باورچی خانے میں روزانہ استعمال ہونے والے اسٹین لیس اسٹیل کے چمچ، کانٹے اور دوسرے برتن کچھ عرصے بعد اپنی چمک کھو دیتے ہیں۔ خاص طور پر پانی کے دھبے، معدنی تہہ اور انگلیوں کے نشان برتنوں کو پرانا اور بے رونق دکھانے لگتے ہیں۔ ایسے میں مہنگی صفائی کی مصنوعات خریدنے کے بجائے گھر میں موجود سفید سرکے سے ایک آسان طریقہ آزمایا جا سکتا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اخبار ”ایل کرونیستا“ نے رپورٹ کیا ہے کہ اس ترکیب سے پانی کے نشان، جمی ہوئی تہہ، بدبو اور انگلیوں کے داغ صاف کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ طریقہ خاص طور پر اسٹین لیس اسٹیل کے برتنوں کی کھوئی ہوئی چمک واپس لانے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ سرکہ صرف کھانے میں ذائقہ بڑھانے کے لیے ہی استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس میں موجود ایسیٹک ایسڈ صفائی میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ تیزابی جزو پانی سے بننے والے کچھ معدنی دھبوں اور سطح پر جمی گندگی کو ڈھیلا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
سرکہ اور گرم پانی کا محلول بنائیں
اس طریقے کے لیے سفید سرکے اور گرم پانی کو برابر مقدار میں ایک برتن میں ملا لیں۔ اگر برتن پر دھبے زیادہ پرانے یا ضدی ہوں تو بعض صورتوں میں سفید سرکہ بغیر پانی ملائے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم اسے زیادہ دیر تک سطح پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔
اب چمچ، کانٹے یا دوسرے اسٹین لیس اسٹیل کے برتن اس محلول میں تقریباً 5 سے 10 منٹ کے لیے رکھ دیں۔ زیادہ دیر تک بھگونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ تیزابیت والی چیز کا طویل وقت تک رابطہ بعض سطحوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
نرم کپڑے سے صفائی کریں
برتنوں کو محلول سے نکالنے کے بعد نرم کپڑے یا نان ایبریسو سپنج سے آہستہ آہستہ صاف کریں۔ اگر اسٹین لیس سٹیل پر خاص سمت میں باریک لکیریں بنی ہوئی ہیں تو اسی سمت میں صفائی کرنا بہتر ہے۔
اس طرح رگڑنے سے سطح پر غیر ضروری خراشیں پڑنے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ صفائی کے لیے لوہے کی جالی یا بہت سخت رگڑنے والی چیز استعمال کرنے سے گریز کریں۔
سرکے سے صفائی مکمل ہونے کے بعد برتنوں کو صاف پانی سے اچھی طرح دھو لیں تاکہ سرکے کی باقیات، بو یا ذائقہ سطح پر نہ رہ جائے۔ اس کے بعد انہیں کسی صاف اور خشک کپڑے سے فوراً خشک کر دیں۔
برتنوں کو خود ہی ہوا میں خشک ہونے کے لیے چھوڑنے سے دوبارہ پانی کے وہ چھوٹے دھبے بن سکتے ہیں جن سے آپ چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہیں۔، اس لیے خشک کرنے کے مرحلے کو نظر انداز نہ کریں۔
کن برتنوں پر احتیاط ضروری ہے؟
یہ طریقہ عام اسٹین لیس اسٹیل کے برتنوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن ہر دھاتی یا کوٹنگ والے برتن پر سرکہ استعمال کرنا مناسب نہیں۔ ایسے برتن جن پر خاص پالش، کوٹنگ یا دوسرے حساس مواد کی تہہ موجود ہو، ان کے لیے پہلے بنانے والے کی ہدایات دیکھ لینا بہتر ہے۔
اسی طرح اگر کسی برتن پر چپکا ہوا ہینڈل لگا ہو تو اسے زیادہ دیر تک پانی یا سرکے کے محلول میں بھگونے سے گریز کریں، کیونکہ نمی یا تیزابیت ہینڈل کو جوڑنے والے مواد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
سرکہ اور بلیچ کبھی نہ ملائیں
صفائی کے دوران ایک اہم احتیاط یہ ہے کہ سرکے کو بلیچ یا کلورین والی صفائی کی مصنوعات کے ساتھ ہرگز نہ ملایا جائے۔ دونوں کو ملانے سے خطرناک گیس پیدا ہو سکتی ہے، جو سانس لینے کے لیے نقصان دہ ہے۔
اس کے علاوہ سرکہ استعمال کرتے وقت کمرے میں مناسب ہوا کا گزر ہونا بہتر ہے۔ اگر برتن صاف کرنے کے بعد بھی دھبے یا میل ختم نہ ہوں تو بار بار سخت کیمیکل استعمال کرنے کے بجائے برتن کی نوعیت کے مطابق مناسب صفائی کا طریقہ اختیار کریں۔
یوں گھر میں موجود سفید سرکہ معمولی پانی کے دھبوں اور سطحی گندگی کو صاف کرنے کا ایک سستا اور آسان طریقہ بن سکتا ہے، جبکہ مناسب مقدار، کم وقت اور احتیاط کے ساتھ استعمال کرنے سے اسٹیل کے برتنوں کی ظاہری چمک بھی بہتر کی جا سکتی ہے۔
صفائی کے لیے دھاتی تاروں یا کھرچنے والی اشیاء کا استعمال ہرگز نہ کریں، اس سے اسٹینلیس اسٹیل پر مستقل خراشیں پڑ سکتی ہیں۔
























