وینس فلم فیسٹیول میں غزہ کے حالات پر بنائی گئی دستاویزی فلم ’نازا‘ نے ناظرین کی بھرپور توجہ حاصل کرلی، فلم کی نمائش کے بعد تقریباً 25 منٹ تک ناظرین کھڑے ہو کر فلم سازوں کو داد دیتے رہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ فیسٹیول کی تاریخ کی طویل ترین داد میں سے ایک سمجھی جا رہی ہے۔ تقریباً 80 منٹ دورانیے کی اس دستاویزی فلم میں غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا گیا ہے۔
فلم میں یہ دعویٰ بھی سامنے لایا گیا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نظام استعمال کیے گئے۔
’نازا‘ کی ہدایت کاری اسرائیلی صحافیوں یووال ابراہم اور ریچل زور نے کی ہے۔ دونوں فلم ساز اس سے قبل 2025 میں دستاویزی فلم ’نو ادر لینڈ‘ پر آسکر ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ اس فلم میں مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد اور حملوں کو موضوع بنایا گیا تھا۔
’نازا‘ کی تیاری کے لیے تقریباً تین سال تک تحقیق کی گئی۔ فلم سازوں نے اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے وابستہ بعض ذرائع کے بیانات بھی شامل کیے ہیں۔ ان افراد نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فلم سازوں سے گفتگو کی۔
ذرائع کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے ان کے چہروں اور آوازوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کی گئی، جبکہ بعض انٹرویوز رات کے وقت تل ابیب کی عمارتوں کی چھتوں پر ریکارڈ کیے گئے۔
فلم سازوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فلم اس امید کے ساتھ بنائی ہے کہ غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق سامنے آنے والی گواہی ناظرین کو اس معاملے پر خاموش رہنے کے بجائے اس پر غور کرنے پر مجبور کرے گی۔
’نازا‘ وینس فلم فیسٹیول کے بہترین فلم کے گولڈن لائن ایوارڈ کی دوڑ میں شامل ہے۔ فلم کو ملنے والی غیر معمولی داد کے بعد اسے فیسٹیول کے بڑے انعام کے ممکنہ امیدواروں میں شمار کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ جیوری کرے گی۔
























