پہلی بار گاڑی خریدنے والے افراد کے لیے شو روم میں نظر آنے والی قیمت اکثر اصل قیمت نہیں ہوتی، حقیقت میں بینک اکاؤنٹ سے نکلنے والی رقم اکثر اس سے کافی زیادہ ہوتی ہے۔ گاڑی کی رجسٹریشن، ٹوکن ٹیکس، انشورنس، اضافی سامان اور دیگر چارجز جب شامل ہوتے ہیں تو قیمت میں بڑا فرق آ جاتا ہے۔ اسی لیے گاڑی بک کروانے سے پہلے مکمل آن روڈ قیمت اور اس میں شامل ہر چارج کو سمجھنا ضروری ہے۔
گاڑی بک کرواتے وقت خوشی اور جوش میں کئی ایسے خرچے نظر سے رہ جاتے ہیں جن کا بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے۔ پانچ ایسی باتیں ہیں جو گاڑی خریدنے والے کو سودا پکا کرنے سے پہلے ضرور دیکھ لینی چاہییں۔
پہلی بات انشورنس کی ہے۔ بہت سے لوگ اسے بس ایک لازمی خرچہ سمجھ کر ادا کر دیتے ہیں تاکہ گاڑی شو روم سے نکل سکے، حالانکہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ پیسے کس چیز کے دے رہے ہیں۔ تھرڈ پارٹی انشورنس صرف اس صورت میں کام آتی ہے جب آپ کی گاڑی سے کسی دوسرے شخص یا اس کی گاڑی کو نقصان پہنچے۔ اس میں آپ کی اپنی گاڑی کا نقصان شامل نہیں ہوتا۔ اسی لیے نئی گاڑی کے لیے کمپری ہینسو یعنی جامع انشورنس پر غور کرنا چاہیے، جو گاڑی کی قیمت، استعمال اور خطرے کو دیکھ کر منتخب کی جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے سستی پالیسی ضروری نہیں کہ آپ کے لیے سب سے مناسب بھی ہو۔ گاڑی کی بیمہ شدہ قیمت، ڈیڈکٹیبل یعنی نقصان کا وہ حصہ جو آپ کو خود بھرنا پڑتا ہے، پالیسی میں شامل نہ ہونے والی چیزیں، کلیم میں مدد اور کیش لیس ورکشاپس کی دستیابی جیسی باتیں اس وقت زیادہ اہم ثابت ہوتی ہیں جب واقعی کلیم کرنے کی نوبت آتی ہے۔
دوسری بات انشورنس کے ساتھ ملنے والے اضافی کورز کی ہے، جو خاموشی سے آپ کا بل بڑھا دیتے ہیں۔ نئی گاڑی خریدتے وقت آپ کو زیرو ڈیپریسیئیشن، ریٹرن ٹو انوائس، انجن پروٹیکشن، روڈ سائیڈ اسسٹنس اور کنزیومیبلز کور جیسی کئی پیشکشیں کی جا سکتی ہیں۔
اس معاملے میں خریدار عموماً دو غلطیوں میں سے ایک کرتے ہیں۔ یا تو بغیر سمجھے سب کچھ قبول کر لیتے ہیں، یا پھر پریمیم کم رکھنے کے لیے سب کچھ ٹھکرا دیتے ہیں۔ دونوں طریقے ہر شخص کے لیے درست نہیں ہوتے۔ کوئی اضافی کور آپ کے لیے کتنا کارآمد ہے، اس کا انحصار گاڑی کی قیمت، آپ کے علاقے کی سڑکوں، پارکنگ کی صورتِحال اور گاڑی کے روزانہ استعمال پر ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آپ اپنے اصل خطرات کے مطابق تحفظ خریدیں، نہ کہ زیادہ سے زیادہ کورز کا بوجھ اٹھا لیں۔
تیسری بات اضافی سامان یعنی ایکسیسریز کی ہے، جن کی وجہ سے حتمی بل آپ کی سوچی ہوئی رقم سے کہیں آگے نکل سکتا ہے۔ فلور میٹس، سیٹ کور، انفوٹینمنٹ سسٹم کی اپ گریڈ، ڈیش کیم اور اسی طرح کی دوسری چیزیں دیکھتے ہی دیکھتے اچھی خاصی رقم بنا دیتی ہیں۔ کچھ خریداروں کو یہ لگتا ہے کہ ڈیلر کی طرف سے پیش کیا گیا سامان گاڑی کی خریداری کا لازمی حصہ ہے، مگر ایسا نہیں ہے۔
ڈیلر سے ہر چیز کی الگ الگ فہرست مانگیں، دیکھیں کہ کون سی چیز واقعی ضروری ہے، اور پیکیج قبول کرنے سے پہلے بازار میں ان کی قیمتوں کا موازنہ ضرور کریں۔ اکثر یہی چیزیں باہر سے کافی کم قیمت میں اچھی کوالٹی کے ساتھ مل جاتی ہیں تو گاڑی خریدتے وقت بالکل شامل نہ کریں۔ تھوڑی سی ریسرچ یا محنت آپ کے اچھے ضاصے پیسے بچاسکتی ہے۔
چوتھی بات وارنٹی کی ہے۔ پہلی بار گاڑی لینے والوں کی ایک عام غلطی یہ ہے کہ وہ وارنٹی اور انشورنس کو ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں، جبکہ دونوں کا مقصد الگ ہے۔ وارنٹی عام طور پر کمپنی کی طرف سے تیاری میں نکلنے والی خرابیوں یا کسی پرزے کے نقص کو، اپنی شرائط کے مطابق، کور کرتی ہے جبکہ انشورنس حادثے، چوری، قدرتی آفات اور تیسرے فریق کے نقصان جیسے مخصوص خطرات کے لیے ہوتی ہے۔ گاڑی کی معمول کی دیکھ بھال، پرزوں کی گھسائی اور کئی طرح کی میکانیکی خرابیاں عام انشورنس پالیسی میں شامل نہیں ہوتیں۔ خریداری سے پہلے یہ فرق سمجھ لینے سے بعد میں مرمت کا بل دیکھ کر پریشان ہونے سے بچا جا سکتا ہے۔
پانچویں اور آخری بات یہ ہے کہ سب سے سستی انشورنس آگے چل کر مہنگی پڑ سکتی ہے۔ پہلی بار گاڑی خریدنے والا عموماً یہی پوچھتا ہے کہ انشورنس کتنے کی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ شاید صحیح سوال نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انشورنس کو گاڑی رکھنے کے مجموعی خرچے کا حصہ سمجھ کر پرکھنا چاہیے، نہ کہ خریداری کے وقت دستیاب سب سے کم پریمیم کو دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔
کم پریمیم والی پالیسی میں بیمہ شدہ قیمت، ڈیڈکٹیبل، شامل نہ ہونے والی چیزوں، کلیم میں معاونت یا ورکشاپس کے نیٹ ورک کے لحاظ سے فرق ہو سکتا ہے، اور یہ فرق اس وقت بہت بھاری پڑتا ہے جب گاڑی کے مالک کو واقعی کلیم کرنا پڑے۔
خلاصہ یہ ہے کہ نئی گاڑی خریدنے والے کو صرف شو روم کی قیمت پر نظر نہیں رکھنی چاہیے۔
رجسٹریشن اور ٹیکس خریداری کا ایسا حصہ ہیں جن سے بچا نہیں جا سکتا، جبکہ انشورنس، اضافی سامان اور دوسرے چارجز رقم مزید بڑھا دیتے ہیں۔ سب سے محفوظ طریقہ یہ ہے کہ رقم ادا کرنے سے پہلے ڈیلر سے مکمل اور الگ الگ تفصیل کے ساتھ آن روڈ قیمت تحریری صورت میں لے لیں۔ انشورنس کے معاملے میں اصل سوال یہ نہیں کہ پالیسی کتنے کی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ آپ کو کس مالی خطرے سے بچاتی ہے۔
پاکستان میں گاڑی خریدنے والوں کے لیے ایک اور بات کا ذکر بھی ضروری ہے۔ یہاں عام طور پر گاڑی کی رجسٹریشن، ٹوکن ٹیکس اور نمبر پلیٹ کے چارجز صوبائی سطح پر الگ سے ادا کرنے پڑتے ہیں، اس لیے ڈیلر سے پوچھ لیں کہ بتائی گئی قیمت میں یہ سب شامل ہے یا نہیں۔
اس کے علاوہ کئی مقبول ماڈلز پر بعض اوقات بکنگ کے بعد ڈیلیوری میں تاخیر ہوتی ہے اور کچھ ڈیلر ”اون منی“ یعنی حقیقی قیمت سے اوپر اضافی رقم مانگتے ہیں۔ ایسی رقم کی کوئی رسید عموماً نہیں ملتی، اس لیے ادائیگی سے پہلے تمام شرائط تحریری طور پر طے کر لینا بہتر ہے۔ چونکہ ٹیکس اور قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے خریداری سے پہلے کمپنی کی ویب سائٹ یا مجاز ڈیلر سے تازہ ترین معلومات ضرور چیک کریں۔

























