بعض اوقات ان کے غصے اور معاشرتی دوری میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔
تنہائی مردوں کی زندگی کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے؟
تحقیق میں سماجی تنہائی کو بھی مردوں کی قبل از وقت موت کی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔ خاندان، دوستوں اور دیگر قریبی افراد سے رابطہ کم ہونے کے باعث مرد ذہنی دباؤ اور دیگر صحت کے مسائل کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔
اس حوالے سے 2025 میں کی گئی ایک تحقیق میں برطانیہ کے 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق سماجی طور پر تنہا مردوں میں قبل از وقت موت کا خطرہ 41 فیصد زیادہ تھا، جبکہ تنہائی کا شکار خواتین میں یہ خطرہ 25 فیصد زیادہ پایا گیا۔
پروفیسر جیمز کیٹو کا کہنا ہے کہ مردوں کو اپنی بیماریوں اور پریشانیوں پر کھل کر بات کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ ان کے مطابق خواتین میں کسی بیماری کی تشخیص ہونے پر اکثر دوسری خواتین کی جانب سے ہمدردی اور مدد کا اظہار کیا جاتا ہے، لیکن مردوں کو ہمیشہ اسی طرح کی سماجی حمایت نہیں ملتی۔
ان کا کہنا ہے کہ پروسٹیٹ کینسر سے متعلق آگاہی کے لیے کام کرنے والے اداروں اور فٹ بال کلبوں کی کوششوں سے مردوں کو اپنی صحت کے مسائل پر بات کرنے کی ترغیب مل رہی ہے۔
مرد اپنی زندگی کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟
محققین کے مطابق مردوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے حکومتوں اور اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صحت کی پالیسیوں میں مردوں کو درپیش مخصوص مسائل کو اہمیت دینا، بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج کی سہولتوں تک آسان رسائی یقینی بنانا ضروری ہے۔
تاہم انفرادی سطح پر بھی مرد اپنی عادات میں تبدیلی لا کر صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ پروفیسر جیمز کیٹو نے خود بھی اس تحقیق کے بعد اپنی صحت پر زیادہ توجہ دینا شروع کردی ہے۔ وہ کولیسٹرول قابو میں رکھنے کے لیے دوا استعمال کر رہے ہیں، ورزش اور دوڑنے کی سرگرمیاں بڑھا چکے ہیں، خوراک کا خیال رکھتے ہیں اور شراب نوشی میں کمی کر رہے ہیں۔
ان کا مشورہ ہے کہ مرد اپنی صحت کو نظرانداز نہ کریں، دوستوں اور خاندان کے ساتھ تعلقات مضبوط رکھیں، سوشل میڈیا پر کم وقت گزاریں اور جسمانی یا ذہنی مسائل پر بات کرنے میں جھجک محسوس نہ کریں۔
والدین کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کی بہتر تربیت کے لیے خود ایک اچھا نمونہ بنیں، ان سے کھل کر بات کریں اور گھر کی ذمہ داریوں میں خواتین کے ساتھ برابر کا حصہ ڈالیں۔
تحقیق کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ مردوں کی صحت اور عمر میں بہتری کے لیے صرف طبی سہولتیں کافی نہیں بلکہ ان کے طرزِ زندگی، معاشرتی رویوں اور مردانگی کے روایتی تصورات میں بھی مثبت تبدیلی ضروری ہے۔
























