غزہ کی حمایت پر جیل جانے والی مشہور شخصیات
امریکی اداکارہ سوسن سارینڈن اور ’ہیکس‘ کی اداکارہ ہانا آئن بائنڈر کو غزہ کے حق میں ہونے والے ایک احتجاج کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا۔ دونوں اداکارائیں نیویارک میں ہونے والے مظاہرے میں شریک تھیں۔
فلسطین اور غزہ کی پٹی پر جاری تباہ کن جنگ کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر فنکاروں، موسیقاروں اور نامور شخصیات کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے۔
بعض نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ کچھ نے براہِ راست سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں میں شرکت کی،تاہم، اس پرامن انسانی جذبے اور سیاسی اظہار رائے کی پاداش میں اب تک کئی نامور فنکاروں کو پولیس کی حراست اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
نیویارک کی سڑکوں سے لے کر لندن اور تل ابیب تک، احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے اور سوشل میڈیا پر بیانات دینے والی کئی عالمی شہرت یافتہ شخصیات کو سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکی اداکارہ سوسن سارینڈن اور ’ہیکس‘ کی اداکارہ ہانا آئن بائنڈر کی گرفتاری نے ایک بار پھر اس معاملے کو نمایاں کر دیا ہے۔ دونوں کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر ہونے والے احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا، جہاں مظاہرین اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی جنرل اسمبلی سے تقریر کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
سوسن سارینڈن اور ہانا آئن بائنڈر کی نیویارک میں گرفتاری

آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ سوسن سارینڈن ان معروف شخصیات میں شامل ہیں جنہیں 24 ستمبر 2026 کو نیویارک میں احتجاج کے دوران پولیس نے حراست میں لیا۔ یہ مظاہرہ ’جیوش وائس فار پیس‘ کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے سڑک پر بیٹھ کر احتجاج کیا اور پولیس کی جانب سے راستہ خالی کرنے کی ہدایت کے باوجود کئی افراد وہاں موجود رہے۔ اس کے بعد پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا۔ مجموعی طور پر 100 سے زائد افراد کی گرفتاری کی اطلاعات سامنے آئیں۔
میڈیا فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ پولیس اہلکاروں نے سارینڈن کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر انہیں حراست میں لیا۔
واضح رہے کہ سوسن سارینڈن اس سے قبل وینس فلم فیسٹیول کے دوران بھی اپنے فلسطینی حامی مؤقف کی وجہ سے فلمی صنعت کے اندرونی دباؤ اور کام کے مواقع سے محرومی کا کھل کر تذکرہ کر چکی ہیں، مگر انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرنا کبھی بند نہیں کریں گی۔
اسی احتجاج کے دوران مشہور ٹی وی سیریز ”ہیکس“ کی ایمی ایوارڈ یافتہ اداکارہ ہانا آئن بائنڈر اور فلم ”دی ڈیول ویئرز پراڈا 2“ کے معروف کامیڈین و اداکار کیلیب ہیرون کو بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے لیا۔
منتظمین کے مطابق اس روز 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، تاہم گرفتاری کے بعد ہانا آئن بائنڈر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کی توجہ احتجاج میں شریک کسی بھی مشہور شخصیت پر مرکوز رہنے کے بجائے براہ راست غزہ کے محاصرہ زدہ عوام کی بدتر ہوتی ہوئی انسانی صورتحال پر ہونی چاہیے۔
رابرٹ ڈیل ناجا کی لندن میں گرفتاری

صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ برطانیہ میں بھی فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والے فنکاروں کے خلاف کریک ڈاؤن دیکھا گیا۔ برطانوی راک بینڈ ”میسیو اٹیک“ کے مرکزی گلوکار رابرٹ ڈیل ناجا کو لندن کے مشہور ٹرافالگر اسکوائر میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کے دوران حراست میں لیا گیا۔
یہ احتجاج برطانوی حکومت کی جانب سے ”پیلسٹائن ایکشن“ نامی تحریک پر پابندی عائد کیے جانے کے خلاف کیا گیا تھا۔ برطانوی پولیس نے اس موقع پر دعویٰ کیا تھا کہ ممنوعہ تنظیم کی حمایت کے شبہے میں 500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
گلوکار رابرٹ ڈیل ناجا نے گرفتاری کے بعد اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ انہوں نے اپنے کامیاب فنکارانہ کیریئر اور پروفیشل زندگی کو لاحق خطرات سے بخوبی آگاہ ہونے کے باوجود مظلوموں کا ساتھ دینے کا شعوری فیصلہ کیا تھا۔
ہنٹر شیفر بھی پہلے گرفتار ہو چکی ہیں

اسی طرح کچھ عرصہ قبل مشہور ٹی وی سیریز ”یوفوریا“سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ ہنٹر شیفر کو بھی نیویارک میں این بی سی کے دفاتر کے باہر اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن کی آمد کے موقع پر منعقدہ ایک مظاہرے کا حصہ تھیں۔
یہ مظاہرہ اس وقت ہوا جب اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن ’لیٹ نائٹ ود سیٹھ میئرز‘ پروگرام میں شرکت کے لیے وہاں موجود تھے۔ پولیس نے 30 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا، جن میں شیفر بھی شامل تھیں۔
ان تمام واقعات سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ فنکاروں کا احتجاج اب محض زبانی جمع خرچ تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ باقاعدہ سڑکوں پر آ کر اجتماعی گرفتاریوں اور ریاستی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
آن لائن پوسٹس پر اسرائیل کے اندر کریک ڈاؤن
میدانی احتجاج کے برعکس، اسرائیل کے اندر کا منظرنامہ اور بھی زیادہ سخت اور سنسرشپ پر مبنی رہا ہے۔ یہ معاملہ صرف سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں تک محدود نہیں رہا۔ اسرائیل میں بھی بعض فنکاروں کو سوشل میڈیا پوسٹس کے بعد قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیل کے شہر ناصرہ سے تعلق رکھنے والی معروف عرب اسرائیلی اداکارہ مائیسا عبد الہادی کو سوشل میڈیا پر غزہ جنگ سے متعلق ایک مبینہ پوسٹ اپ لوڈ کرنے پر دہشت گردی کی ترغیب دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے وکیل جعفر فرح نے اس قانونی کارروائی پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔
اسی طرح فلسطینی نژاد گلوکارہ دلال ابو آمغنہ کو بھی سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کے اظہار کی پاداش میں مختصر مدت کے لیے حراست میں لیا گیا۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اس دوران اسرائیل میں مقیم عرب اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو اظہارِ رائے کی پاداش میں نوکریوں سے برطرف کرنے اور یونیورسٹیوں سے خارج کرنے کے متعدد واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
عالمی سطح پر فنکاروں کے خلاف ہونے والی یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ غزہ پر مؤقف نے آرٹ، سیاست اور قانون کی حدود کو آپس میں خلط ملط کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر انفرادی پوسٹس سے شروع ہونے والی یہ بحث اب عالمی عدالتوں، پولیس کی حراستوں اور بڑے سیاسی میدانوں میں اجتماعی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں فنکار اپنے فن اور شہرت کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کی آواز بلند کرنے کی بھاری قیمت چکانے پر مجبور ہیں۔
حالیہ نیویارک احتجاج میں سوسن سارینڈن اور ہانا آئن بائنڈر سمیت معروف ناموں کی گرفتاری نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال نمایاں کیا ہے کہ جنگ اور انسانی بحران جیسے حساس معاملات پر عوامی شخصیات کے سیاسی اظہار کی حدود کہاں تک ہونی چاہئیں۔ ان گرفتاریوں کے قانونی نتائج اور آئندہ کارروائی ہر کیس کے مخصوص حالات پر منحصر ہوں گے۔
























