کبھی ’جونیئر امیتابھ بچن‘ کے نام سے مشہور ہونے والے ماسٹر روی نے بچپن میں فلمی دنیا میں جو شہرت حاصل کی، وہ بہت کم فنکاروں کے حصے میں آتی ہے۔ چار سال کی عمر میں فلموں میں قدم رکھنے والے روی نے 14 سال کے دوران 300 سے زائد فلموں میں کام کیا، لیکن وقت کے ساتھ انہوں نے اداکاری سے دوری اختیار کی اور اپنی زندگی کا رخ ہوٹلنگ، فوڈ انڈسٹری اور کارپوریٹ شعبے کی طرف موڑ لیا۔

روی ویلیچا، جنہیں فلمی دنیا ماسٹر روی کے نام سے جانتی تھی، اپنے عروج کے دور میں بچوں کے سب سے مقبول اداکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے ہندی، تمل اور تیلگو سمیت نو زبانوں کی فلموں میں کام کیا۔ 1980 کی دہائی میں ان کی مقبولیت اس قدر تھی کہ انہیں امیتابھ بچن کے بچپن کے کردار ادا کرنے کی وجہ سے ’جونیئر امیتابھ بچن‘ کہا جانے لگا۔

رپورٹس کے مطابق اپنے فلمی کیریئر کے عروج پر روی کو روزانہ تقریباً 3 ہزار سے 3 ہزار 500 روپے تک معاوضہ ملتا تھا، جو اس وقت ایک بڑی رقم سمجھی جاتی تھی۔ ان کی خاص بات یہ تھی کہ وہ کم عمری کے باوجود اپنے کردار کو بہت سنجیدگی سے ادا کرتے تھے اور اکثر مناظر پہلی ہی کوشش میں مکمل کر لیتے تھے۔

فلمی دنیا میں ان کی انٹری کسی باقاعدہ آڈیشن کا نتیجہ نہیں تھی۔ یہ سب فلم ”فقیرا“ کے سیٹ پر مشہور اداکار ششی کپور سے ایک دلچسپ ملاقات کے بعد شروع ہوا۔ روی کے بھائی اس فلم میں کام کر رہے تھے اور چار سالہ روی بھی ان کے ساتھ سیٹ پر گئے تھے۔ وہاں وہ ششی کپور کی کرسی پر بیٹھ گئے۔ جب ششی کپور نے ان سے کہا کہ یہ ان کی کرسی ہے تو ننھے روی نے پورے اعتماد سے جواب دیا کہ وہ اس کرسی سے نہیں اٹھیں گے۔ اس کے بعد دونوں میں یہ طے پایا کہ ششی کپور کرسی پر بیٹھیں گے اور روی ان کی گود میں بیٹھے گا۔ ششی کپور کو بچے کا یہ اعتماد بہت پسند آیا اور انہوں نے ہدایت کار سے انہیں فلم میں شامل کرنے کی بات کی۔

اسی واقعے کے بعد روی کو “فقیرا” میں شابانہ اعظمی کے چار سالہ بیٹے کا کردار ملا اور ان کا فلمی سفر شروع ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کئی بڑی فلموں میں کام کیا اور اپنے دور کے معروف اداکاروں کے ساتھ اسکرین شیئر کی۔

تاہم شہرت کے ساتھ ساتھ اس کم عمری کی کامیابی کی ایک قیمت بھی تھی۔ روی کے مطابق انہوں نے بچپن اور نوجوانی کا دورکھو دیا کیونکہ وہ چار سال کی عمر سے 18 سال تک مسلسل کام کرتے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کم عمری میں ہی انہیں ایک بالغ انسان کی طرح سوچنا پڑتا تھا اور فلمی مصروفیات نے انہیں عام بچوں جیسی زندگی گزارنے کا موقع کم ہی دیا۔

روی نے بتایا کہ ان کے لیے بطور ہیرو فلمی دنیا میں آنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا۔ معروف ہدایت کار منموہن دیسائی ان کی صلاحیتوں سے متاثر تھے اور انہیں مستقبل میں مرکزی کرداروں کے لیے تیار کرنا چاہتے تھے، لیکن منموہن دیسائی کی وفات کے بعد یہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔

اس کے بعد روی نے فلمی دنیا سے فاصلے کا فیصلہ کیا اور ایک نئی سمت اختیار کی۔ چونکہ بچپن میں فلمی مصروفیات کی وجہ سے وہ عام تعلیمی سفر مکمل نہیں کر سکے تھے، اس لیے انہوں نے بعد میں کلنری آرٹس کی تعلیم حاصل کی اور پیشہ ور شیف کے طور پر تربیت حاصل کی۔ انہوں نے تاج گروپ کے ساتھ بھی کام کیا اور ہوٹلنگ کے شعبے کے مختلف پہلوؤں کا تجربہ حاصل کیا۔

آج وہ ایک معروف کمپنی کے ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں اور انتظامی معاملات سنبھال رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے فلمی دنیا سے تعلق مکمل طور پر ختم نہیں کیا بلکہ آج کل وہ ایک ایسا فلم انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں کم خرچ میں اداکاری کی تربیت حاصل کی جا سکے۔

فلمی اداکار سے کارپوریٹ شعبے تک کا ان کا سفر کئی مختلف مرحلوں سے گزرا ہے۔ اب بھی ان کے کچھ خواب باقی ہیں، جن میں پائلٹ بننے کا شوق بھی شامل ہے۔ روی کے مطابق انہوں نے شوقیہ پرواز کی تربیت کے لیے بمبئی فلائنگ کلب میں درخواست دی ہے، کیونکہ ان کے خیال میں نئی چیزیں سیکھنے کے لیے عمر رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

More

Comments
1000 characters