آج کل پرانے زمانے کا فیشن ایک بار پھر واپس آتا دکھائی دے رہا ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں میں کانوں میں ایک کے بجائے کئی کئی سوراخ کروانے اور مختلف بالیاں، اسٹڈز اور رنگز پہننے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ کچھ لڑکیاں کان کے اوپری حصے اور کارٹلیج میں بھی سوراخ کرواتی ہیں تاکہ مختلف انداز کی جیولری پہن سکیں۔
ایئر پرسنگ کا فیشن دیکھنے میں خوبصورت ضرور لگتا ہے، لیکن ہر نیا سوراخ دراصل جلد میں بننے والا ایک زخم ہوتا ہے، جسے مکمل طور پر ٹھیک ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ اگر اس دوران مناسب احتیاط نہ کی جائے تو درد، سوجن، جلن یا انفیکشن کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔
نئے سوراخ کی دیکھ بھال کا مطلب یہ نہیں کہ اسے بار بار صاف کیا جائے یا ہر گھریلو نسخہ آزمایا جائے۔ اصل ضرورت صفائی، حفاظت اور سوراخ کو غیر ضروری طور پر چھونے سے بچانے کی ہے۔
سوراخ والی جگہ صاف رکھیں
نئے سوراخ کو صاف رکھنے کے لیے سیلائن واؤنڈ واش استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن بار بار صفائی کرنے سے زخم جلدی ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ جلد میں جلن پیدا ہوسکتی ہے۔
ہائیڈروجن پرآکسائیڈ، الکحل، تیز جراثیم کش محلول، خوشبو والی مصنوعات یا بہت زیادہ نمک والے گھریلو محلول کو تازہ سوراخ پر لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔
بالی کو بار بار نہ گھمائیں
پرانے زمانے میں یہ مشورہ عام تھا کہ نئی بالی یا ٹاپس کو بار بار گھماتے رہیں تاکہ سوراخ بند نہ ہو، لیکن اب اسے ضروری نہیں سمجھا جاتا۔
بالی کو بار بار گھمانے یا کھینچنے سے تازہ زخم پر رگڑ پڑ سکتی ہے، جس سے جلن اور سوجن بڑھ سکتی ہے۔ اسی طرح سوراخ پر بننے والی تہہ کو بار بار انگلی سے ہٹانے سے بھی بچنا چاہیے۔
گھریلو نسخے استعمال نہ کریں
کسی بھی گھریلو ٹوٹکے یا دیسی طریقے سے پرہیز کریں۔ نئے سوراخ پر ہلدی کا لیپ، نیم کا پیسٹ، ناریل کا تیل، لیموں، لہسن، سرکہ یا خوشبودار تیل لگانا مناسب نہیں۔ تازہ سوراخ کے آس پاس کی جلد حساس ہوتی ہے اور ایسی چیزیں جلن پیدا کرنے کے ساتھ جراثیم بھی پہنچا سکتی ہیں۔
میک اپ اور کریموں سے دور رکھیں
میک اپ اور اسکن کیئر کی مصنوعات کو زخم سے دور رکھیں۔ زخم کے ٹھیک ہونے تک اس کے قریب فاؤنڈیشن، کنسیلر، فیس کریم، سیرم، خوشبو، بالوں کا تیل اور ہیئر اسٹائلنگ مصنوعات لگانے سے گریز کریں۔ ان چیزوں سے تازہ زخم میں جلن ہوسکتی ہے۔
رگڑ اور چوٹ سے بچائیں
ا کے بعد اسی طرف سو جانا، ہیڈ فون استعمال کرنا، بالوں کا بالی میں پھنسنا یا کپڑے تبدیل کرتے وقت بالی کا کھنچ جانا درد اور جلن کا سبب بن سکتا ہے۔
اس لیے کوشش کریں کہ سوتے وقت کان پر دباؤ نہ پڑے اور بالی کسی چیز میں نہ پھنسے۔
اگر پرانے زمانے کا یہ فیشن دوبارہ اپنایا جارہا ہے اور کانوں میں کئی سوراخ کروانے کا شوق ہے تو خوبصورتی کے ساتھ احتیاط بھی ضروری ہے۔
ایئر پرسنگ کے بعد مناسب صفائی اور حفاظت سے جلن اور انفیکشن کے امکانات کم کیے جاسکتے ہیں۔ اگر شدید سوجن، بڑھتا ہوا درد، بہت زیادہ سرخی یا پیپ نظر آئے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
























