کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ واشنگ مشین میں کپڑے دھونے کے بعد انہیں وقت پر نکالنا بھول جاتے ہیں اور یہ صورتحال ہر ایک ساتھ کبھی نہ کبھی ضرور پیش آئی ہوگی۔ کئی گھنٹے یا پوری رات مشین میں پڑے رہنے کے بعد جب کپڑے نکالے جاتے ہیں تو ان سے ایک عجیب سی ناگوار بو آنے لگتی ہے۔ بعض اوقات کپڑے خشک کرنے کے باوجود یہ بو ختم نہیں ہوتی۔
اس کی وجہ صرف کپڑوں کا زیادہ دیر تک گیلا رہنا نہیں بلکہ بیکٹیریا، پھپھوندی، کپڑے کے ریشوں اور خود واشنگ مشین کا کردار بھی اس میں شامل ہوتا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق، ’دی کنورسیشن‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نے اس مسئلے کی سائنسی وجوہات اور اس سے بچنے کے طریقے بیان کیے ہیں۔
سائنسی تحقیقات کے مطابق جب نم کپڑے کمرے کے درجہ حرارت پر رہتے ہیں تو وہ جراثیم کی افزائش کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتے ہیں۔
کمرے کے درجہ حرارت پر گیلے کپڑوں میں نمی کے ساتھ جلد کے مردہ خلیے، پسینے کے ذرات اور قدرتی چکنائیاں بھی موجود ہوتی ہیں، جو بعض جراثیم کے لیے خوراک کا کام کرتی ہیں۔
2021 میں جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ گیلے کپڑوں جیسی مخصوص بو بعض بیکٹیریا کی جانب سے خارج کیے جانے والے کیمیائی مرکبات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیکٹیریا خشک ہونے اور بالائے بنفشی شعاعوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، اس لیے دھلائی کے بعد بھی ان میں سے کچھ باقی رہ سکتے ہیں۔
صرف کپڑے ہی اس مسئلے کی وجہ نہیں ہوتے بلکہ واشنگ مشین بھی اس مسئلے کا اہم سبب بن سکتی ہے۔ فرنٹ لوڈنگ مشینوں میں دروازے کی ربڑ سیل اور ڈٹرجنٹ والی دراز میں جراثیم کی تہیں جم جاتی ہیں جو ہر بار دھلائی کے دوران نئے کپڑوں میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ اگر مشین کو باقاعدگی سے صاف نہ کیا جائے تو یہ جراثیم ہر بار دھلائی کے دوران کپڑوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
زیادہ دیر تک گیلے رہنے والے کپڑوں میں پھپھوندی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ جو بارش کے بعد گیلی مٹی جیسی خوشبو یا بدبو پیدا کرنے والے کیمیائی مرکبات خارج کرتی ہے۔
کپڑوں کی اقسام بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سوتی کپڑے پانی زیادہ جذب کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں تیل اور نامیاتی مادے کم جمع ہوتے ہیں اور بیکٹیریا کو خوراک کم ملتی ہے۔
اس کے برعکس پالسٹر اور نائیلون جیسے مصنوعی ریشے چکنائی اور پسینے کو آسانی سے جذب کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے کھیلوں کے ملبوسات یا پالسٹر کے کپڑوں میں بدبو زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے اور بار بار دھونے کے باوجود ختم نہیں ہوتی۔
اگر کپڑوں میں بدبو آ جائے تو انہیں دوبارہ دھونا بہتر ہے۔ کپڑے کی دیکھ بھال سے متعلق ہدایات اجازت دیں تو نسبتاً گرم پانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں دھلائی سے پہلے سرکے کے محلول میں کپڑے بھگونا بھی مددگار ہو سکتا ہے، تاہم سرکہ اور بلیچ کو کبھی آپس میں ملا کر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
بدبو سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ واشنگ مشین کا سائیکل مکمل ہونے کے بعد کپڑوں کو زیادہ دیر تک اندر نہ چھوڑا جائے۔ بہتر ہے کہ انہیں تقریباً 30 سے 60 منٹ کے اندر مشین سے نکال کر کھلی اور ہوا دار جگہ پر خشک کر دیا جائے۔ کپڑوں کا جلدی خشک ہونا بیکٹیریا اور پھپھوندی کی افزائش کے لیے ضروری نمی کو کم کر دیتا ہے۔
واشنگ مشین کی صفائی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ ربڑ کی سیل، ڈٹرجنٹ کی دراز اور مشین کے دوسرے حصوں کو باقاعدگی سے صاف کرنا چاہیے۔ وقتاً فوقتاً مشین کو مناسب صفائی والے سائیکل پر چلانے سے اندر جمع ہونے والی گندگی اور جراثیمی تہوں کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹھنڈے پانی سے کپڑے دھونے سے توانائی کی بچت اور بعض کپڑوں کی عمر بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن کچھ حالات میں گرم پانی بدبو پیدا کرنے والے جراثیم کو کم کرنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم پانی کا درجہ حرارت ہمیشہ کپڑے پر موجود نگہداشت کی ہدایات کے مطابق ہی رکھنا چاہیے۔
اس لیے گیلے کپڑوں کی بدبو سے بچنے کا بنیادی اصول سادہ ہے: کپڑوں کو دھونے کے بعد زیادہ دیر تک گیلا نہ چھوڑیں، انہیں اچھی طرح خشک کریں اور واشنگ مشین کو بھی صاف رکھیں۔ کپڑے کی قسم اور دھلائی کے مناسب طریقے کا خیال رکھ کر اس پریشان کن بدبو سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔
























