پاکستان کے قومی کرکٹر عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کی جانب سے لگائے گئے سنگین الزامات کے بعد اس پورے معاملے میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب مبینہ طور پر یہ طبی عمل انجام دینے والی ڈاکٹر نے بھی اپنی خاموشی توڑ دی اور اس حوالے سے اپنا مؤقف سامنے رکھ دیا۔

کچھ روز قبل ثانیہ اشفاق نے ایک نجی پوڈکاسٹ میں انکشاف کیا تھا کہ 2023 میں ان کے سابق شوہر اور ان کی ساس نے انہیں زبردستی تیسرے بچے کا حمل ضائع کروانے پر مجبور کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے بالکل خلاف تھیں کیونکہ اس وقت بچے کی دھڑکن بھی شروع ہو چکی تھی، لیکن اس کے باوجود لاہور کی ایک ڈاکٹر کو اس عمل کے لیے ایک لاکھ روپے ادا کیے گئے، انہیں بے ہوش کیا گیا اور ہوش میں آنے پر انہیں معلوم ہوا کہ ان کا حمل ختم کیا جا چکا ہے۔

اس دعوے کے سامنے آنے کے بعد جب سوشل میڈیا اور عوام کی طرف سے تنقید کا طوفان اٹھا، تو اس مبینہ پروسیجر سے جڑی ڈاکٹر نے اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے اس معاملے کی پوری کہانی کا دوسرا رخ بیان کیا۔

ڈاکٹر نے اسقاطِ حمل کا طبی عمل کرنے سے تو انکار نہیں کیا، البتہ ثانیہ کے اس دعوے کو سراسر غلط قرار دیا کہ یہ عمل ان کی مرضی کے بغیر زبردستی کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ثانیہ اشفاق اس فیصلے سے پوری طرح آگاہ تھیں اور انہوں نے اپنی رضامندی ظاہر کی تھی، کیونکہ وہ حمل غیر منصوبہ بند تھا اور اس دوران وہ کرکٹ ورلڈ کپ کے سلسلے میں سفر کرنے کی خواہشمند تھیں۔

۔

ڈاکٹر کا مزید کہنا تھا کہ جوڑے نے اس سلسلے میں ان کے کلینک کے کچھ وزٹ بھی کیے تھے۔

ڈاکٹر نے مزید دعویٰ کیا کہ اس وقت اگرچہ جوڑے کے ذاتی حالات اتنے اچھے محسوس نہیں ہو رہے تھے، تاہم حمل گرانے کے اس فیصلے پر میاں اور بیوی دونوں مکمل طور پر ایک دوسرے کے ساتھ متفق تھے۔

دونوں فریقین کی جانب سے اس حساس معاملے پر بالکل الگ الگ اور متضاد بیانات دیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر کے اس تردیدی بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور شائقین کی طرف سے ڈاکٹر پر بھی شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور اس تنازع نے ایک نیا بحث کا دروازہ کھول دیا ہے۔

More

Comments
1000 characters