بالوں کا سفید ہونا عمر بڑھنے کے ساتھ ایک قدرتی عمل سمجھا جاتا ہے، تاہم بعض افراد میں یہ تبدیلی 20 یا 30 سال کی عمر میں بھی شروع ہو سکتی ہے۔ ابتدا میں ایک آدھ سفید بال نظر آتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ان کی تعداد بڑھنے لگتی ہے۔ ایسے میں بالوں کو رنگنے کا فیصلہ کرنے کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کتنی بار رنگ استعمال کرنا چاہیے اور اس کے انتخاب میں کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق کم عمری میں بال سفید ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم کردار جینیاتی عوامل کا ہے، تاہم بعض غذائی اجزا کی کمی، صحت کے مسائل اور طرزِ زندگی سے متعلق عوامل بھی اس عمل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ بعض افراد کے بال توقع سے کہیں پہلے سفید ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ تبدیلی کئی برسوں میں بتدریج بڑھتی ہے۔

ایسی صورت میں سفید بالوں کو چھپانے کے لیے ہیئر کلر کا استعمال معمول کا حصہ بن سکتا ہے۔ تاہم بالوں کو رنگنے کا فیصلہ صرف اپنی پسند کا رنگ منتخب کرنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اسے کتنی بار استعمال کرنا چاہیے اور اس میں کون سے اجزا شامل ہیں۔

بالوں کو رنگنے کے لیے کوئی ایک مقررہ وقفہ نہیں ہے۔ اس کا انحصار کئی باتوں پر ہوتا ہے، جن میں بالوں کے بڑھنے کی رفتار، سفید بالوں کی تعداد، ان کی موجودگی، بالوں کی ساخت، قدرتی رنگ اور استعمال کیے جانے والے کلر کے دیرپا رہنے کی صلاحیت شامل ہیں۔

اگر بالوں میں چند سفید بال نظر آتے ہیں تو ممکن ہے کہ آپ کو انہیں کبھی کبھار رنگنے کی ضرورت پڑے۔ لیکن اگر سفید بال پیشانی کے قریب، کنپٹیوں یا مانگ کے آس پاس زیادہ ہوں تو نئے اگنے والے بال چند ہفتوں میں نمایاں ہونے لگتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر بالوں کا رنگ پھیکا پڑنے کے بجائے جڑوں سے نئے سفید بال نکلنا، دوبارہ ہیئر کلر کی بڑی وجہ بنتے ہیں۔ اسی لیے کلر کا انتخاب کرتے وقت یہ دیکھنا بھی اہم ہے کہ رنگ کتنے عرصے تک برقرار رہتا ہے۔

مثال کے طور پر بعض ہیئر کلرنگ کریم کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کا رنگ شیمپو سے بال دھونے کے 8 سے 10 مرتبہ تک برقرار رہ سکتا ہے۔ تاہم اس کا اصل دورانیہ بالوں کی ساخت، انہیں دھونے کی تعداد اور نئے بال اگنے کی رفتار کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔

ہر مرتبہ پورے بالوں کو دوبارہ رنگنا بھی ضروری نہیں ہوتا۔ اگر بالوں کے درمیانی اور آخری حصوں کا رنگ برقرار ہے تو صرف جڑوں کو رنگنا کافی ہوسکتا ہے۔ اس طرح غیر ضروری طور پر بار بار پورے بالوں پر کلر لگانے سے بچا جاسکتا ہے۔ البتہ کسی بھی پراڈکٹ کو استعمال کرتے ہوئے اس پر درج ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔

جب بالوں کو باقاعدگی سے رنگنے کی ضرورت پیش آنے لگے تو صرف رنگ اور اس کے دیرپا رہنے کی صلاحیت نہیں بلکہ اس میں شامل اجزا پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

ہیئر کلر کی پیکنگ پر اکثر امونیا فری اور پی پی ڈی فری جیسے الفاظ لکھے ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ اصطلاحات مشکل محسوس ہوسکتی ہیں، لیکن ان کا مطلب سمجھنا ہیئر کلر کے انتخاب میں مدد دے سکتا ہے۔ بعض مستقل ہیئر کلر فارمولوں میں امونیا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد بالوں کی بیرونی تہہ کو کھولنے میں مدد دینا ہوتا ہے تاکہ رنگ بالوں میں بہتر طور پر جذب ہوسکے۔

دوسری جانب پی پی ڈی، جس کا پورا نام پیرا فینائلین ڈائیامین ہے، بالوں کو رنگنے والی ایک عام کیمیائی ترکیب ہے۔ اسے خاص طور پر گہرے رنگوں میں دیرپا رنگ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم بعض افراد میں یہ جزوی الرجی یا جلد کی حساسیت کا سبب بن سکتا ہے۔

بعض برینڈز یا کلرنگ کلرنگ کریم کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس میں امونیا، پی پی ڈی، خوشبو اور الکحل شامل نہیں ہیں۔ اس طرح اس کی تیاری میں ان چار اجزا کو شامل کرنے سے گریز کیا گیا ہے، جن پر ہیئر کلر خریدتے وقت اکثر صارفین توجہ دیتے ہیں۔

تاہم کسی پراڈکٹ پر امونیا فری یا پی پی ڈی فری لکھا ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ہر شخص کے لیے الرجی سے محفوظ ہے۔ اسی لیے جہاں پراڈکٹ کی ہدایات میں کہا گیا ہو وہاں استعمال سے پہلے پیچ ٹیسٹ کرنا اہم ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ پراڈکٹ سے جلد پر کسی قسم کا ردعمل تو نہیں ہوتا۔

مثال کے طور پربعض ہیئر کلرنگ کریم میں ”پورٹولاکا اولیریسیا“ اور ”بوسویلیا سیرٹا“ کے عرق شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں پینتھینول اور زیتون کا تیل بھی موجود ہوتا ہے، جو سر کی جلد اور بالوں کی نگہداشت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس طرح اس ہیئر کلر کو صرف سفید بال چھپانے کے بجائے بالوں اور سر کی جلد کی نگہداشت کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ تاہم اس کی افادیت اور مختلف افراد پر اثرات کا انحصار انفرادی حالات اور استعمال کے طریقے پر ہوسکتا ہے۔

خاص طور پر ان نوجوانوں کے لیے یہ پہلو اہم ہوسکتا ہے جو20 یا 30 برس کی عمر میں ہی بالوں کو رنگنا شروع کردیتے ہیں، کیونکہ ان کے لیے یہ ایک بار کا فیصلہ نہیں بلکہ لمبے عرصے جاری رہنے والا معمول بن سکتا ہے۔

اگر30 سال کی عمر میں بال سفید ہونا شروع ہوجائیں تو صرف اپنی پسند کا شیڈ منتخب کرنا کافی نہیں، بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کلر میں کون سے اجزا شامل ہیں، رنگ کتنی دیر برقرار رہتا ہے اور اسے استعمال کرنے سے بالوں اور سر کی جلد پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

کم عمری میں سفید بال آنا بعض افراد کے لیے غیر متوقع تجربہ ہوسکتا ہے، لیکن اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے درست پراڈکٹ کا انتخاب اور اس کا محتاط استعمال اہم ہے۔

More

Comments
1000 characters