نیویارک کی عدالت نے ہالی ووڈ کے سابق فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹین کو 2006 میں خاتون کو جنسی ہراساں کرنے کے جرم میں 15 سال قید کی سزا سنا دی ہے ۔

سی این این کے مطابق 74 سالہ ہاروی وائنسٹین کو مین ہٹن میں ٹی وی پروڈکشن اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے والی مریم ہیلی کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔

ہاروی وینسٹین کی یہ سزا اسیف ٹو موومنٹ کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے.یہ معاملہ کئی سال تک عدالتوں میں چلتا رہا اور اس دوران وائنسٹین کی ایک سابق سزا بھی ختم کر دی گئی تھی۔

عدالت میں سزا سنانے سے قبل مریم ہیلی نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے اور اس کے بعد اپنی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بات کی۔

انہوں نے کہا کہ ہاروی وائنسٹین کے ہاتھوں جنسی زیادتی نے ان کی زندگی اور تحفظ کے احساس کو شدید متاثر کیا، جس کے اثرات شاید کبھی ختم نہ ہوں۔

ہیلی نے کہا، ”یہ میرے لیے عمر بھر کی سزا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ انصاف کے حصول کی کوشش کے دوران انہیں دوبارہ ذہنی صدمے سے گزرنا پڑا اور کئی مرتبہ ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ قانونی کارروائی چھوڑ دیں۔

مریم ہیلی نے عدالت کو بتایا کہ وہ وائنسٹین سے ایک مشترکہ جاننے والے کے ذریعے ملی تھیں اور مختصر عرصے تک ان کی تیار کردہ ریئلٹی شو ”پروجیکٹ رن وے“ میں پروڈکشن اسسٹنٹ کے طور پر کام کر چکی تھیں۔

ان کے مطابق 2006 میں وائنسٹین نے انہیں اپنے مین ہٹن اپارٹمنٹ آنے کی دعوت دی، جہاں بات چیت کے دوران صورتحال بدل گئی اور ان کے بقول وائنسٹین نے ان کی مرضی کے خلاف انہیں جنسی حملے کا نشانہ بنایا۔

سزا سنائے جانے سے قبل وائنسٹین نے عدالت میں مریم ہیلی کے لیے افسوس کا اظہار کیا، تاہم اپنی بے گناہی پر قائم رہے۔ وہ وہیل چیئر پر عدالت میں موجود تھے۔ وائنسٹین نے کہا، ”مجھے مریم ہیلی کو پہنچنے والے درد پر افسوس ہے، لیکن مجھے اپنی بے گناہی دوبارہ بیان کرنی ہے۔“

یہ سزا وائنسٹین کے خلاف ایک طویل قانونی کارروائی کا تازہ مرحلہ ہے۔ انہیں 2020 میں نیویارک میں مریم ہیلی پر حملہ کرنے اور 2013 میں ایک دوسری خاتون جیسیکا مان کے ساتھ زیادتی کے جرم میں مجموعی طور پر 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم 2024 میں نیویارک کی اعلیٰ ترین عدالت نے ان کی سابقہ سزا ختم کرتے ہوئے نئے مقدمے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کے مطابق مقدمے میں ایسی خواتین کی گواہی بھی شامل کی گئی تھی جن کے الزامات براہ راست زیرِ سماعت مقدمے کا حصہ نہیں تھے، جس سے وائنسٹین کے ساتھ انصاف کے عمل پر منفی اثر پڑا۔

اس کے بعد دوبارہ مقدمہ چلایا گیا۔ نئے مقدمے میں جیوری نے وائنسٹین کو مریم ہیلی کے ساتھ پہلے درجے کے مجرمانہ جنسی فعل کا مجرم قرار دیا، جبکہ ایک دوسری خاتون کاجا سوکولا سے متعلق الزام میں انہیں بری کر دیا گیا۔ جیسیکا مان سے متعلق زیادتی کے الزام پر جیوری کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچ سکی۔

مئی میں دوبارہ مقدمہ چلنے کے باوجود جیوری کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی، جس کے بعد مین ہٹن کے پراسیکیوٹرز نے جیسیکا مان سے متعلق زیادتی کا الزام دوبارہ چلانے کے بجائے ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ مان نے کہا تھا کہ وہ دوبارہ عدالت میں گواہی دینے کی صورتحال برداشت نہیں کر سکتیں۔ اس فیصلے کے بعد وائنسٹین کی نیویارک کیس میں سزا سنانے کی راہ ہموار ہوئی۔

پراسیکیوٹرز نے عدالت سے وائنسٹین کو 20 سال قید کی سزا دینے کی درخواست کی تھی۔ دوسری جانب ان کے وکیل جیکب کپلن نے عدالت سے کم سزا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وائنسٹین پہلے ہی چھ سال سے زیادہ عرصہ جیل اور حراست میں گزار چکے ہیں اور طویل مزید سزا کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ان کی موت جیل ہی میں ہو جائے۔

وائنسٹین کے وکیل کے مطابق سابق فلم پروڈیوسر کو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا ہے اور 2025 کے بعد وہ کئی مرتبہ اسپتال میں داخل ہو چکے ہیں۔ وہ کئی سال سے وہیل چیئر استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے وکیل نے خون کے کینسر، دل کی بیماری اور گردوں کے مسائل سمیت دیگر طبی مشکلات کا بھی حوالہ دیا۔

ہاروی وائنسٹین نے 2017 میں اپنے خلاف سامنے آنے والے جنسی زیادتی کے الزامات سے انکار کیا تھا۔ ان الزامات کے بعد ہالی ووڈ سمیت دنیا بھر میں جنسی ہراسانی اور زیادتی کے خلاف ”می ٹو“ تحریک کو بڑے پیمانے پر تقویت ملی۔

وائنسٹین کبھی امریکی فلمی صنعت کی انتہائی بااثر شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے ”شیکسپیئر اِن لو“، ”پلپ فکشن“ اور ”چاکلیٹ“ جیسی مشہور فلموں کی پروڈیوسنگ کی تھی اور آسکر ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا۔ تاہم ان کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات سامنے آنے کے بعد ان کا کیریئر تیزی سے ختم ہو گیا۔

نیویارک کیس کے علاوہ وائنسٹین کو کیلیفورنیا میں بھی ایک الگ زیادتی کے مقدمے کا سامنا ہے۔ وہ لاس اینجلس کے مقدمے میں 2022 کی سزا کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی نیویارک میں سنائی گئی نئی سزا کے خلاف بھی اپیل کا امکان موجود ہے۔

وائنسٹین نے مارچ میں جیل سے دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی بے گناہی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا، ”میں بے گناہ ثابت ہوں گا۔ میں آپ سے یہ وعدہ کرتا ہوں۔“

More

Comments
1000 characters