کان کا میل صاف کرتے وقت یہ غلطی ہرگز نہ کریں
کان میں میل جمع ہونا ایک قدرتی عمل ہے، لیکن اس کی صفائی کے دوران کی جانے والی چھوٹی سی غلطی انسان کو ہمیشہ کے لیے بہرا کر سکتی ہے۔ بعض افراد کان کی صفائی کے لیے ایئربڈ، پن، ماچس کی تیلی یا دوسری نوکیلی چیزیں استعمال کرتے ہیں، جو فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔ غلط طریقے سے کان صاف کرنے سے میل مزید اندر جا سکتی ہے اور کان کی نازک جلد یا پردے کو بھی چوٹ پہنچ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، کان کو صحت مند رکھنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس میں بننے والی میل کا مقصد کیا ہے اور اسے کب صاف کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
کان میں بننے والی میل کو طبی زبان میں ’ایئر ویکس‘ کہا جاتا ہے۔ کان کے اندر بننے والا ویکس دراصل کوئی گندگی نہیں بلکہ قدرت کا ایک نظام ہے جو کان کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ قدرتی مادہ باہر کی دھول مٹی، خطرناک جراثیم اور چھوٹے کیڑوں کو کان کے اندرونی حصوں تک جانے سے روکتا ہے۔
اس کے علاوہ کان کا میل نالی کی جلد کو خشک ہونے سے بچانے اور اسے محفوظ رکھنے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ عام طور پر کان خود ہی اضافی میل کو آہستہ آہستہ باہر کی طرف لے آتا ہے، اس لیے ہر روز کان کے اندر صفائی کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
تاہم جب یہ ویکس ضرورت سے زیادہ جمع ہو کر سخت ہو جائے تو اس کی وجہ سے کان میں شدید درد، مسلسل خارش، بھاری پن اور سننے کی صلاحیت میں کمی جیسی پریشانیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔
ایئربڈ سے کان صاف کرنا کیوں نقصان دہ ہے؟
کان صاف کرنے کے لیے ایئربڈ استعمال کرنا عام عادت ہے، لیکن اسے کان کی نالی میں اندر تک لے جانا خطرناک ہوسکتا ہے۔ ایئربڈ سے میل باہر نکلنے کے بجائے مزید اندر دھکیلی جاسکتی ہے، جس سے کان بند ہونے کا مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔
اسی طرح پن، ماچس کی تیلی، ہیئر پن یا کسی دوسری نوکیلی چیز سے کان صاف کرنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔ ان چیزوں سے کان کی نازک جلد زخمی ہوسکتی ہے، خون نکل سکتا ہے اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اگر چیز زیادہ اندر چلی جائے تو کان کے پردے کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے سننے کی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی کے کان میں میل خشک ہو چکا ہے تو اسے نکالنے کے لیے زبردستی کرنے کے بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔
خشک ویکس کو نرم کرنے کے لیے طبی مشورے سے منرل آئل یا بیبی آئل کے چند قطرے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ نیم گرم تیل کے ہلکے استعمال سے اندرونی میل نرم ہو جاتا ہے، لیکن یہ عمل انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔
اگر کان میں درد، رطوبت یا خون آرہا ہو، انفیکشن کا شبہ ہو، پردے میں سوراخ ہو یا پہلے کان کی سرجری ہوچکی ہو تو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر تیل یا پانی استعمال نہ کریں۔ بچوں کے کان میں بھی خود سے کوئی چیز ڈالنے سے گریز کریں۔
اگر میل کی وجہ سے کان بند محسوس ہورہا ہو یا سننے میں دشواری پیش آرہی ہو تو ڈاکٹر سے معائنہ کروانا بہتر ہے۔ ڈاکٹر ضرورت کے مطابق محفوظ طریقے سے میل نکال سکتے ہیں یا اسے نرم کرنے کے لیے مناسب دوا تجویز کرسکتے ہیں۔
کان کے بیرونی حصے کی صفائی کیسے کریں؟
کان کے باہر جمع ہونے والی میل یا گردوغبار کو صاف کرنا آسان ہے۔ اس کے لیے نرم، صاف کپڑا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کان کے بیرونی حصے کو آہستگی سے صاف کریں، لیکن کپڑے، روئی یا ایئربڈ کو کان کے اندر گہرائی تک نہ لے جائیں۔
نہانے کے بعد کان کے باہر موجود پانی کو بھی نرم تولیے سے صاف کیا جاسکتا ہے۔ کان کے اندر پانی ڈال کر صفائی کرنے یا زور سے رگڑنے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے جلن یا چوٹ لگ سکتی ہے۔
کن علامات کو نظر انداز نہ کریں؟
اگر کان میں مسلسل درد ہو، سنائی کم دینے لگے، کان بند محسوس ہو، چکر آئیں یا کان سے خون یا رطوبت نکلے تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اگر اچانک ایک کان سے سنائی دینا کم یا بند ہوجائے تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے، کیونکہ اس کی وجہ صرف میل جمع ہونا نہیں بھی ہوسکتی۔
کان کے میل کو مکمل طور پر ختم کرنا ضروری نہیں، کیونکہ یہ کان کی حفاظت میں مدد دیتا ہے۔ عام حالات میں کان خود ہی اضافی میل باہر نکالنے کا قدرتی عمل انجام دیتا ہے۔
اس لیے کان میں پن، ماچس کی تیلی یا ایئربڈ ڈالنے سے گریز کریں، صرف بیرونی حصے کو نرمی سے صاف کریں اور میل زیادہ جمع ہونے یا سننے میں دشواری کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ لیں۔ کان کی صفائی میں احتیاط ہی اسے چوٹ اور ممکنہ نقصان سے بچانے کا بہتر طریقہ ہے۔

























