غزہ کے موضوع پر بنائی جانے والی دستاویزی فلم ’نازا‘ نے وینس فلم فیسٹیول میں عالمی سطح پر غیر معمولی پذیرائی حاصل کرنے کے ساتھ ہی اسرائیل میں ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ وینس فلم فیسٹیول میں اس فلم کو نمائش کے بعد 25 منٹ تک کھڑے ہو کر مسلسل داد دی گئی، جو کہ فیسٹیول کی تاریخ کا ایک بڑا ریکارڈ مانا جا رہا ہے۔
’نازا‘ کو تین سال کے دوران انتہائی رازداری سے تیار کیا گیا۔ عرب میڈیا ذرائع کے مطابق اس متنازع فلم میں اسرائیلی انٹیلیجنس کے اندرونی ذرائع اور 24اسرائیلی فوجیوں کی خفیہ شناخت کے ساتھ بیانات شامل کیے گئے ہیں۔ فلم سازوں نے ان افراد کے چہرے اور آوازیں بھی تبدیل کی ہیں تاکہ ان کی شناخت ظاہر نہ ہو۔
فلم میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ غزہ میں جنگی اہداف کے تعین کے لیے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے نظام کا استعمال کیا گیا، اور ایسے حملے بھی کیے گئے جن میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا پہلے سے علم ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج اور حکام نے فلم میں پیش کیے گئے الزامات کو مسترد کیا ہے اور اسے فوج کے خلاف گمراہ کن مہم قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ فلم کا نام ’نازا‘ بھی اسی اصطلاح سے ماخوذ ہے جو متوقع شہری ہلاکتوں کی گنتی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ فلم اسی اصطلاح کو بنیاد بنا کر یہ سوال اٹھاتی ہے کہ جنگی کارروائیوں میں شہری جانوں کے نقصان کو فوجی فیصلوں میں کس حد تک پہلے سے شمار کیا جاتا ہے۔
فلم کی اس زبردست بین الاقوامی کامیابی کے بعد اسرائیلی حکومت کی طرف سے انتہائی سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے اس کے ہدایت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کی بات شروع کر دی ہے۔
فلم کو ایوارڈ ملنے کے بعد اسرائیل کے ثقافتی امور کے وزیر میکی زوہر نے فلم سازوں یووال ابراہم اور ریچل زور پر ریاست سے غداری کا الزام لگاتے ہوئے فوری طور پر ان کی اسرائیلی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ، اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی ایسے تمام شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے سخت قانون سازی پر غور شروع کر دیا ہے جو ملک سے باہر جا کر اسرائیلی فوج کو بدنام کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے ’نازا‘ کو ان مثالوں میں شامل کیا جن کی بنیاد پر انہوں نے مجوزہ قانون کا دفاع کیا۔ ان کے مطابق ایک اور قانون کے ذریعے فوج یا ریاست کے خلاف مبینہ ہتکِ عزت کے مقدمات میں مالی جرمانوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب، عرب میڈیا کی رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان فلم سازوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید دھمکیوں اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس معاملے میں اسرائیلی فوج بھی خاموش نہیں رہی۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے فلم میں شامل ذرائع کی شناخت اور معلومات کے حصول کے طریقہ کار کی جانچ کے لیے قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔ فوج کی جانب سے فلم کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس میں فوجیوں اور کمانڈروں کے خلاف غلط اور مسخ شدہ الزامات شامل ہیں۔
دوسری جانب فلم سازوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ دستاویزی فلم اسرائیلی شہری ہونے کی حیثیت سے اپنے ملک کی فوجی کارروائیوں پر سوال اٹھانے اور اندرونی ذرائع کی گواہی سامنے لانے کے لیے بنائی۔ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے یووال ابراہم نے کہا کہ اسرائیلیوں کے لیے اس فلم کو دیکھنا ضروری ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ فلم پر تنقید کرنے سے پہلے اسے دیکھا جانا چاہیے۔
’نازا‘ کے خلاف اسرائیل میں ردعمل کے ساتھ ساتھ اسے عالمی فلمی حلقوں سے حمایت بھی ملی ہے۔ فلم ساز پہلے بھی ’نو ادر لینڈ‘ نامی دستاویزی فلم کے ذریعے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر چکے ہیں، جس پر انہیں آسکر ایوارڈ ملا تھا۔ نئی فلم نے وینس میں ایوارڈ حاصل کرکے غزہ جنگ، فوجی کارروائیوں اور شہری ہلاکتوں سے متعلق بحث کو ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔
























