بولی ووڈ اداکارہ دیپیکا پڈوکون کا فلم ’اسپرٹ‘ سے باہر ہونے کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔ اس سے پہلے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ اداکارہ نے یہ فلم اس لیے چھوڑ دی کیونکہ پروڈکشن ہاؤس کام کے معقول اور مقررہ گھنٹوں، یعنی آٹھ گھنٹے کی روزانہ ڈیوٹی کے مطالبے پر راضی نہیں تھا جسے بہت سے لوگوں نے ایک درست قدم قرار دیا تھا۔ اداکارہ کی جانب سے ایسے سوشل میڈیا پوسٹس سے منسلک ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں جن میں 8 گھنٹے کے کام کے مطالبے کی حمایت کی گئی تھی۔
تاہم اب اس معاملے میں ہدایتکار کے بھائی پرنائے ریڈی وانگا تیلگو نیوز چینل این ٹی وی تیلگو کو دیے گئے انٹرویو میں ایک نیا رخ سامنے لائے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس علیحدگی کے پیچھے معاوضے اور منافع میں حصے کا تنازعہ بھی شامل تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دیپیکا پڈوکون مبینہ طور پر فلم کے کل منافع میں سے 10 فیصد حصہ چاہتی تھیں اور بجٹ کے مسائل کی وجہ سے پروڈکشن کے لیے ان کی یہ تمام شرائط پوری کرنا ممکن نہیں ہو رہا تھا۔
پرنائے ریڈی وانگا کا کہنا تھا کہ اس بات کی وجہ وہی ہے جو پہلے بتائی جا چکی ہے جس میں پہلی وجہ معاوضہ اور دوسری وجہ اوقات کار تھی اور اس کے علاوہ بھی کچھ اور وجوہات تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اداکارہ اپنی مرضی کی کوئی بھی چیز مانگ سکتی ہیں اور اگر پروڈکشن دینے کے قابل ہو تو دے سکتی ہے، لیکن فلم کا بجٹ بھی اس کے مطابق ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب انہیں لگا کہ یہ حساب کتاب پورا نہیں بیٹھ رہا تو انہوں نے کسی اور آپشن پر غور کرنا شروع کر دیا اور جیسے ہی انہوں نے دوسرے راستے دیکھنے شروع کیے تو مذاکرات کی باتیں باہر لیک ہونا شروع ہو گئیں۔
واضح رہے کہ یہ صرف ایک ہی فلم کا معاملہ نہیں ہے بلکہ دیپیکا پڈوکون فلم ’کالکی‘ کے سیکوئل سے بھی الگ ہو چکی ہیں جس کی تصدیق وائیجانتی موویز نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کی تھی کہ طویل سفر کے باوجود دونوں فریق سیکوئل کے لیے کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔
دیپیکا کے ’اسپرٹ‘ اور ’کالکی 2898 اے ڈی‘ کے سیکوئل سے الگ ہونے کے بعد بولی ووڈ میں ان کے آئندہ بڑے منصوبوں کے حوالے سے بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
























