پاکستانی فلموں سے شہرت حاصل کرنے والی ماضی کی سینئر اداکارہ اور گلوکارہ سلمیٰ آغا ایک بار پھر اپنے ایک بیان کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ اداکارہ نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی پاکستانی شہریت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی پاکستانی شہریت نہیں رکھی۔ ان کے اس بیان پر بعض سوشل میڈیا صارفین نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ کچھ لوگوں نے ان کے ماضی اور پاکستان سے تعلق کا حوالہ بھی دیا۔
سلمیٰ آغا نے پاکستان اور بھارت دونوں کی فلم انڈسٹری میں کام کیا ہے۔ وہ پاکستانی فلموں کی معروف اداکاراؤں میں شمار ہوتی رہی ہیں۔ ان کی فلم ’نکاح‘ نے بھارت میں خاصی مقبولیت حاصل کی تھی۔ تاہم کئی برس تک پاکستان میں کام کرنے اور یہاں سے وابستگی رکھنے کے بعد ان کی موجودہ شہریت اور شناخت کے حوالے سے ان کا تازہ بیان لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
ایک انٹرویو کے دوران سلمیٰ آغا سے سوال کیا گیا کہ وہ پاکستانی شہریت نہ رکھنے کے باوجود پاکستان میں بھی کام کرتی رہی ہیں اور بھارت میں بھی کام کر رہی ہیں۔ اس پر اداکارہ نےانہوں نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس کبھی پاکستانی شہریت تھی ہی نہیں۔
سلمیٰ آغا نے کہا، ’میرے پاس کبھی پاکستانی نیشنلٹی نہیں تھی۔ میرا پورا خاندان برطانیہ منتقل ہوگیا تھا، اس لیے میں انگلش ہوں۔ میری پوری فیملی اور بچوں کے پاس بھی برطانیہ کے پاسپورٹ ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ، ’میں نے پاکستان میں صرف ایک پروفیشنل آرٹسٹ کی حیثیت سے کام کیا اور میرا وہاں تجربہ بہت اچھا رہا۔ وہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان کے ڈرامے ہر جگہ بہت پسند کیے جاتے ہیں۔‘
اداکارہ نے مزید بتایا کہ ان کے پاس بھارتی شہریت نہیں ہے بلکہ بھارت نے انہیں 2017 میں پی آئی او یعنی ’پرسن آف انڈین اوریجن‘ کارڈ جاری کیا تھا۔
ان کے مطابق اس کارڈ کی وجہ سے انہیں بھارت میں رہنے کے لیے مخصوص سہولتیں حاصل ہیں جو انہیں بھارتی پاسپورٹ کے بغیر بھی بھارت میں رہنے اور وہاں کے شہریوں جیسے حقوق دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ کارڈ اس لیے ملا کیونکہ ان کی دادی کا تعلق بھارتی شہر امرتسر سے تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے ہندوستان نے نام دیا، عزت دی اور مجھے وہاں جا کر بہت اچھا لگتا ہے۔’
سلمیٰ آغا کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بعض پاکستانی صارفین نے سخت ردعمل دیا۔ ایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا، ”دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔“

ایک اور صارف نے ان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”آپ کے پاس اب بھی بھارتی نیشنلٹی نہیں ہے کیونکہ بھارت میں دوہری شہریت کی اجازت نہیں ہے۔“

ایک صارف نے سلمیٰ آغا کے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ”آپ کے والد کا گھر کراچی میں تھا۔“

یوں سلمیٰ آغا کا تازہ بیان سوشل میڈیا پر مختلف بحث کا باعث بن گیا ہے۔ بعض صارفین ان کے ماضی میں پاکستان میں گزارے گئے وقت اور پاکستانی فلم انڈسٹری میں ان کی خدمات کو سامنے لا رہے ہیں، جبکہ اداکارہ نے اپنے انٹرویو میں اپنی قانونی شہریت اور موجودہ شناخت کے بارے میں اپنا مؤقف واضح کیا ہے۔
واضح رہے کہ سلمیٰ آغا کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی جڑیں خطے کے مختلف حصوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی شناخت، شہریت اور پاکستان و بھارت سے وابستگی کا معاملہ اکثر مداحوں کی توجہ حاصل کرتا رہا ہے۔ تاہم ان کے حالیہ بیان نے اس موضوع کو ایک بار پھر سوشل میڈیا پر نمایاں کردیا ہے۔
























