بولی ووڈ سپر اسٹار گووندا اور ان کی اہلیہ سنیتا آہوجا کے درمیان مبینہ اختلافات ایک بار پھر بھارتی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ تازہ پیشرفت کے مطابق سنیتا آہوجا نے اپنے شوہر گووندا کو انسٹاگرام پر ان فالو کردیا ہے، جس کے بعد دونوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے نئی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سنیتا کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گووندا کا نام نئی اداکارہ کومل رانی سوارنکر کے ساتھ مبینہ تعلقات کی افواہوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ تاہم گووندا یا کومل کی جانب سے ان افواہوں کی کوئی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ گووندا اور سنیتا ماضی میں ایک دوسرے کو سوشل میڈیا پر فالو کرتے تھے، لیکن اب دونوں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر ایک دوسرے کو فالو نہ کرنے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس تبدیلی نے ان کے درمیان جاری مبینہ کشیدگی کو ایک بار پھر موضوع بحث بنا دیا ہے۔
کچھ عرصہ قبل گووندا اور سنیتا کے درمیان اختلافات اس وقت نمایاں ہوئے تھے جب سنیتا کی جانب سے شوہر کے خلاف طلاق سے متعلق قانونی کارروائی کی بات سامنے آئی۔ بعد میں جب یہ معاملہ ختم ہوا تو مداحوں اور میڈیا میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید دونوں کے درمیان معاملات بہتر ہوگئے ہیں۔
تاہم سنیتا آہوجا نے بعد میں اپنے بیانات میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے طلاق کا معاملہ اس لیے واپس لیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ گووندا مبینہ طور پر کومل رانی سوارنکر سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان دعوؤں نے پہلے سے جاری افواہوں کو مزید ہوا دی۔
سنیتا نے حالیہ بیانات میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں بعض ہوٹلوں سے فون موصول ہوئے تھے۔ ان کے مطابق ان فون کالز نے بھی ان کے شکوک کو بڑھایا۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی، لیکن ان کے بعد گووندا اور کومل کے مبینہ تعلقات کے بارے میں بھارتی میڈیا میں مزید بحث شروع ہوگئی۔
دوسری جانب گووندا کے منیجر نے سنیتا آہوجا کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گووندا کی دوسری شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ منیجر کے مطابق ایسی کوئی بات نہیں ہے اور نہ ہی ایسا ہونے والا ہے۔
گووندا اور سنیتا آہوجا کی شادی کئی دہائیوں پر محیط ہے اور دونوں ماضی میں اپنے خاندانی معاملات کے حوالے سے مختلف مواقع پر گفتگو کرتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے درمیان سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو فالو نہ کرنے کی حالیہ خبر نے مداحوں کی دلچسپی مزید بڑھا دی ہے۔
























