برطانیہ کی مشہور گلوکارہ لورا رائٹ نے بتایا ہے کہ انہوں نے پاکستان کا قومی ترانہ گانے کے لیے باقاعدہ چھ ماہ تک اردو زبان کی کلاسز لی ہیں۔
انگلینڈ کے شہر لیڈز میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل برطانوی گلوکارہ لورا رائٹ نے پاکستانی قومی ترانہ گا کر شائقین کی توجہ حاصل کرلی۔ لورا رائٹ نے بغیر کسی ساز کے اپنی آواز میں قومی ترانہ پیش کیا، جسے اسٹیڈیم میں موجود پاکستانی شائقین نے خوب پسند کیا۔ ان کی اس پرفارمنس کی ویڈیو دنیا بھر میں بھی دیکھی گئی اور سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین نے گلوکارہ کی آواز اور انداز کو خوب سراہا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لورا رائٹ نے یہ ترانہ اچانک یا بغیر تیاری کے نہیں گایا بلکہ اسے درست انداز میں پیش کرنے کے لیے چھ ماہ تک اردو سیکھتی رہیں۔ گلوکارہ کے مطابق قومی ترانہ گانا ان کے لیے صرف ایک گانا پیش کرنے کا کام نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے، اس لیے وہ زبان کے الفاظ، تلفظ، جملوں کی ادائیگی اور معنی سمجھنے پر خاص توجہ دیتی ہیں۔
لورا رائٹ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ کسی بھی ملک کا قومی ترانہ گانے کی دعوت ملنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے، لیکن پاکستانی ترانہ ان کے لیے خاصا مشکل تھا۔ انہوں نے کہا، ”کسی بھی قومی ترانے کو گانے کے لیے کہا جانا میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے اور میں اسے کبھی معمولی بات نہیں سمجھتی۔“
انہوں نے مزید کہا، ”پاکستانی ترانہ واقعی ایک چیلنج ہے۔ جب مجھے اسے گانے کے لیے کہا گیا تو میں نے حامی بھرنے سے پہلے کافی سوچ بچار کی کیونکہ میں یہ یقین کرنا چاہتی تھی کہ اسے بالکل ٹھیک طریقے سے گا سکوں۔ میں گزشتہ چھ ماہ سے اردو پر کام کر رہی ہوں۔“
برطانوی گلوکارہ کے مطابق وہ صرف ترانے کے بول یاد نہیں کرنا چاہتی تھیں بلکہ ان کے لیے الفاظ کا درست تلفظ اور ادائیگی بھی بہت اہم تھی۔ انہوں نے کہا، ”یہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی آپ سے کہے کہ آؤ اور ایک عام گانا گا دو۔ یہ اس سے کہیں زیادہ بڑا کام ہے۔ میرے لیے یہ بہت بڑا اعزاز ہے اور مجھے امید ہے کہ میں اس کے ساتھ انصاف کر سکوں گی۔“
لیڈز میں لورا رائٹ کی آواز میں پاکستانی قومی ترانہ نشر ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی شائقین نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ کئی صارفین نے ان کی پرفارمنس کو انتہائی خوبصورت قرار دیا جبکہ کچھ لوگوں نے ترانے کی ادائیگی پر مختلف رائے دی۔
لورا رائٹ کے لیے قومی ترانہ گانا ایک نیا تجربہ نہیں۔ وہ مختلف بڑے ایونٹس اور عالمی تقریبات میں قومی ترانے پیش کرچکی ہیں۔ تاہم پاکستانی قومی ترانے کے لیے چھ ماہ تک اردو سیکھنے کی ان کی محنت نے اس پرفارمنس کو خاص بنا دیا ہے۔
قومی ترانے کی پرفارمنس کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث سے قطع نظر، لورا رائٹ کی جانب سے اردو سیکھنے اور پاکستانی ترانے کے الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کو بہت سے پاکستانی شائقین نے قابلِ تعریف قرار دیا۔
یوں لیڈز میں ان کی آواز میں گونجنے والا ”قومی ترانہ“ میچ شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستانی شائقین کے لیے ایک یادگار لمحہ بن گیا۔
























