کوئٹہ میں تقریباً 28 سال تک ٹی وی، تھیٹر اور اسٹیج کے ذریعے لوگوں کو محظوظ کرنے والی معروف فنکارہ مسکان ملک آج اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے ایوب اسٹیڈیم کے باہر بادام دودھ فروخت کر رہی ہیں۔

مسکان ملک نے صرف 14 سال کی عمر میں فن کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ کئی برس تک انہوں نے ٹی وی اور تھیٹر پر کام کیا اور اپنے فن سے کوئٹہ کے لوگوں میں اپنی پہچان بنائی۔

ایک وقت تھا جب ان کی پرفارمنس پر تالیاں بجتی تھیں، لیکن آج حالات نے انہیں فن کے بجائے روزگار کے لیے ایک چھوٹا سا اسٹال لگانے پر مجبور کر دیا ہے۔

مسکان ملک کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں فنکاروں کے لیے اپنے فن سے روزی کمانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے بادام دودھ فروخت کرنے کا کام شروع کیا، لیکن یہ کام بھی فی الحال ان کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہا بلکہ خسارے میں جارہا ہے۔

ان کے مطابق اسٹال چلانے میں بھی اخراجات پورے کرنا مشکل ہو رہے ہیں اور ان کے پاس اتنا سرمایہ نہیں کہ وہ کوئی دوسرا کاروبار شروع کر سکیں۔

مسکان ملک نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت میں فنکاروں کی عزت اور قدر ہوتی تھی، لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ محکمہ فن و ثقافت کے متعلقہ حکام سے بھی مدد کے لیے رابطہ کر چکی ہیں، تاہم انہیں وہ تعاون نہیں مل سکا جس کی انہیں ضرورت تھی۔

مسکان ملک کی زندگی کی مشکلات صرف روزگار تک محدود نہیں۔ گھر میں ان کے شوہر بھی بیمار ہیں اور خاندان کی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری بھی ان کے کندھوں پر ہے۔

کبھی اسٹیج پر لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والی یہ فنکارہ آج اپنے گھر کا خرچ چلانے کے لیے سخت محنت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کسی سے بھیک نہیں چاہیے، بلکہ وہ ایسا باعزت روزگار چاہتی ہیں جس سے وہ اپنے خاندان کی ضروریات پوری کر سکیں۔

مسکان ملک کی خواہش ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان جیسے ان فنکاروں کی مدد کریں جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ثقافت اور فن کے لیے وقف کیا، لیکن عمر کے اس مرحلے پر انہیں معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں مناسب روزگار یا کوئی چھوٹا کاروبار شروع کرنے کے لیے مدد مل جائے تو وہ اپنے خاندان کا خرچ زیادہ بہتر انداز میں چلا سکتی ہیں۔

مسکان ملک کی کہانی صرف ایک فنکارہ کی مشکلات نہیں بلکہ ان فنکاروں کے لیے بھی ایک سوال ہے جو برسوں تک ثقافت اور فن کے شعبے میں خدمات انجام دینے کے باوجود بڑھتی عمر میں معاشی تحفظ سے محروم ہو جاتے ہیں۔

More

Comments
1000 characters