کاروباری دوروں اور سیاحت کے دوران جب انسان تھک ہار کر ہوٹل کے بُک کیے ہوئے کمرے میں آتا ہے تو اس کی سب سے بڑی خواہش آرام دہ بستر پر خاموش ماحول میں پرسکون نیند ہوتی ہے۔ تاہم موجودہ دور میں ہوٹلوں کے اندر اور باہر سے آنے والا شور مسافروں کے لیے ایک بڑا دردسر بن چکا ہے۔ پرانے ایئر کنڈیشنر، فریج کی آوازیں، لفٹ کی گھنٹیاں، پڑوسی کمروں میں جاری پارٹیاں اور راہداریوں، سوئمنگ پول یا باہر سڑکوں سے آنے والا شور اکثر لوگوں کی رات کی نیند حرام کر دیتا ہے۔ صفائی کے بعد ہوٹل کے مہمانوں کی سب سے بڑی شکایت اور ضرورت اب یہی پرسکون ماحول ہی ہے۔

سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق پنسلوانیا کی ایک ڈیمولیشن کمپنی کے پروجیکٹ مینیجر جیسن گینن کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس مسی سپی کے ایک کاروباری دورے کے دوران انہیں سکون سے سونے کے لیے تین مختلف ہوٹل کے کمرے آزمانے پڑے، لیکن کسی جگہ بھی انہیں مطلوبہ خاموشی نہیں مل سکی۔ پہلے کمرے میں پرانا ایئر کنڈیشنر انتہائی شور کر رہا تھا، دوسرے کمرے میں ریفریجریٹر کی آواز نے نیند خراب کی، جبکہ تیسرے کمرے کے قریب موجود مہمانوں نے پارٹی شروع کر رکھی تھی۔

گینن کے مطابق وہ اپنے کام کے سلسلے میں تقریباً ہر دوسرے ہفتے سفر کرتے ہیں اور اس دوران ہوٹل میں پرسکون نیند ان کے لیے ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔

اسی طرح لنڈسے مینس کو آسٹن، ٹیکساس کے ایک ہوٹل میں قیام کے دوران لفٹ کے مسلسل کھلنے اور بند ہونے کی آوازوں نے رات بھر پریشان رکھا۔ اس وقت وہ سات ماہ کی حاملہ تھیں۔ ان کے کمرے کی دیواریں بھی اتنی پتلی تھیں کہ ساتھ والے کمرے میں ہونے والی گفتگو انہیں رات گئے تک سنائی دیتی رہی۔ مینس کے مطابق یہ ہوٹل میں گزارنے والی ان کی بدترین رات تھی۔

ہوٹلوں سے متعلق سافٹ ویئر اور مشاورتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی پرو اسٹے کے مطابق صفائی کے بعد شور ہوٹل کے مہمانوں کی سب سے بڑی تشویش ہے۔ نیند اور صحت کے درمیان تعلق کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی نے اس مسئلے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ اب مسافر صرف آرام دہ بستر نہیں دیکھتے بلکہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ کمرہ کتنا پرسکون، تاریک اور آرام دہ ہے۔

کارنیل یونیورسٹی کے نولان اسکول آف ہوٹل ایڈمنسٹریشن کے پروفیسر چیکٹن ایس ڈیَو کے مطابق ماضی میں ہوٹلوں نے پرسکون ماحول کو اتنی ترجیح نہیں دی جتنی آج دی جا رہی ہے۔ ان کے بقول 1990 کی دہائی کے آخر میں ہوٹل انڈسٹری نے اس معاملے کو زیادہ سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔

اس دوران ہوٹلوں نے اپنی توجہ خوبصورت لابی، مہنگے ریستوران، جم اور دیگر سہولیات پر بھی مرکوز رکھی۔ لیکن جیسے جیسے کمروں کے کرائے بڑھ رہے ہیں، مہمانوں کی توقعات بھی بڑھ رہی ہیں۔ ڈیَو کے مطابق اگر کوئی شخص ایک رات کے لیے 400 ڈالر ادا کر رہا ہے تو وہ یہ توقع رکھتا ہے کہ اسے سونے کے لیے خاموش کمرہ بھی ملے گا۔

نیویارک کے دی بینجمن ہوٹل کے جنرل منیجر سائمن چیپ مین کا کہنا ہے کہ آج کے مسافر نیند کے معیار پر پہلے سے کہیں زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق مہمان اب صرف یہ نہیں دیکھتے کہ بستر آرام دہ ہے یا نہیں، بلکہ کمرے کی آواز، روشنی، درجہ حرارت، تکیے اور ٹیکنالوجی سے دور رہنے کی سہولت بھی ان کے لیے اہم ہو گئی ہے۔

نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو جان لوپوس کے مطابق روزمرہ زندگی میں نیند کی اہمیت بڑھنے کے باعث لوگ سفر کے دوران بھی اچھی نیند قربان نہیں کرنا چاہتے۔ نیند کو مانیٹر کرنے والی گھڑیاں، فٹنس ٹریکرز اور مختلف ایپس نے بھی لوگوں کو اپنی نیند کے معیار کے بارے میں زیادہ حساس بنا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہوٹلوں کی تعمیر کے وقت شور کو کم کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے تو مسئلہ کافی حد تک حل کیا جا سکتا ہے۔ نئی عمارتوں میں دیواروں، کھڑکیوں اور دیگر تعمیراتی مواد کے انتخاب سے آواز کی منتقلی کم کی جا سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف نیواڈا، لاس ویگاس کے شعبہ تعمیرات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر گلین نوواک کے مطابق جدید تعمیراتی معیار میں آواز کی منتقلی کو روکنے کے لیے ساؤنڈ ٹرانسمیشن کلاس، یعنی ایس ٹی سی، کی درجہ بندی استعمال ہوتی ہے۔ ان کے مطابق 50 کا ایس ٹی سی اس حوالے سے ایک اہم معیار سمجھا جاتا ہے۔ ایسی دیوار کے پیچھے ہونے والی عام گفتگو دوسرے کمرے میں عموماً سنائی نہیں دیتی جبکہ تیز موسیقی کی آواز بھی کافی مدھم ہو جاتی ہے۔

لیکن دنیا کے بہت سے ہوٹل اس دور میں تعمیر ہوئے تھے جب ایسے معیارات عام نہیں تھے۔ اس کے علاوہ بعض اوقات نئی تعمیر یا تزئین و آرائش کے دوران بھی غیر ارادی طور پر عمارت کی آواز روکنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔

شور کم کرنے والی تعمیراتی تکنیکیں مہنگی بھی ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر کنکریٹ کی موٹی دیوار دھاتی فریم والی دیوار کے مقابلے میں آواز روکنے کے لیے زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے، لیکن اسے تعمیر کرنے میں زیادہ وقت اور محنت درکار ہوتی ہے اور عمارت کے مجموعی ڈھانچے پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ اسی طرح دوہری دیواریں بھی آواز کو ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک پہنچنے سے روکنے کا مؤثر طریقہ ہیں، مگر ان پر اضافی لاگت آتی ہے۔

مسئلہ صرف عمارت کے اندر کا نہیں۔ شہری علاقوں میں سڑکوں کا ٹریفک، موسیقی، لوگوں کی آوازیں اور رات گئے ہونے والی سرگرمیاں بھی ہوٹل کے کمروں تک پہنچ سکتی ہیں۔ نیو اورلینز میں قیام کے دوران سلویہ پاسفیلورا کو رات کے وقت باہر سے آنے والی موسیقی بار بار جگاتی رہی۔ چونکہ وہ خود موسیقار ہیں، اس لیے انہیں شہر میں موسیقی کی موجودگی پر اعتراض نہیں تھا، لیکن رات دو، تین اور چار بجے تک موسیقی سنائی دینا ان کی نیند کے لیے مسئلہ بن گیا۔

نیویارک کے دی بینجمن جیسے ہوٹلوں کے لیے بیرونی شور سے مکمل طور پر بچنا مشکل ہے۔ خاص طور پر مین ہیٹن جیسے مصروف علاقے میں سڑکوں اور آس پاس کی سرگرمیوں کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے ہوٹل شور کم کرنے کے لیے کئی تہوں والی کھڑکیاں، موٹے پردے اور بعض اوقات مہمانوں کو ایئر پلگ اور آنکھوں پر لگانے والے ماسک بھی فراہم کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ہوٹل کے تمام کمرے ایک جیسے شور والے نہیں ہوتے۔ لفٹ کے قریب، نچلی منزلوں یا سوئمنگ پول کے آس پاس کے کمرے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ لنڈسے مینس نے اپنے تجربے کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ آئندہ لفٹ سے زیادہ سے زیادہ دور کمرہ طلب کریں گی اور جہاں ممکن ہو ایسے کمرے کا انتخاب کریں گی جس کے ساتھ کوئی دوسرا مہمان نہ ٹھہرا ہو۔

ہوٹل کی بکنگ کے موجودہ نظام میں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ مسافر عموماً پہلے سے یہ نہیں دیکھ سکتے کہ کون سا کمرہ کہاں واقع ہے۔ ہوائی جہاز کی طرح ہوٹل کی ویب سائٹس پر عام طور پر مکمل نقشہ دستیاب نہیں ہوتا جہاں مسافر اپنی پسند کی جگہ منتخب کر سکے۔ کارنیل یونیورسٹی کے ڈیَو کے مطابق اگر ہوائی جہاز کی نشست آن لائن منتخب کی جا سکتی ہے تو ہوٹل کا کمرہ بھی اسی طرح منتخب کرنے کی سہولت ہونی چاہیے۔

تاہم ہوٹلوں کے لیے ایسا نظام بنانا آسان نہیں۔ صفائی کے شیڈول، مختلف اوقات میں چیک اِن اور چیک آؤٹ اور سکیورٹی کے معاملات بھی اس عمل کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض ہوٹل خاموش کمروں کی درخواست تو قبول کرتے ہیں، لیکن ہر بار مخصوص کمرہ فراہم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

کچھ ہوٹل اب خاص طور پر خاموش اور پرسکون قیام کو اپنی مارکیٹنگ کا حصہ بنا رہے ہیں۔ نیند پر مرکوز اس رجحان کو ’سلیپ ٹورازم‘ کہا جاتا ہے، جس میں بعض ہوٹل مہمانوں کو تکیوں کے مختلف انتخاب، وزن دار سلیپ ماسک اور نیند بہتر بنانے والی دیگر سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ تاہم ایسی خصوصی سہولیات عموماً عام ہوٹل کے کمرے کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہوتی ہیں۔

مہمان خود بھی شور سے بچنے کے لیے کچھ اقدامات کر سکتے ہیں۔ ہوٹل کو بکنگ کے وقت فون کرکے لفٹ سے دور، اونچی منزل یا راہداری کے آخری سرے پر واقع کمرے کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ آن لائن بکنگ کے دوران خصوصی ہدایات کے خانے میں بھی خاموش کمرے کی درخواست لکھی جا سکتی ہے۔ چیک اِن کے وقت بھی ایسی درخواست کی جا سکتی ہے، اگرچہ ہوٹل مکمل بھرا ہوا ہو تو اختیارات محدود ہو جاتے ہیں۔

خاموش ہوٹل تلاش کرنے کے لیے بعض ویب سائٹس بھی ہوٹلوں کو ان کے شور کی سطح کے مطابق درجہ بندی کرتی ہیں۔ ان میں ہوٹل کے اردگرد ٹریفک، رات کی سرگرمیوں، عمارت کی تعمیر، کھڑکیوں کے معیار اور کمروں کی پوزیشن کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ تاہم ان فہرستوں میں شامل بہت سے ہوٹل بجٹ مسافروں کے لیے مہنگے ہو سکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف نیواڈا کے نوواک کے مطابق بعض پرانی عمارتیں بھی حیرت انگیز طور پر پرسکون ثابت ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر سالٹ لیک سٹی کا پیری ہوٹل 1910 میں تعمیر ہوا تھا اور اس کی موٹی اینٹوں کی دیواریں آواز کو روکنے میں مدد دیتی ہیں۔ ہوٹل انتظامیہ کے مطابق اس تاریخی تعمیر کا مضبوط ڈھانچہ مہمانوں کو نسبتاً پرسکون ماحول فراہم کرتا ہے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر خراب رات کی وجہ ہوٹل کا شور نہیں ہوتا۔ خاص طور پر کاروباری سفر کے دوران انسان اپنے معمول سے دور ہوتا ہے، کام کا دباؤ، سماجی مصروفیات اور سفر کی تھکن بھی نیند کو متاثر کر سکتی ہے۔ رات گئے بھاری کھانا کھانا، معمول سے زیادہ دیر تک جاگنا اور سونے سے پہلے چائے یا مشروب استعمال کرنا بھی نیند کے معیار کو خراب کر سکتا ہے۔

نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن کے لوپوس مسافروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ دن کے وقت قدرتی روشنی حاصل کریں، ورزش کریں اور کھانے کے اوقات کو حتی الامکان معمول کے مطابق رکھیں۔ رات کو پردے اچھی طرح بند کرنا اور کمرے کا درجہ حرارت مناسب حد تک کم رکھنا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔ وہ خود سفر کے دوران ایسی مشین ساتھ رکھتے ہیں جو ہلکی اور مسلسل پس منظر کی آواز پیدا کرتی ہے تاکہ نیند میں خلل ڈالنے والی دوسری آوازیں کم محسوس ہوں۔

ہوٹلوں میں اس مسئلے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ رہی ہے کہ سفر کی صنعت میں رہائش کی طلب مضبوط ہے اور ہوٹلوں میں کمرے بھرنے کی شرح بلند رہتی ہے۔ لیکن جہاں ہوٹل مالکان کے لیے زیادہ مہمان اور زیادہ آمدنی اچھی خبر ہے، وہیں زیادہ بھرے ہوئے ہوٹل میں شور کا مسئلہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ہوٹل بکنگ کا نظام شاید مسافروں کو کمرے کے انتخاب پر زیادہ اختیار دے، مگر فی الحال بہترین طریقہ یہی ہے کہ بکنگ سے پہلے ہوٹل سے رابطہ کرکے خاموش کمرے کی درخواست کی جائے، لفٹ اور پول سے دور جگہ مانگی جائے اور ضرورت پڑنے پر ایئر پلگ یا مخصوص شور پیدا کرنے والا آلہ ساتھ رکھا جائے۔

آخرکار، ہوٹل میں قیام کا بنیادی مقصد صرف رات گزارنا نہیں بلکہ آرام اور اگلے دن کے لیے خود کو تیار کرنا بھی ہے۔ اس لیے اگر پرسکون نیند آپ کی ترجیح ہے تو کمرہ بک کرتے وقت صرف قیمت اور بستر پر توجہ نہ دیں، بلکہ یہ بھی پوچھیں کہ کمرہ کتنا خاموش ہو سکتا ہے۔

More

Comments
1000 characters