فلم ’ویلکم‘ کے معروف اداکار مشتاق خان چل بسے، بولی ووڈ کی فضا سوگوار
بولی ووڈ کے معروف معاون اداکار مشتاق خان 57 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وہ جگر کے کینسر میں مبتلا تھے اور ممبئی کے ناناوتی اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیات نے انہیں یاد کرتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مشتاق خان نے تقریباً تین دہائیوں پر محیط فلمی کیریئر میں متعدد ہندی فلموں میں کام کیا۔ انہیں ’ہم ہیں راہی پیار کے‘، ’عاشقی‘، ’مجھ سے شادی کرو گی‘، ’جوڑی نمبر ون‘ اور ’ویلکم‘ جیسی فلموں میں معاون کرداروں کے لیے پہچانا جاتا تھا۔ فلم ’ویلکم‘ میں معذور ہاکی کھلاڑی کا کردار ان کے نمایاں کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مشتاق خان گزشتہ کچھ عرصے سے جگر کے کینسر کا علاج کرا رہے تھے۔ ان کے کاروباری ساتھی شِوَم نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق مشتاق خان کو تقریباً پانچ سال قبل کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، تاہم حال ہی میں بیماری دوبارہ لوٹ آئی تھی اور انہیں تقریباً 15 روز سے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
مشتاق خان کے انتقال پر بولی ووڈ شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ اداکار سنی دیول نے مشتاق خان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انسٹاگرام پر لکھا، ’مشتاق خان کے انتقال کی خبر سن کر بہت افسوس ہوا۔ وہ ایک اچھے انسان اور بہترین اداکار تھے۔ ان کی یادیں ہمیشہ دل میں رہیں گی اور اللہ ان کے گھر والوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی طاقت دے۔‘

مشتاق خان کے قریبی دوست اور اداکار راجپال یادیو نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مشتاق خان کے ساتھ اپنی آخری ملاقات کو یاد کیا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اسی دن دوپہر کو مشتاق خان سے ملنے گئے تھے۔ راجپال یادیو نے لکھا، ’’میں آج دوپہر مشتاق بھائی سے ملنے گیا تھا۔ ہم نے بات کی، انہوں نے مجھے دیکھا اور مجھ سے ہاتھ بھی ملایا۔ وہ ہماری باتیں سن رہے تھے اور ان پر ردعمل بھی دے رہے تھے۔ میں اب بھی یقین نہیں کر پا رہا کہ جس شخص سے صرف دو گھنٹے پہلے ملا اور ہاتھ ملایا، وہ اب ہمارے درمیان نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہم سب اللہ کی مرضی کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ مشتاق بھائی ہمارے لیے ہمیشہ ایک محبوب شخصیت اور اداکار رہیں گے۔ میں بھاری دل کے ساتھ انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔‘‘

فلمساز انیس بزمی نے بھی مشتاق خان کی موت پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔ انیس بزمی نے اداکار کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’مشتاق بھائی کے انتقال سے صدمے میں ہوں اور میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ وہ ایک غیر معمولی فنکار اور خوبصورت دل رکھنے والے انسان تھے۔ اللہ ان کی روح کو سکون دے اور ان کے اہلخانہ اور عزیزوں کو ہمت عطا کرے۔‘‘
اداکار سنجے مشرا نے بھی اپنے ساتھی اداکار کو یاد کیا۔ دونوں نے فلم ’ویلکم‘ میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔ سنجے مشرا نے بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے معلوم تھا کہ ان کی طبیعت خراب تھی، لیکن میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس طرح چلے جائیں گے۔ یہ واقعی بہت افسوسناک خبر ہے۔‘‘
سنجے مشرا نے مشتاق خان کے ساتھ اپنے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کے ایک مرحلے میں مشتاق خان نے ان کے لیے سرپرست کا کردار ادا کیا تھا۔ ان کے بقول، ’’جب بھی مجھے رہنمائی کی ضرورت ہوتی تھی، میں ان سے مشورہ لیتا تھا۔ یہ بہت افسوسناک خبر ہے۔ وہ واقعی ایک بہترین فنکار تھے، لیکن انہیں وہ مقام اور کریڈٹ نہیں ملا جس کے وہ مستحق تھے۔‘‘
کامیڈین سنیل پال نے بھی سوشل میڈیا پر مشتاق خان کو یاد کیا اور ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔

مشتاق خان مدھیہ پردیش کے ضلع بالاغاٹ کے شہر بہار میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے تقریباً 30 سالہ فلمی سفر کے دوران زیادہ تر معاون کردار ادا کیے اور اپنی مخصوص اداکاری کے باعث ہندی فلموں میں ایک مانوس چہرہ بن گئے۔
مشتاق خان نومبر 2024 میں اس وقت بھی خبروں میں آئے تھے جب انہیں ایک تقریب میں شرکت کے بہانے اتر پردیش بلایا گیا اور مبینہ طور پر اغوا کرکے تاوان کے لیے قید کیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق انہیں 20 نومبر کو دہلی سے بجنور لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر تاوان کی رقم ادا کرنے پر مجبور کیا گیا۔ بعد میں وہ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
مشتاق خان کی آخری رسومات آج ادا کی جائیں گی۔ ان کے انتقال پر فلمی دنیا سے وابستہ افراد نے انہیں ایک باصلاحیت اداکار، اچھا انسان اور اپنے ساتھیوں کے لیے رہنمائی کرنے والی شخصیت کے طور پر یاد کیا ہے۔
























