ایشیائی گھرانوں میں پراٹھا شوق سے کھایا جا تا ہے، صبح کے ناشتے کی بات ہو تو گرم گرم پراٹھے کے بغیر دسترخوان ادھورا سا لگتا ہے۔ لیکن اسے پکاتے وقت اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ گھی استعمال کیا جائے، تیل یا مکھن؟ ذائقے کے ساتھ ساتھ صحت کا خیال رکھنے والے افراد کے لیے یہ انتخاب اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ تینوں چکنائیوں کی غذائی خصوصیات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
ماہرین صحت کے مطابق پراٹھے کو مکمل طور پر صحت بخش یا غیر صحت بخش قرار دینے کے بجائے اس میں استعمال ہونے والی چکنائی کی قسم، مقدار اور مجموعی خوراک کو دیکھنا زیادہ ضروری ہے۔ اگر چکنائی مناسب مقدار میں استعمال کی جائے تو کبھی کبھار پراٹھا متوازن غذا کا حصہ بن سکتا ہے۔
دیسی گھی: روایتی اور فائدہ مند
بہت سے گھروں میں آج بھی پراٹھے پکانے کے لیے خالص دیسی گھی کا استعمال ترجیحاً کیا جاتا ہے۔ دیسی گھی میں پراٹھا پکانے سے اس کا ذائقہ، خوشبو اور کرکرا پن بڑھ جاتا ہے۔ گھی میں وٹامن اے، ڈی، ای اور کے جیسے چکنائی میں حل پذیر وٹامنز پائے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ، اس میں موجود ’بیٹیریٹ‘ آنتوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔ گھی کا ’اسموک پوائنٹ‘ بلند ہوتا ہے، یعنی یہ زیادہ درجہ حرارت پر بھی اپنے مفید اجزاء کو محفوظ رکھتا ہے۔ اگر آپ کبھی کبھار یا اعتدال میں پراٹھے کھاتے ہیں، تو دیسی گھی یا معیاری تیل کا استعمال بہترین ہے۔
دیسی گھی میں سیر شدہ چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ خاص طور پر ایسے افراد جنہیں کولیسٹرول بڑھنے، دل کی بیماری یا وزن زیادہ ہونے کا مسئلہ ہے، انہیں اپنی خوراک میں گھی کی مقدار پر خاص توجہ دینی چاہیے۔
تیل کا انتخاب کرتے وقت قسم دیکھیں
پراٹھے کے لیے تیل استعمال کرنا بھی ایک مناسب انتخاب ہو سکتا ہے، لیکن ہر تیل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ عام طور پر ایسے تیل کو ترجیح دی جاتی ہے جن میں غیر سیر شدہ چکنائی زیادہ ہو۔
تیل: ہلکا اور ورسٹائل آپشن
سرسوں، کینولا، سویا بین اور زیتون جیسے تیل مختلف کھانوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ ۔ یہ دل کی صحت کے لیے نسبتاً زیادہ سازگار متبادل مانے جاتے ہیں۔ تاہم تیل کا انتخاب کرتے وقت یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اسے کس درجہ حرارت پر استعمال کیا جا رہا ہے اور مقدار کتنی ہے۔
صرف یہ سوچنا درست نہیں کہ تیل چونکہ گھی سے ہلکا محسوس ہوتا ہے، اس لیے اسے جتنا چاہیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تمام چکنائیوں میں کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں۔
مکھن: لذت سے بھرپور انتخاب
پراٹھے کا اصل اور روایتی ذائقہ اکثر مکھن کے ساتھ ہی نکلتا ہے، اسی لیے بہت سے لوگ گرم پراٹھے پر مکھن لگانا پسند کرتے ہیں۔ مکھن میں کچھ غذائی اجزا اور وٹامنز موجود ہوتے ہیں، لیکن اس میں سیر شدہ چکنائی بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اگر آپ کو مکھن کا ذائقہ پسند ہے تو پراٹھے کو ہلکے تیل میں پکانے کے بعد اوپر سے بہت کم مقدار میں مکھن لگا سکتے ہیں۔
اس لیے روزانہ بڑی مقدار میں مکھن استعمال کرنا بہتر انتخاب نہیں سمجھا جاتا۔ اگر کبھی کبھار پراٹھا کھایا جا رہا ہو تو تھوڑی مقدار میں مکھن استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے روزمرہ کی عادت بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔
پراٹھے کے معاملے میں صرف گھی، تیل یا مکھن کا انتخاب ہی اہم نہیں بلکہ اس کی مقدار بھی بہت معنی رکھتی ہے۔ ایک پراٹھے میں کئی چمچ چکنائی استعمال کرنے سے اس کی مجموعی کیلوریز کافی بڑھ سکتی ہیں۔
اگر کوئی شخص روزانہ پراٹھا کھاتا ہے تو کم مقدار میں چکنائی استعمال کرنا، پراٹھے کو زیادہ نہ تلنا اور ساتھ میں دہی، سبزی یا پروٹین والی غذا شامل کرنا بہتر طریقہ ہو سکتا ہے۔
کولیسٹرول یا دل کے مریض کیا کریں؟
جن لوگوں کو ہائی کولیسٹرول، دل کی بیماری، ذیابیطس یا وزن بڑھنے کا مسئلہ ہے، انہیں اپنی خوراک میں چکنائی کی مقدار پر زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔ ایسے افراد کے لیے یہ فیصلہ صرف ذائقے کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کی مجموعی خوراک اور صحت کی حالت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
اگر ڈاکٹر نے سیر شدہ چکنائی کم کرنے کا مشورہ دیا ہے تو گھی اور مکھن کی مقدار محدود رکھنا خاص طور پر اہم ہے۔ ایسی صورت میں مناسب تیل کا محدود استعمال بہتر متبادل ہو سکتا ہے۔
کون سا انتخاب بہتر ہے؟
اگر کبھی کبھار پراٹھا کھانا ہو تو تھوڑی مقدار میں گھی، مناسب تیل یا مکھن میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ تاہم روزانہ استعمال کے لیے چکنائی کی مقدار کم رکھنا زیادہ اہم ہے۔
صحت کے لحاظ سے صرف یہ کہنا درست نہیں کہ گھی ہمیشہ تیل سے بہتر ہے یا مکھن ہمیشہ نقصان دہ ہے۔ اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ کون سی چکنائی کتنی مقدار میں استعمال کی جا رہی ہے اور مجموعی خوراک میں سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذائیں کتنی شامل ہیں۔
یعنی پراٹھا کھاتے وقت سب سے بہتر اصول یہی ہے کہ ذائقے کے ساتھ مقدار کا بھی خیال رکھا جائے۔ کبھی کبھار کم چکنائی میں بنا پراٹھا زیادہ مناسب انتخاب ہو سکتا ہے، جبکہ روزانہ زیادہ گھی، تیل یا مکھن استعمال کرنا صحت کے لیے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔
























