شام ڈھلتے ہی جیسے ہی گھروں کی لائٹس روشن ہوتی ہیں، چھوٹے چھوٹے کیڑے نما حشرات بلب اور ٹیوب لائٹس کے گرد منڈلانے لگتے ہیں۔ بعض اوقات یہ حشرات کھڑکیوں اور دروازوں سے گھر کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور کھانے پینے کی اشیا، دیواروں اور فرش پر جمع ہونے لگتے ہیں۔ ایسے میں گھر والوں کے لیے پریشانی بڑھ جاتی ہے اور اکثر لوگ ان سے چھٹکارا پانے کے لیے مختلف گھریلو ٹوٹکے آزماتے ہیں۔

سرسوں کا تیل، کافور، نیم اور لہسن ایسے ہی چند مشہور طریقے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق ان تمام نسخوں کے مؤثر ہونے کی ضمانت نہیں۔ کیڑوں کی تعداد کم کرنے کے لیے روشنی کا درست انتخاب، گھر کی صفائی اور دروازوں و کھڑکیوں کے راستے بند رکھنا زیادہ اہم ہے۔

سرسوں کے تیل سے کیڑوں کو پکڑنے کا طریقہ

سوشل میڈیا پر سرسوں کے تیل کی مدد سے کیڑوں کو پکڑنے کا ایک طریقہ مقبول ہے۔ اس کے لیے سفید پلاسٹک کے تھیلے پر تھوڑا سا سرسوں کا تیل لگاکر اسے روشنی کے قریب لٹکانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ روشنی کی طرف آنے والے کیڑے تیل سے چپک جاتے ہیں۔

تاہم اس طریقے کی افادیت کے حوالے سے کوئی یقینی ضمانت موجود نہیں۔ اس کے علاوہ گرم بلب یا بجلی کے آلات کے قریب پلاسٹک کا تھیلا لٹکانے سے گریز کریں کیونکہ اس سے آگ لگنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

کافور اور لونگ بھی آزمائے جاتے ہیں

بعض لوگ گھر کے باہر لگی لائٹس کے قریب کیڑوں کو دور رکھنے کے لیے کافور اور لونگ کا استعمال کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے لیموں میں کافور یا لونگ ڈال کر جلانے کا طریقہ بھی بتایا جاتا ہے۔

تاہم یہ تمام اقسام کے کیڑوں کو بھگانے کا ثابت شدہ طریقہ نہیں۔ کافور جلاتے وقت آگ اور دھوئیں سے احتیاط کریں اور اسے بند کمرے میں نہ جلائیں۔

نیم کے تیل کا استعمال

نیم کا تیل بھی کیڑوں سے بچاؤ کے لیے ایک مقبول گھریلو نسخہ ہے۔ سوشل میڈیا پر اسے پانی میں ملا کر کھڑکیوں اور دروازوں کے اطراف چھڑکنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

تاہم نیم کے تیل کو براہ راست بلب، سوئچ یا بجلی کے دیگر آلات پر ہرگز نہ چھڑکیں۔ استعمال سے پہلے کسی چھوٹی جگہ پر آزما لیں اور اسے بچوں اور پالتو جانوروں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

لہسن کا محلول بھی استعمال کیا جاتا ہے

ایک اور گھریلو طریقے میں لہسن کو پانی میں ابال کر محلول تیار کیا جاتا ہے۔ اسے ٹھنڈا کرنے کے بعد دروازوں اور کھڑکیوں کے اطراف چھڑکنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

تاہم اس بات کی ضمانت نہیں کہ لہسن کا یہ محلول روشنی کی طرف آنے والے تمام کیڑوں کو گھر میں داخل ہونے سے روک دے گا۔

پیلی روشنی کیڑوں کو کم متوجہ کرتی ہے

کیڑوں سے بچنے کے لیے روشنی کا انتخاب بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ پیلی یا امبر رنگ کی لائٹس بہت سے اڑنے والے کیڑوں کو سفید اور نیلی روشنی کے مقابلے میں کم متوجہ کرتی ہیں۔

,

اس لیے گھر کے باہر ایسی لائٹس لگانا ایک بہتر انتخاب ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کھڑکیوں اور دروازوں پر جالیاں لگائیں اور ان کے اطراف موجود چھوٹے سوراخ بھی بند رکھیں تاکہ کیڑے اندر داخل نہ ہوسکیں۔

گھر کی صفائی بھی ضروری ہے

کیڑوں کی تعداد کم رکھنے کے لیے گھر میں صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ کھانے پینے کی اشیا ڈھانپ کر رکھیں اور فرش، دیواروں اور روشنیوں کے اطراف جمع ہونے والے کیڑوں کو باقاعدگی سے صاف کریں۔

گھر کے اندر اور باہر غیر ضروری روشنی جلانے سے بھی گریز کریں، خصوصاً ان جگہوں پر جہاں کیڑے زیادہ جمع ہوتے ہیں۔

پانی کی پلیٹ سے کیڑے پکڑنے کا آسان طریقہ

ایک اور آسان طریقہ یہ ہے کہ چوڑی پلیٹ یا کسی کھلے برتن میں پانی بھر کر اسے ایسی روشنی کے نیچے رکھ دیا جائے جہاں زیادہ کیڑے جمع ہوتے ہیں۔

روشنی کی طرف آنے والے بعض کیڑے پانی میں گر کر پھنس سکتے ہیں، جس سے بلب کے اردگرد ان کی تعداد کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم یہ طریقہ بھی ہر قسم کے کیڑوں کے لیے یکساں مؤثر نہیں۔

گھر کو کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے صرف گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کے بجائے مناسب روشنی، کھڑکیوں اور دروازوں پر جالیوں اور صفائی کا خیال رکھنا زیادہ بہتر ہے۔

More

Comments
1000 characters