گھر میں چھوٹے بچے ہوں تو دیواروں کو صاف ستھرا رکھنا والدین کے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں۔ کبھی بچے پنسل سے دیوار پر تصویریں بنا دیتے ہیں، کبھی رنگین کریون سے نقش و نگار بناتے ہیں تو کبھی ان کے چکنے اور گندے ہاتھوں کے نشان دیواروں پر پڑ جاتے ہیں۔ ایسے داغ گھر کی خوبصورتی متاثر کرتے ہیں، لیکن انہیں صاف کرنے کے لیے ہر بار دوبارہ پینٹ کروانا ضروری نہیں۔

گھریلو استعمال کی چند عام چیزوں کی مدد سے دیواروں پر موجود کئی نشانات صاف کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم صفائی شروع کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ دیوار پر کس قسم کا پینٹ کیا گیا ہے، کیونکہ ہر پینٹ پانی اور صفائی کے محلول کو ایک جیسا برداشت نہیں کرتا۔

پنسل کے نشانات دور کرنے کا آسان طریقہ

دیوار پر پنسل کے ہلکے نشانات ہوں تو انہیں صاف کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اس کے لیے عام اسکول والی سفید صافی استعمال کی جا سکتی ہے۔ صافی کو نشان پر بہت آہستگی سے پھیریں اور زیادہ دباؤ ڈالنے سے گریز کریں، ورنہ پینٹ خراب ہو سکتا ہے۔

اگر نشان آسانی سے نہ نکلے تو سفید ٹوتھ پیسٹ بھی آزمایا جا سکتا ہے۔ اس کی تھوڑی سی مقدار نرم کپڑے پر لگائیں اور پہلے دیوار کے کسی چھپے ہوئے حصے پر آزما لیں۔ اگر پینٹ کا رنگ یا سطح متاثر نہ ہو تو داغ والی جگہ کو آہستگی سے صاف کریں۔ رنگین یا دانے دار ٹوتھ پیسٹ کے بجائے سادہ سفید پیسٹ استعمال کرنا بہتر ہے۔

دیوار پر گندے ہاتھوں اور چکنائی کے داغ کیسے صاف کریں؟

بچوں کے ہاتھوں پر موجود گرد، پسینہ اور چکنائی دیواروں پر سیاہ یا بھورے نشانات چھوڑ سکتی ہے۔ ایسے داغ صاف کرنے کے لیے ایک پیالے میں نیم گرم پانی لیں اور اس میں تھوڑا سا ہلکا ڈش واشنگ لیکوئڈ شامل کریں۔

اب نرم اسفنج یا مائیکرو فائبر کپڑے کو اس محلول میں بھگو کر اچھی طرح نچوڑ لیں، تاکہ اس میں زیادہ پانی باقی نہ رہے۔ داغ والی جگہ کو ہلکے ہاتھ سے صاف کریں۔ اس کے بعد صاف نم کپڑے سے صابن کے اثرات دور کریں اور خشک کپڑے سے دیوار کو پونچھ دیں۔

دیوار کو زیادہ گیلا کرنے سے گریز کریں، کیونکہ بعض اقسام کے پینٹ پر پانی کے دھبے پڑ سکتے ہیں یا پینٹ اترنے لگ سکتا ہے۔

کریون کے ضدی نشانات صاف کرنے کا طریقہ

رنگین کریون موم سے بنائے جاتے ہیں، اس لیے ان کے نشانات صرف پانی سے صاف کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ پہلے کسی پلاسٹک کارڈ یا پلاسٹک کے نرم کنارے کی مدد سے دیوار پر جما ہوا اضافی موم آہستگی سے ہٹائیں۔ دھات کی نوک دار چیز استعمال نہ کریں، کیونکہ اس سے پینٹ پر خراش پڑ سکتی ہے۔

اس کے بعد نیم گرم پانی میں تھوڑا سا ہلکا صابن ملا کر نرم کپڑے سے داغ صاف کرنے کی کوشش کریں۔ اگر نشان باقی رہ جائے تو اسی عمل کو احتیاط سے دہرایا جا سکتا ہے۔

کچھ لوگ موم نرم کرنے کے لیے ہیئر ڈرائر استعمال کرتے ہیں، لیکن اس طریقے میں احتیاط ضروری ہے۔ زیادہ گرمی سے موم پھیل سکتا ہے اور پینٹ کی سطح بھی متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے اسے ہر قسم کی دیوار پر آزمانا مناسب نہیں۔

صفائی کے دوران ان غلطیوں سے بچیں

دیواروں کے داغ صاف کرتے وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ پینٹ کو نقصان نہ پہنچے۔ سخت برش، کھردرے کپڑے اور تیز کیمیکل استعمال کرنے سے دیوار کی رنگت خراب ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ہارپک، بلیچ یا دیگر طاقتور صفائی کے محلول عام پینٹ والی دیواروں پر استعمال کرنے سے گریز کریں۔

کسی بھی نئے کلینر یا گھریلو ٹوٹکے کو پہلے دیوار کے ایسے حصے پر آزما لیں جو فرنیچر یا دروازے کے پیچھے چھپا ہو۔ اگر وہاں پینٹ کا رنگ برقرار رہے اور سطح متاثر نہ ہو تو ہی اسے نمایاں حصے پر استعمال کریں۔

دیواروں کو دوبارہ گندا ہونے سے کیسے بچائیں؟

بچوں کی تخلیقی سرگرمیوں کو روکنے کے بجائے گھر میں ان کے لیے ایک مخصوص جگہ بنائی جا سکتی ہے، جہاں وہ کاغذ، وائٹ بورڈ یا ڈرائنگ بورڈ پر اپنی پسند کی تصویریں بنا سکیں۔ اس طرح انہیں اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع بھی ملے گا اور دیواریں بھی محفوظ رہیں گی۔

وال پیپر یا پینٹ کی صفائی کے لیے ہمیشہ اسی کے مطابق طریقہ اختیار کریں۔ خاص طور پر میٹ فنش پینٹ پر زیادہ رگڑنے سے چمک یا رنگت میں فرق آ سکتا ہے، جبکہ قابلِ دھلائی پینٹ نسبتاً آسانی سے صاف ہو جاتا ہے۔

گھر کی دیواروں پر بچوں کے بنائے ہوئے نشانات دیکھ کر پریشان ہونے کے بجائے پہلے نرم اور محفوظ طریقے آزمائیں۔ مناسب احتیاط کے ساتھ کئی عام داغ صاف کیے جا سکتے ہیں اور اس طرح دیواروں کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے غیر ضروری خرچ سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

More

Comments
1000 characters