80 کی دہائی کا وہ سنہرہ دور جب بھارتی سینما پر مختلف کہانیوں اور فلموں کے ری میک کا طوطی بولتا تھا، بولی ووڈ کے معروف اداکار دھرمیندر کی ایک ایکشن فلم نے باکس آفس پر دھوم مچا دی تھی۔ جس کی اصل کہانی 1981 کی پاکستانی بلاک بسٹر فلم ’شیر خان‘ سے جڑی بتائی جاتی ہے۔
1987 میں ریلیز ہونے والی اس فلم کا نام ’آگ ہی آگ‘ تھا، جس میں دھرمیندر کے ساتھ شتروگھن سنہا، ونود مہرا، نیلم کوٹھاری اور چنکی پانڈے جیسے نامور ستارے بھی جلوہ گر تھے۔ یہ وہی فلم ہے جس کے ذریعے اداکار چنکی پانڈے نے اپنے فلمی سفر کا باقاعدہ آغاز کیا تھا
فلم کی ریلیز سے پہلے ہی شائقین میں خاصا جوش پایا جاتا تھا اور ریلیز کے بعد بھی اس نے باکس آفس پر دھوم مچادی اور شائقین کی بھرپور پذیرائی کے بعد یہ سال کی بڑی ہٹ فلموں میں شمار ہوئی۔

اس مسالا فلم کے پروڈیوسر پہلاج نہلانی تھے، جو اس پراجیکٹ میں معروف اداکارہ مادھوری ڈکشت کو کاسٹ کرنا چاہتے تھے، تاہم کسی وجہ سے اداکارہ نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔ بعد میں فلم میں نیلم کوٹھاری سمیت دیگر اداکاراؤں نے کام کیا۔
شبو مترا کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کی موسیقی بپی لہری نے ترتیب دی۔ لتا منگیشکر آشا بھوسلے اور شبیر کمار جیسے لازوال فنکاروں کی آوازیں اس فلم کے گیتوں میں شامل تھیں۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس (آئی ایم ڈی بی) کے ریکارڈ کے مطابق یہ فلم پاکستانی پنجابی سنیما کی مشہور زمانہ بلاک بسٹر فلم ’شیر خان‘ کا باقاعدہ ریمیک تھی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں فلموں میں بعض مناظر بھی ایک دوسرے سے کافی ملتے جلتے تھے۔
1981 میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلم ’شیر خان‘ کی کامیابی کے چرچے زبان زد عام تھے۔ یونس ملک کی ہدایت کاری اور انور کمال پاشا کی پروڈکشن میں بننے والی اس فلم میں سلطان راہی، انجمن، اقبال حسن اور مصطفیٰ قریشی نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔

بھارتی فلم ’آگ ہی آگ‘ میں دھرمیندر نے والد کا کردار ادا کیا، جو پاکستانی فلم میں اقبال حسن نے نبھایا تھا۔ اسی طرح سلطان راہی کا کردار بیٹے کے طور پر دکھایا گیا تھا، جبکہ مصطفیٰ قریشی نے پولیس افسر کا کردار ادا کیا تھا۔
’شیر خان‘ نے پاکستانی سینما میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی اور ڈائمنڈ جوبلی منائی۔ فلم کئی سینما گھروں میں طویل عرصے تک نمائش کے لیے پیش کی جاتی رہی اور بعض مقامات پر تقریباً 5 سال تک اس کی نمائش جاری رہی۔
یہ فلم اداکارہ انجمن کے کیریئر کے لیے بھی اہم ثابت ہوئی۔ فلم کے بعد سلطان راہی اور انجمن کی جوڑی نے پاکستانی پنجابی فلموں میں خاصی مقبولیت حاصل کی اور دونوں نے بعد میں متعدد فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔

80 اور 90 کی دہائی میں پاکستانی اور بھارتی فلم انڈسٹری کے درمیان فلمی کہانیوں اور مناظر کی مماثلت کے کئی واقعات سامنے آتے رہے۔ ’آگ ہی آگ‘ اور ’شیر خان‘ کا حوالہ بھی اسی دور کی ان فلموں میں دیا جاتا ہے جن کے بارے میں ریمیک یا نقل کیے جانے کی باتیں سامنے آئی ہیں۔
























